کراچی (بابر علی اعوان) جناح اسپتال کراچی میں بے ہوشی کی ڈاکٹر کی مبینہ غفلت کے باعث ٹانسلز کے معمول کے آپریشن کے لیے آنے والا 10 سالہ بچہ اینستھیزیا دیے جانے کے فوراً بعد جاں بحق ہوگیا، تاہم واقعے کے چھ ماہ گزرنے کے باوجود نہ ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکا اور نہ ہی متاثرہ خاندان کو انصاف مل سکا۔بے ہوشی کی ڈاکٹر پر سنگین غفلت کے الزامات، اینستھیزیا دینے کے فوراً بعد بچے کے ہونٹ اور ہاتھ نیلے پڑ گئے، 6 ماہ بعد تحقیقاتی کمیٹی تشکیل، اس سلسلے میں رابطہ کرنے پر جناح اسپتال کراچی کے ترجمان ڈاکٹر وقاص خان کا کہنا تھا کہ اسپتال انتظامیہ کو ای این ٹی ڈیپارٹمنٹ کی شکایت تاخیر سے موصول ہوئی، جس کے بعد تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی گئی۔ تاہم جنگ کو دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق انسیڈنٹ رپورٹ 26 دسمبر 2025 کو ایگزیکٹو ڈائریکٹر آفس میں وصول کی گئی تھی، جس پر ایگزیکٹو ڈائریکٹر آفس کی وصولی کی مہر بھی ثبت ہے، جس سے ترجمان کے بیان اور سرکاری ریکارڈ میں واضح تضاد سامنے آتا ہے۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق 13 دسمبر 2025 کو ولید ولد شاہد کو ٹانسلز کے آپریشن کے لیے ای این ٹی آپریشن تھیٹر منتقل کیا گیا، جہاں دوپہر تقریباً ڈیڑھ بجے ڈیوٹی پر موجود اینستھیٹسٹ نے بچے کو جنرلاینستھیزیا دے کر انٹیوبیشن کی۔ دستاویزات کے مطابق اس وقت آپریشن تھیٹر میں کوئی سینئر اینستھیٹسٹ موجود نہیں تھا۔