انصار عباسی
اسلام آباد :…شہباز شریف حکومت ایک بار پھر وہ کام کرنے کی کوشش کر رہی ہے جس کا وعدہ گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران آنے والی متعدد حکومتیں کرتی رہیں، لیکن اسے عملی جامہ نہ پہنا سکیں، یعنی ملک کی بیوروکریسی کی بنیادی سطح پر ازسرِنو تشکیل۔ شہباز شریف حکومت نے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کی سربراہی میں قائم اعلیٰ اختیاراتی سول سروس ریفارمز کمیٹی کے ذریعے ایک ایسا جامع اصلاحاتی خاکہ (بلیو پرنٹ) تیار کیا ہے جسے حکام، پاکستان تحریکِ انصاف کے دورِ حکومت میں ماہرِ معاشیات ڈاکٹر عشرت حسین کی سفارشات کے بعد سول سروس کی تشکیلِ نو کیلئے سب سے جامع منصوبہ قرار دیتے ہیں۔ تاہم، ان میں سے بیشتر مجوزہ اصلاحات، جو حتمی شکل اختیار کر چکی ہیں اور اصولی طور پر کابینہ سے منظوری بھی حاصل کر چکی ہیں، اب بھی عملی نفاذ سے کوسوں دور ہیں۔ سرکاری ذرائع کے مطابق، پاکستان میں اب تک سول سروس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے 30؍ سے 38؍ کمیشن اور کمیٹیاں قائم کی جا چکی ہیں۔ تقریباً ہر حکومت نے بیوروکریسی کی ساختی کمزوریوں کی نشاندہی کی اور ان کے تدارک کیلئے تجاویز پیش کیں، لیکن ان میں سے بیشتر رپورٹس یا تو سرد خانے کی نذر ہو گئیں، یا ان میں ترمیم کر دی گئی، یا پھر ان پر جزوی طور پر ہی عمل درآمد ہو سکا، جس کے نتیجے میں وہ نظام جوں کا توں برقرار رہا جسے ناقدین آج بھی نوآبادیاتی دور کی میراث قرار دیتے ہیں، نہ کہ ایک جدید جمہوری ریاست کی ضروریات کے مطابق ڈھلا ہوا نظام۔ ایک ذریعے کا کہنا تھا کہ پاکستان کا اصل مسئلہ اصلاحاتی تجاویز کی کمی کبھی نہیں رہا، بلکہ تبدیلی کیخلاف بیوروکریسی کی ادارہ جاتی مزاحمت، سیاسی قیادت کے غیر مستقل عزم اور حکومتوں کی بار بار تبدیلی اس کی بنیادی وجوہات رہی ہیں۔ جسٹس منیر کمیشن (1948) سے لیکر ایڈمنسٹریٹو ری آرگنائزیشن کمیٹی (1958)، کارنیلیس کمیشنز (1959 اور 1969)، ایڈمنسٹریٹو ریفارمز کمیٹی (1973)، نیشنل کمیشن فار گورنمنٹ ریفارمز (2008) اور پی ٹی آئی حکومت کے دوران ڈاکٹر عشرت حسین کے اصلاحاتی پیکیج تک، تمام ادوار کی اصلاحاتی مشقوں نے تقریباً یکساں خامیوں کی نشاندہی کی اور تقریباً ایک جیسی اصلاحات تجویز کیں۔ اس کے باوجود بیوروکریسی کا بھرتی کا نظام، ترقیوں کا ڈھانچہ، پیشہ ورانہ گروپس اور انتظامی اختیارات کا ارتکاز بڑی حد تک تبدیل نہیں ہو سکا۔ اگرچہ ان تجاویز کو کابینہ کی سطح پر توجہ بھی حاصل ہوئی، لیکن بیوروکریسی کی مزاحمت، قانونی پیچیدگیوں اور بدلتی ہوئی سیاسی ترجیحات کے باعث ان پر عمل درآمد تعطل کا شکار ہو گیا۔ اب تقریباً ایک دہائی بعد احسن اقبال ایک بار پھر اسی چیلنج سے نبردآزما ہیں۔ یہ محسوس کرتے ہوئے کہ ماضی کی اصلاحاتی کوششیں ناکام رہی ہیں، وزیرِاعظم شہباز شریف نے احسن اقبال کی سربراہی میں اعلیٰ سطحی سول سروس ریفارمز کمیٹی قائم کی تاکہ پاکستان کی بیوروکریسی میں بنیادی تبدیلی کیلئے ایک نیا جامع روڈ میپ تیار کیا جا سکے۔ کمیٹی متعدد اجلاس منعقد کر چکی ہے، جن میں بھرتیوں، ترقیوں، معاوضوں، تربیت، ادارہ جاتی تشکیلِ نو اور کارکردگی کے جائزے کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ حکام اس عمل کو حالیہ برسوں میں پاکستان کی سول سروس کے حوالے سے ہونے والے سب سے جامع جائزوں میں سے ایک قرار دیتے ہیں۔ کمیٹی نے روایتی جنرلسٹ ماڈل کی جگہ ماہرین پر مبنی سول سروس کا نظام متعارف کرانے کی سفارش کی ہے، کیونکہ اس کے مطابق موجودہ دور میں حکمرانی کیلئے ایسے ماہرین درکار ہیں جو معاشیات، انجینئرنگ، مالیات، صحت، ٹیکنالوجی، موسمیاتی تبدیلی اور عوامی پالیسی جیسے شعبوں میں مہارت رکھتے ہوں، نہ کہ ایسے منتظمین جن سے ہر شعبے کو پیشہ ورانہ پس منظر کے بغیر چلانے کی توقع رکھی جائے۔ کمیٹی کی اہم سفارشات میں پیشہ ورانہ گروپس کو وسیع تر پیشہ ورانہ کلسٹرز میں تبدیل کرنا، خصوصی مہارت کی بنیاد پر بھرتیاں متعارف کرانا، سینیارٹی پر مبنی ترقیوں کی جگہ کلیدی کارکردگی اشاریوں (کے پی آئی) پر مبنی جانچ کا نظام نافذ کرنا، سی ایس ایس امتحان میں اصلاحات، موجودہ اے سی آر نظام کی جگہ نیا نظام لانا، مسلسل پیشہ ورانہ تربیت کو مضبوط بنانا، اور احسن اقبال کے بقول ٹیکنالوجی، میرٹ اور قابلِ پیمائش کارکردگی پر مبنی ’’اسمارٹ سول سروس‘‘ تشکیل دینا شامل ہیں۔ اصلاحاتی کمیٹی سے خطاب کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ 1973ء میں تشکیل دیا گیا سول سروس ڈھانچہ اکیسویں صدی کی حکمرانی کی ضروریات پوری کرنے کے قابل نہیں رہا۔ ان کا موقف ہے کہ پاکستان اس وقت تک ایک مسابقتی معیشت نہیں بن سکتا جب تک وہ ایسے انتظامی نظام پر انحصار کرتا رہے جو عوامی خدمت کے بجائے نوآبادیاتی طرزِ حکمرانی کیلئے تشکیل دیا گیا تھا۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ کمیٹی کی متعدد سفارشات بڑی حد تک ڈاکٹر عشرت حسین اور اس سے قبل قائم ہونے والے اصلاحاتی کمیشنوں کی تجاویز سے مماثلت رکھتی ہیں، جو اس امر کی غماز ہیں کہ ماہرین کی رائے گزشتہ کئی برسوں سے تقریباً یکساں رہی ہے۔ اصل مسئلہ کبھی یہ نہیں تھا کہ کیا تبدیل کرنا ہے، بلکہ یہ رہا ہے کہ ان تبدیلیوں کو عملی شکل کیسے دی جائے۔ حکام خبردار کرتے ہیں کہ تازہ ترین اصلاحاتی اقدام کو بھی اب اسی امتحان کا سامنا ہے جس میں اس کے بیشتر پیش رو ناکام رہے تھے۔ اطلاعات کے مطابق، خصوصی مہارت کی بنیاد پر بھرتیوں، پیشہ ورانہ گروپس کی تشکیلِ نو اور سی ایس ایس کے موجودہ ڈھانچے میں بنیادی تبدیلیوں جیسی تجاویز پر بیوروکریسی کے بعض حلقوں نے تحفظات ظاہر کیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر سیاسی قیادت نے مسلسل عزم کا مظاہرہ نہ کیا اور ادارہ جاتی دباؤ کا مقابلہ نہ کیا تو یہ نیا اصلاحاتی خاکہ بھی بالآخر ان متعدد عمدہ سرکاری رپورٹس کی فہرست میں شامل ہو جائے گا جو سرکاری فائلوں سے آگے نہ بڑھ سکیں۔ ذرائع کے مطابق، پاکستان کیلئے اب مسئلہ کسی نئی اصلاحاتی دستاویز کی تیاری نہیں رہا، بلکہ اصل امتحان یہ ہے کہ آیا موجودہ حکومت پہلی بار بیوروکریسی کی رکاوٹوں پر قابو پا کر گزشتہ کئی دہائیوں سے موجود اتفاقِ رائے کو حقیقی ادارہ جاتی اصلاحات میں تبدیل کر پاتی ہے یا نہیں۔