اقوامِ متحدہ کے جوہری نگران ادارے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے سربراہ رافیل گروسی نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے عبوری امن معاہدے کے تحت آئی اے ای اے کے معائنہ کاروں کو ایران کی جوہری تنصیبات تک رسائی حاصل ہوگی۔
رافیل گروسی نے جمعے کو جاپان میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایک معاہدہ موجود ہے اور اس پر عمل درآمد کے لیے ضروری ہے کہ آئی اے ای اے کو رسائی دی جائے تاکہ وہ معائنہ کر سکے۔
آئی اے ای اے کے سربراہ نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ ہم بہت جلد وہاں موجود ہوں گے اور اپنی ذمہ داریاں انجام دے سکیں گے۔
انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ تنازع کے بعد ایران میں ایک انتہائی مضبوط تصدیقی نظام قائم کیا جانا ضروری ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ ملک جوہری ہتھیار تیار نہ کرے۔ میرا خیال ہے کہ اس (حالیہ امریکا-ایران) معاہدے کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ایران میں جوہری ہتھیاروں کی تیاری نہ ہو۔ ایران کی حکومت نے واضح طور پر اعلان کیا ہے کہ یہ ان کا ارادہ نہیں ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ لیکن یقیناً صرف ارادے کافی نہیں ہوتے۔ ہمیں ایک انتہائی مضبوط تصدیقی نظام قائم کرنا ہوگا، جتنا جلد ممکن ہو سکے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل تہران نے عندیہ دیا تھا کہ واشنگٹن کے ساتھ حتمی معاہدہ طے پانے اور پابندیوں کے خاتمے تک بعض اہم جوہری تنصیبات غیر ملکی معائنہ کاروں کے لیے بند رہیں گی۔