کراچی (ٹی وی رپورٹ) چیئرمین ایف بی آر، راشد محمود لنگڑیال نے کہا ہے کہ کسی تاجرکا طرزِ زندگی ظاہر کردہ آمدنی کے برعکس شاہانہ ہو تو اس کا آڈٹ گا ،انہوں نے وضاحت کی کہ یہ تصور درست نہیں کہ کوئی تاجر محض 25ہزار روپے ادا کرکے مکمل طور پر ٹیکس ذمہ داری سے آزاد ہو جائے گا۔ اگر کسی تاجر کی فروخت زیادہ ہے تو اسے مقررہ شرح کے مطابق ٹیکس ادا کرنا ہوگا70لاکھ افراد درست مقدار میں ٹیکس ادا نہیں کر رہے۔ کارپوریٹ سیکٹر پر سپر ٹیکس کا نفاذ اصولی طور پر درست اقدام نہیں تھا،یہ مخصوص معاشی اور مالی مجبوریوں کے تحت عائد کیا گیا تھا۔ سینئر صحافی و تجزیہ کاراسامہ بن جاوید نےکہا کہ اسرائیل نے ماضی میں بھی ایسے معاہدوں کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی ہے۔ وہ جیو نیوز کے پروگرام ”نیا پاکستان “میں شہزاد اقبال سے گفتگو کررہے تھے۔ تفصیلات کے مطابق پروگرام کے آغاز میں میزبان شہزاد اقبال نے کہا کہ بجٹ میں ایف بی آر کا15 ہزار264 ارب کا ہدف۔تنخوار دار طبقے، فارمل بزنس سیکٹر کا ٹیکس بوجھ مزید کم ہوگا؟چھوٹے تاجروں کیلئے ٹیکس اسکیم یا ایمنسٹی اسکیم؟ایف بی آر کے مطابق ٹیکس گیپ5500 ارب روپے ہے۔