انصار عباسی
اسلام آباد :…جہاں پی ٹی آئی اور اس کے حامی گزشتہ کئی ماہ کے دوران مختلف ممالک، خصوصاً امریکا میں، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر پر تنقید کیلئے مہمات چلا چکے ہیں، وہیں پاک فوج کے سربراہ نے بین الاقوامی سطح پر غیر معمولی مقام حاصل کیا ہے، اور انہیں امریکی انتظامیہ کی دو بااثر ترین شخصیات، صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وانس کی جانب سے بارہا کھل کر سراہا گیا ہے۔ حالیہ عرصہ کے دوران کسی بھی فوجی کمانڈر کو کسی امریکی صدر اور نائب صدر کی جانب سے اس نوعیت کی بار بار، براہِ راست اور ذاتی سطح پر تعریف حاصل نہیں ہوئی۔ مزید اہم بات یہ کہ یہ تعریف صرف عسکری امور تک محدود نہیں رہی، بلکہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو سفارت کاری، کشیدگی میں کمی اور عالمی امن کی کوششوں میں کردار کے حوالے سے بھی وسیع پیمانے پر سراہا جا رہا ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے سب سے نمایاں مداح کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ 2025ء کے وسط سے اب تک وہ متعدد مواقع پر اُن کی تعریف کر چکے ہیں، اُنہیں ’’عظیم جرنیل‘‘، ’’غیر معمولی انسان‘‘، ’’زبردست فائٹر‘‘ اور ’’انتہائی اہم شخصیت‘‘ قرار دے چکے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے علاقائی استحکام اور سفارتی اقدامات میں فیلڈ مارشل کے کردار کو بھی بارہا اجاگر کیا ہے۔ ٹرمپ نے رواں سال کے اوائل میں علاقائی امن کی کوششوں سے متعلق گفتگو کے دوران کہا کہ ’’میرے خیال میں پاکستان شاندار ہے اور فیلڈ مارشل لاجواب ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کے وزیرِ اعظم بھی بہترین ہیں۔‘‘ ایک اور موقع پر ٹرمپ نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو ’’عظیم جرنیل‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ فیلڈ مارشل کا عہدہ انہیں ’’ایک درجہ اوپر‘‘ لے جاتا ہے۔ ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں انہوں نے وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل منیر کو ’’دو شاندار شخصیات‘‘ قرار دیا۔ اطلاعات کے مطابق امریکی صدر نے متعدد مواقع پر فیلڈ مارشل کو ’’میرا پسندیدہ فیلڈ مارشل‘‘ بھی کہا، جو اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ واشنگٹن علاقائی سلامتی اور سفارتی امور میں اسلام آباد کے ساتھ روابط کو کس قدر اہمیت دے رہا ہے۔ نائب صدر جے ڈی وانس نے بھی اہم سفارتی پیش رفت میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے کردار کو کھل کر سراہا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان امن اقدامات سے متعلق حالیہ گفتگو کے دوران وانس کا کہنا تھا کہ ’’ہم یہاں ان کی مدبرانہ قیادت کے بغیر نہیں پہنچ سکتے تھے۔ وہ ایک فوجی رہنما ہیں، لیکن میرا خیال ہے کہ انہوں نے خود کو ایک بہترین سفارت کار بھی ثابت کیا ہے۔‘‘ ایک غیر معمولی اعتراف کے طور پر وانس نے انکشاف کیا کہ ’’گزشتہ تین ماہ کے دوران میں نے شاید فیلڈ مارشل منیر سے کسی اور شخص کے مقابلے میں زیادہ بات کی ہے۔‘‘ نائب صدر نے پاک فوج کے سربراہ کو ’’امریکا کے ایک شاندار دوست‘‘ اور ’’ہمیں اس مقام تک پہنچانے والا ایک اہم کردار‘‘ بھی قرار دیا۔ ایک ذاتی انداز اپناتے ہوئے نائب صدر جے ڈی وانس کا کہنا تھا کہ ’’میری زندگی میں شخصیات بیحد اہم ہیں: ایک بھارتی اور ایک پاکستانی۔ بھارتی میری اہلیہ ہیں اور پاکستانی فیلڈ مارشل منیر ہیں۔‘‘ یہ مسلسل تعریفیں اس بات کی عکاس ہیں کہ واشنگٹن پاکستان کے اس کردار کو سراہتا ہے جو اس نے مذاکرات کے فروغ، خطے کے بحرانوں کے دوران کشیدگی کم کرنے اور حریف ریاستوں کے درمیان رابطوں کو برقرار رکھنے میں ادا کیا۔ امریکی قیادت کی جانب سے یہ تعریف اُس وقت میں سامنے آئی ہے جب بیرونِ ملک پی ٹی آئی کارکنان پاکستان کی فوجی قیادت کیخلاف بین الاقوامی دباؤ بڑھانے کی کوششوں میں مصروف رہے۔ مختلف مغربی ممالک، خصوصاً امریکا میں، فیلڈ مارشل عاصم منیر کیخلاف مظاہرے، لابنگ مہمات اور سوشل میڈیا سرگرمیاں دیکھنے میں آئیں۔ لیکن پی ٹی آئی کی خواہش کے برعکس فیلڈ مارشل عاصم منیر ایک عالمی سطح پر عالمی امن کیلئے کوشاں ایک باوقار شخصیت کے طور پر ابھرے۔ پاکستان کی اعلیٰ فوجی قیادت ایران اور عرب دنیا میں بھی یکساں مقبول ہے۔ اگرچہ عالمی رہنماؤں کی جانب سے اس نوعیت کی عوامی تعریف عموماً محدود اور کبھی کبھار ہی سامنے آتی ہے، تاہم صدر ٹرمپ اور نائب صدر وانس کی جانب سے مسلسل اور گرمجوشی پر مبنی بیانات نے فیلڈ مارشل کو دنیا بھر میں انٹرنیٹ پر سب سے زیادہ تلاش کی جانے والی شخصیات میں شامل کر دیا ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر حالیہ دہائیوں میں عالمی سطح پر سب سے زیادہ زیرِ بحث اور نمایاں پاکستانی فوجی رہنماؤں میں سے ایک بن چکے ہیں۔