بھارتی ریاست مہاراشٹر میں اپنے منگیتر کے قتل کے مقدمے میں گرفتار ملزمہ سیا گوئل کی والدہ نے کہا ہے کہ اگر میری بیٹی عدالت میں قصوروار ثابت ہو جائے تو اسے بھی اسی مقام سے نیچے دھکا دیا جائے جہاں سے ان کی بیٹی نے اپنے منگیتر کو کھائی میں دھکیلا تھا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق 26 سالہ کیتن اگروال کو اس کی منگیتر سیا گوئل اور مبینہ ساتھی چیتن بابولال چوہدری نے قلعے سے دھکا دے کر قتل کیا تھا جبکہ ابتدائی طور پر واقعے کو حادثہ قرار دیا گیا تھا۔
سیا کی والدہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ میری بیٹی نے کبھی شادی پر اعتراض نہیں کیا تھا جبکہ دونوں خاندان نومبر میں طے شدہ شادی کی تیاریوں میں مصروف تھے۔
ملزمہ کے والدین کا کہنا ہے کہ اگر سیا قصوروار ثابت ہوتی ہے تو اسے سخت ترین سزا دی جائے۔
پولیس کے مطابق تفتیش میں سیا گوئل نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ شادی نہیں کرنا چاہتی تھی تاہم مقتول شادی منسوخ کرنے پر آمادہ نہیں تھا۔
تحقیقات کے مطابق سیا اس سے قبل بھی مقتول کو قلعے پر لے جا کر نقصان پہنچانے کی کوشش کر چکی تھی، کیس کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔