اسلام آباد(کامرس رپورٹر) وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہاہے کہ گزشتہ دو برسوں میں ایف بی آر نے 14ارب ڈالر کا اضافی ٹیکس ریونیو جمع کیا جو 1988 سے 2011 تک، یعنی 23 برس کے عرصے میں اور پھر 2011 سے 2024 تک کے برسوں میں بھی جمع ہو ا تھا ،حکومت ایک نیا ٹیکس آپریٹنگ ماڈل متعارف کرا رہی ہے، جسکے تحت ٹیکس گزار اور ٹیکس افسران کے درمیان براہِ راست ختم ہوگا، وزیراعظم نے گزشتہ بجٹ میں ہی سمت واضح کردی جسکے باعث معاشی استحکام آیا، ہماری صنعتیں رواں دواں ہیں اور کرنٹ اکائونٹ خسارہ سرپلس ہے، ہمارا برآمدی شعبہ بہتری دکھا رہا ہے، آئی ٹی ایکسپورٹ میں 20 فیصد اضافہ ہوا ہے،معاشی شرح نمو بڑھانے والا بجٹ ہے، ترقی ہوگی، ریلیف ملے گا، اصلاحات سے معاشی استحکام آیا ہے،معیشت کا حجم 452ارب ڈالر رہنے کا تخمینہ ہے،اس سال ریکارڈ 41 ارب ڈالر کے ترسیلات زر کا ہدف حاصل کرینگے،زرعی پیداوار میں اضافہ اور چھوٹے کاشتکاروں کو سہولت دینے کیلئے ایک مربوط زرعی اسکیم شروع کی گئی ہے جسکے تحت 300 ارب روپے کے بلاسود اور آسان شرائط پر قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں، اس سکیم سے تقریباً ساڑھے 7لاکھ چھوٹے کسان مستفید ہونگے،اسی طرح زرعی شعبے میں مالی معاونت کیلئے 109 ارب روپے سے زائد کے قرضوں کی فراہمی کا منصوبہ ہے، جبکہ سبسڈی کی مد میں اس بجٹ میں بھی خاطر خواہ رقم مختص کی گئی ہے۔ کھاد خصوصا یوریا پر تقریبا 10 ارب روپے کی سبسڈی دی جا رہی ہے،وفاقی ترقیاتی پروگرام کے تحت زراعت اور لائیوسٹاک کے منصوبوں کیلئے 4.2 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں،قائمہ کمیٹیوں کی سفارشات بجٹ کا حصہ بنیں گی، پاکستان نے جنگ رکوا کر بڑا کارنامہ سرانجام دیا،ہماری کوششیں رنگ لائیں اور خطے میں جنگ کے بادل چھٹ گئے جس کیلئے فیلڈ مارشل عاصم منیر، وزیراعظم شہبازشریف اور عوام کو مبارکباد دیتا ہوں۔