سائنسدانوں نے رواں سال یورپ میں پڑنے والی ریکارڈ توڑ گرمی کی وجہ بتا دی۔
سائنسدانوں کے مطابق مغربی اور وسطی یورپ میں حالیہ ہیٹ ویو کا انسانی سرگرمیوں کے باعث پیدا ہونے والی موسمیاتی تبدیلی کے بغیر رونما ہونا تقریباً ناممکن تھا۔
یورپ، امریکا اور برطانیہ کے سائنسدانوں کی جانب سے حال ہی میں کی گئی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی۔
اس تحقیق کے سربراہ تھیوڈور کیپنگ کا کہنا ہے کہ اب زمین پہلے سے زیادہ گرم ہے، کوئلہ، تیل اور گیس کے جلنے سے زمین کے درجہ حرارت میں تقریباً 1.4 ڈگری سینٹی گریڈ کا اضافہ ہو گیا ہے۔ اس طرح کی ہیٹ ویو انسانی سرگرمیوں کے باعث پیدا ہونے والی موسمیاتی تبدیلی کے بغیر ممکن نہیں تھی۔
سائنسدان اس بات پر متفق ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی ہیٹ ویو کی شدت میں اضافہ کر رہی ہے، موسمیاتی تبدیلی کے بدترین اثرات سے بچنے کے لیے اہم اقدامات کرنے کی بہت ضرورت ہے۔
یورپ دنیا کا سب سے تیزی سے گرم ہونے والا براعظم ہے اور اس ہفتے یورپ کے کئی ممالک میں ریکارڈ توڑ گرمی پڑی جس کی وجہ سے سیکڑوں لوگ ہلاک بھی ہوئے۔