• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایران امریکا معاہدہ ہوگیا، جمعہ کو سوئٹزر لینڈ میں دستخط، شہباز شریف، لبنان سمیت تمام محاذوں پر رات گئے جنگ بند ہونے کا اعلان

تہران /واشنگٹن (اے ایف پی /نیوزڈیسک )وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان معاہدہ اب طے پا چکا ہے اور ثالث کار اس ہفتے ملاقاتوں کے ایک سلسلے کی سہولت کاری کریں گے۔دونوں فریقین نے لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کے فوری اور مستقل خاتمے کا اعلان کیا ہے۔باضابطہ دستخطوں کی تقریب جمعہ 19 جون کو سوئٹزرلینڈ میں ہوگی۔ شہبازشریف نے اس عزم پر امریکا اورایران کا شکریہ ادا کیا اور ساتھ ہی اس معاہدے تک پہنچنے میں تعاون کرنے پر قطر‘سعودی عرب اورترکیہ سے اظہار تشکرکیا۔ادھرامریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق امریکا نے ایران کے ساتھ معاہدے پر اتفاق کر لیا‘صدر ٹرمپ جلد باضابطہ بیان جاری کریں گے‘ اخبار کے مطابق امریکی صدر نے کہا یا تو وہ خود یا نائب صدر جے ڈی وینس الیکٹرانک دستخط کریں گے‘ امریکی اخبار کے مطابق ٹرمپ نےکہا ایٹمی مواد نکالنے کی کوئی جلدی نہیں‘یہ بعد میں کیا جا سکتا ہے‘امریکی صدر کے مطابق ایران کو نقد رقم نہیں دی جائے گی تاہم ایران پر پابندیاں ممکنہ طور پر نرم کی جا سکتی ہیں۔ معاہدے کے تحت ایران جوہری ہتھیاربنانے سے دستبردار اورآبنائے ہرمزکو فوری طورپر کھول دیگا‘ ایرانیوں کی سخت نگرانی کی جائے گی تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ معائنے کس طرح کام کریں گے۔بعدازاں سوشل میڈیا پر جاری بیان میں ٹرمپ کاکہناتھاکہ انہوں نے امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنے کی منظوری دے دی ہے‘ٹرمپ نے تصدیق کی کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی کا معاہدہ اب مکمل ہو چکا ہے۔ "سب کو مبارک ہو!"۔ٹرمپ نے کہا کہ وہ اب آبنائے ہرمز کو بغیر کسی ٹول ٹیکس کے کھولنے کی مکمل منظوری دیتے ہیں۔دوسری جانب تہران نے بھی واشنگٹن کے ساتھ معاہدے کی تصدیق کردی ہےتاہم یہ بھی کہا ہے کہ اثاثوں کی بحالی ‘ناکہ بندی کے خاتمے اور جنگ کی بندش کے بعد ہی وہ مذاکرات میں شامل ہوگا ۔ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی کے مطابق لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ اور فوجی کارروائیوں کا فوری اور مستقل خاتمہ اتوار اور پیرکی درمیانی شب سے نافذ العمل ہونے کا اعلان کیا جائے گا‘ایران کے خلاف امریکی بحری ناکہ بندی کا خاتمہ شروع ہو جائے گا۔ایران کی فوجی طاقت اور دھمکیوں نےمعاہدے کے متن کو حتمی شکل دینے میں مدد کی۔ہم نے امریکا کو امن معاہدہ ماننے پر مجبورکیا۔آنے والے مذاکرات میں ثالث کاربھی موجود رہیں گے۔ہم نے مفاہمت کی یادداشت پر اس وقت تک اتفاق نہیں کیا جب تک کہ ہم نے اپنے حتمی مطالبات کو متن میں شامل نہیں کروا لیا۔ ایران کے وعدےجمعہ سے نافذ العمل ہوں گے۔ 60 روزہ مذاکراتی دور کا بنیادی محور پابندیوں کا خاتمہ ہوگا۔خلیج کے راستے سمندری ٹریفک کو ایران، عمان کے ساتھ مل کر منظم کرے گا۔مفاہمت کی یادداشت کا مطلب دشمن پر بھروسہ کرنا نہیں ہے۔ حتمی معاہدے کے لیے مذاکرات 60 دنوں کی مدت کے اندر ہوں گے۔اگر ہم نے دوسری طرف سے معاہدے کی خلاف ورزیاں دیکھیں تو ہم اپنے اقدامات خود کریں گے۔تفصیلات کے مطابق شہباز شریف کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان معاہدہ اب طے پا چکا ہے اور ثالث کار اس ہفتے ملاقاتوں کے ایک سلسلے کی سہولت کاری کریں گے‘اتوارکو رات گئے اپنے سوشل میڈیا بیان میں شہباز شریف کاکہنا تھا کہ دونوں فریقین نے لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کے فوری اور مستقل خاتمے کا اعلان کیا ہے۔باضابطہ دستخطوں کی تقریب جمعہ 19 جون کو سوئٹزرلینڈ میں ہوگی۔وزیراعظم نے اس عزم پر امریکا اورایران کا شکریہ ادا کیا اور ساتھ ہی اس معاہدے تک پہنچنے میں تعاون کرنے پر قطر کا بھی شکریہ ادا کیا۔انہوں نے مزیدکہاکہ میں گراں قدر خدمات انجام دینے پرسعودی عرب اورترکیہ کی قیادت کا بھی خصوصی طور پر شکریہ ادا کرنا چاہوں گا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ تکنیکی مذاکرات اور باضابطہ دستخطوں کی تقریب کی بنیاد رکھنے کے لیے اس ہفتے ملاقاتوں کا ایک سلسلہ شروع ہوگا۔ایران کے صدرمسعود پزشکیان کاکہنا ہے کہ تہران کسی بھی طاقت کے سامنے نہیں جھکے گا‘ حکومت بیرونی دباؤ کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کرے گی لیکن اپنے شہریوں کے سامنے جوابدہ رہے گی ۔ پیزشکیان نے ریاستی مشن انجام دینے والے حکام پر ہونے والے حملوں پر بھی تنقید کی اور کہا کہ یہ "افسوسناک" ہے کہ جو لوگ "ملک کے قومی مفادات اور وقار کے تحفظ کے مقصد سے" کام کر رہے ہیں، انہیں "غداری یا وطن سے بے وفائی" جیسے الزامات کا سامنا ہے۔

اہم خبریں سے مزید