• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ٹیکس اقدامات، خزانے میں مزید 1020 ارب روپے جمع ہونگے، حکومت نے آئی ایم ایف کو آگاہ کردیا

اسلام آباد (مہتاب حیدر) حکومت نے بجٹ 27-2026 کے لیے ٹیکس اقدامات کے درست مالیاتی اثرات کی تفصیلات بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ شیئر کر دی ہیں، اور یہ توقع ظاہر کی ہے کہ دو درجن سے زائد ٹیکس اقدامات کے ذریعے ایف بی آر کے خزانے میں مزید 1020 ارب روپے حاصل ہوں گے۔ مالیاتی سال 27-2026 کے لیے ایف بی آر کا متوقع ہدف 15264 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے، جبکہ 30 جون 2026 کو ختم ہونے والے رواں مالیاتی سال 26-2025 کے لیے یہ ترمیمی ہدف 12983 ارب روپے تھا۔ 12.2 فیصد کی برائے نام نمو کے ساتھ (جس میں حقیقی جی ڈی پی کی شرح نمو 4 فیصد اور سی پی آئی پر مبنی افراطِ زر 8.2 فیصد شامل ہے) کل ٹیکس ریونیو 14567 ارب روپے تک پہنچ جائے گا۔ 15264 ارب روپے کے ہدف کو عملی جامہ پہنانے کے لیے، ایف بی آر کو مالیاتی سال 27-2026 میں ٹیکس وصولی کے مطلوبہ ہدف تک پہنچنے کے لیے مزید تقریباً 700 ارب روپے درکار ہوں گے۔ حکومت کی جانب سے آئی ایم ایف اور اراکینِ پارلیمنٹ کے ساتھ شیئر کیے گئے ایک تفصیلی چارٹ کے مطابق، یہ بات سامنے آئی ہے کہ ٹیکسوں کے نفاذ، انتظامی امور اور ٹیکس کی شرحوں میں اضافے سمیت کل 26 ٹیکس اقدامات کیے گئے ہیں، جن کا مجموعی مالیاتی اثر مالیاتی سال 27-2026 میں 1020 ارب روپے ہوگا۔ اس میں ’’ٹیکس دہندگان کی خدمات اور سہولیات کی بہتری کا پروگرام‘‘ بھی شامل ہے، جس کے ذریعے 1 جولائی 2026 سے شروع ہونے والے اگلے مالیاتی سال میں مزید 144 ارب روپے حاصل ہوں گے۔ سیلز ٹیکس ایکٹ کے ’’تھرڈ شیڈول‘‘ (تیسرے شیڈول) میں توسیع، جس کے تحت بعض اشیاء پر خوردہ قیمت درج کی جائے گی اور مینوفیکچرر (کارخانہ دار) کی سطح پر ٹیکس وصول کیا جائے گا، سے اگلے مالیاتی سال میں 91 ارب روپے کا اضافی ریونیو حاصل ہوگا۔ ’’فیس لیس آٹو ٹیکس آفس: الگورتھمک سیٹلمنٹ ریم آفس‘‘ کے ذریعے اگلے مالیاتی سال میں 85 ارب روپے کا اضافی ریونیو حاصل ہوگا۔

اہم خبریں سے مزید