اسلام آباد (رپورٹ حنیف خالد) فنانس بل 2026-27میں فیس لیس ٹیکس نظام کو مزید وسعت دیتے ہوئے *نیشنل فیس لیس سینٹر* کےقیام کی تجویز پیش کی گئی ہے، جس کے تحت انکم ٹیکس آرڈیننس کے مختلف معاملات میں ٹیکس دہندگان اور ٹیکس حکام کے درمیان تمام رابطے الیکٹرانک ذرائع سے انجام دیے جائیں گے اور آڈٹ، اسیسمنٹ اور کوالٹی کنٹرول کے عمل کو الگ الگ افسران کے ذریعے سرانجام دیا جائے گا،فنانس بل، نیشنل فیس لیس سینٹر کے قیام کی تجویز، تمام ٹیکس کارروائیاں ڈیجیٹل ہوں گی،۔آڈٹ، اسیسمنٹ اور کوالٹی کنٹرول الگ افسران انجام دیں گے، ایف بی آر کو الگورتھم کے ذریعے اختیارات تفویض کرنے کا اختیار مل جائے گا،فنانس بل 2026-27 کے مطابق انکم ٹیکس آرڈیننس کی دفعہ 227D کو تبدیل کرتے ہوئے نئی دفعہ *“نیشنل فیس لیس سینٹر”* متعارف کرانے کی تجویز دی گئی ہے۔ مجوزہ قانون کے تحت بورڈ (فیڈرل بورڈ آف ریونیو) کو اختیار حاصل ہوگا کہ وہ آرڈیننس کے تحت کارروائیوں کو فیس لیس انداز میں انجام دینے کے لیے نیشنل فیس لیس سینٹر قائم کرے اور اس کے دائرہ اختیار، اختیارات اور فرائض کا تعین کرے۔ مجوزہ دفعہ کے مطابق سینٹر میں ایک ڈائریکٹر جنرل کے علاوہ چیف کمشنرز، کمشنرز، ایڈیشنل کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز، اسسٹنٹ کمشنرز اور دفعہ 207 میں مذکور دیگر انکم ٹیکس حکام سمیت ضروری معاون عملہ شامل ہوگا، جس کی تعداد کا تعین ایف بی آر کرے گا۔ بل کے مطابق بورڈ کو یہ اختیار بھی حاصل ہوگا کہ وہ ایسے الگورتھمز تشکیل دے جن کے ذریعے اس دفعہ کے تحت مختلف اختیارات اور فرائض متعلقہ ٹیکس حکام کو تفویض کیے جا سکیں۔