ملتان (سٹاف رپورٹر) وفاقی بجٹ میں سرائیکی وسیب کو مکمل طورپر نظر انداز کر دیا گیا، اسے مسترد کرتے ہیں، تعلیم ، صحت اور روزگار اور ترقیاتی منصوبہ نہیں دیا گیا، مہنگائی میں اضافہ 70فیصد اور تنخواہوں میں اضافہ 7فیصد شرمناک ہے‘ یہ بجٹ لفظوں کا گورکھ دھندہ ہے‘ وسیب سے ہونیوالی نا انصافی کیخلاف بھر پور احتجاج کرینگے ۔ ان خیالات کا اظہار سرائیکستان وطن پارٹی کے چیئرمین ظہور دھریجہ نے بجٹ کے اعداد و شمار پر گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر سینئر سیاستدان ملک ارشد اقبال بھٹہ، سرائیکی رہنماڈاکٹر مقبول حسن گیلانی ، ملک جاوید چنڑ ایڈووکیٹ، ہاشم رسول پوری و دیگر بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کیسا بجٹ ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کوئی وزارت داخلہ اور دفاع کے علاوہ کوئی نیا ترقیاتی منصوبہ شروع نہیں کیا جائے گا، زراعت سیکٹر کو تباہ کرنے کے بعد ذرہ برابر ریلیف نہیں دیا گیا، وسیب کے لوگوں کو اپنے حقوق کے لیے سڑکوں پر آنا ہوگا، سیاسی عمل کا حصہ بننا ہوگا۔ ظہور دھریجہ نے کہا کہ قومی اقصادی سروے میں وزیر خزانہ نے گزشتہ روز خود تسلیم کیا کہ معاشی اہداف حاصل نہیں ہو سکے سرائیکی وسیب کو آبپاشی کا کوئی منصوبہ نہیں ملا۔