• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

قومی اسمبلی 31 وزارتوں اور ڈویژنوں کے 91 کھرب سے زائد 125 مطالبات منظور، اپوزیشن کی 307 کٹوتی کی تحاریک مسترد

اسلام آباد(ایوب ناصر/عاصم جاوید/راحت منیر)قومی اسمبلی نے 31وزارتوں اور ڈویژنوں کے 91کھرب 71ارب سے زائد 125 مطالبات زر کی کثرت رائے سے منظوری دیدی، وزارتوں اور ڈویژنوں کے بجٹ پر اپوزیشن کی 307کٹوتی کی تحاریک کثرت رائے سے مسترد کر دی گئیں۔ خزانہ ڈویژن کیلئے42کھرب 62 ارب، دفاع اور دفاعی ڈویژن کیلئے 30کھرب 67ارب، توانائی ڈویژن کیلئے 6کھرب 61 ارب، مواصلات کیلئے سوا کھرب، تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کے 1کھرب21ارب 26کروڑ ، ریلوے کیلئے ایک کھرب 11ارب 13کروڑ روپے، داخلہ ڈویژن اور ذیلی اداروں کے 45 ارب 4کروڑ روپے، داخلہ کیلئے 45ارب روپے، وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے 42ارب 7کروڑ روپے، اطلاعات ونشریات ڈویژن کیلئے ساڑھے 27 ارب روپےکے 3 مطالبات زر کی منظوری دیدی، دفاعی بجٹ کیخلاف اپوزیشن نے کٹوتی کی کوئی تحریک پیش نہیں کی۔اتوار کوقومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر سردار ایاز صادق کی زیر صدارت شروع ہوا۔جس میں وزیر خزانہ اورنگزیب نے 31 وزارتوں اور ڈویژنوں کے91کھرب 71ارب 78 کروڑ سے زائد کے125مطالبات زر پیش کئے۔اپوزیشن کی جانب سے کابینہ ڈویژن کے 18مطالبات زر پر 90،توانائی ڈویژن کے 6 مطالبات زر پر 116،خزانہ ڈویژن کے12 مطالبات زر پر100کٹوتی کی تحاریک پیش کی گئیں۔ قومی اسمبلی نے کابینہ ڈویژن کے 1کھرب 53ارب سے زائد کے 29مطالبات زر منظوری کرتے ہوئے اپوزیشن کی جانب سے کابینہ ڈویژن اور ذیلی اداروں کے بجٹ میں کٹوتی سے متعلق 90کٹوتی کی تحاریک مسترد کر دیں۔ جبکہ خزانہ ڈویژن کے42کھرب 62ارب سے زائد کے 14 مطالبات زر منظور کرتے ہوئے اپوزیشن کی 100کٹوتی کی تحاریک مسترد کردیں۔ توانائی ڈویژن کے6کھرب61ارب سے زائد کے6 مطالبات زر منظور کرتے ہوئے اپوزیشن کی 116کٹوتی کی تحاریک مسترد کی گئیں،ایوان نےماحولیاتی تبدیلی ڈویژن کے تین ارب 89 کروڑ سے زائد کے 2، کامرس ڈویژن کے 27 ارب 99کروڑ سے زائد کے 2 ،مواصلات ڈویژن کے 1 کھرب 25 ارب سے زائد کے پانچ مطالبات زر منظور کے لیے۔ قومی اسمبلی نے دفاع اور دفاع ڈویژن کے 30 کھرب 67 ارب 23 کروڑ سے زائد کے 5 مطالبات زر منظوری دی جبکہ دفاعی پیداوار ڈویژن کے 2 ارب 11 کروڑ سے زائد کے دو مطالبات زر منظور کو بھی منظور کر لیاگیا۔

اہم خبریں سے مزید