لاہور ،کاہنہ ( کرائم رپورٹر نامہ نگار جنرل رپورٹر )لاہور کے علاقے کاہنہ میں بالائی منزل پر تعمیراتی کام کے دوران ٹیوشن سینٹر کی چھت گرگئی جس کے نتیجے میں 14بچے شہیدجبکہ خاتون ٹیچراور 7بچےزخمی ہوگئے۔مالک مکان سمیت 5افراد کو حراست میں لے لیا گیا ، مذکورہ ٹیوشن سینٹر میں روزانہ 30سے35بچے ٹیوشن پڑھنے آتے تھے جبکہ گذشتہ روز ٹیچر انیلہ اور 22بچے اوربچیاں کمرے میںموجود تھے۔ ریسکیو ٹیم نے 22 افراد کو ملبہ سے نکال کر ہسپتال میں پہنچایا۔وزیر اعلیٰ مریم نواز کا سخت نوٹس۔متعلقہ حکام سے حادثے کی رپورٹ طلب کرلی۔وزیر اعلیٰ نے حکم دیا کہ یہ بہت دلخراش سانحہ ہے جس کے ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔انہوں نےصوبے بھر کی اسکولوں کی عمارتوں کا جائزہ لینے کا حکم دے دیا۔صدرمملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف ،وفاقی و صوبائی وزراء و دیگر نے بھی گہرے دکھ اور افسوس کااظہار کیا ہے۔تفصیلات کے مطابق ریسکیو حکام نے بتایا کہ زیادہ تر بچے 4سے 11سال عمرکے ہیں،متاثرہ مائیں دیوانہ وار اپنے جگر پاروں کا نام لے کرپکارتی رہیں۔14ڈیڈباڈیز ورثاء کے حوالے کردی گئیں، اس موقع پر انتہائی رقت آمیز رمناظر دیکھنے میں آئے، والدین اور بہن بھائی دھاڑیں مار کر روتے رہے۔ ریسکیو حکام نے بتایا کہ واقعے کی اطلاع شام 4:45 بجے پرملی تھی۔ٹیوشن سینٹر کی عمارت میں صبح کے اوقات میں اسکول ہے۔گذشتہ سہ پہر کاہنہ کے علاقہ بستی عید گاہ آہلو والی گلی کی رہائشی سکول ٹیچر انیلا ریحان کے3مرلہ گھر میں 4سے 11سال کے 22 بچےگارڈر ٹی آر کی چھت تلے ٹیوشن پڑھ رہےتھے کہ ٹیچرانیلا کاشوہر مزدوروں سے چھت پر ٹائلیں لگوارہاتھا کمزور چھت زیادہ وزن برداشت نہ کرسکی اور نیچے بیٹھے بچوں پرآگری. جس کے ملبے کے نیچے آ کر22 بچےشدیدزخمی ہو گئےجن میں سے 14جاں بحق ہو گئےجبکہ 7زخمی بچوں اور ٹیچر کو ٹی ایچ کیو ہسپتال کاہنہ منتقل کردیاگیا،بعد ازاں تمام زخمیوں کو ٹی ایچ کیو ہسپتال کاہنہ کے بعد مزید علاج معالجہ کے لئے جنرل ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔جاں بحق ہونے والے 14 بچوں کی ڈیڈباڈیز ٹی ایچ کیوہسپتال کاہنہ سے ضروری کارروائی کے بعد ورثا کے حوالے کردی گئیں۔جاں بحق ہونے والوں میں عبداللہ ولد مصطفیٰ عمر 8 سال، سلمان ولد وسیم عمر 8 سال،عروج دختر مصطفیٰ عمر 9 سال،منور ر ولد فاروق عمر 8سال، تشبیہ دختر شہزادہ عمر 7سال، فواد ولد محمد عابد عمر 8 سال، ایمان فاطمتہ دختر مصطفیٰ عمر11 سال، خدیجہ دختر وسیم عمر12 سال9، اروج دختر مرتضیٰ عمر 6 سال، ارتضیٰ عمر 4 سال، رمشا عمر 6 سال، علی ولد فرمان عمر 6 سال، ارحم ولد حسن علی عمر 8 سال، دعا دختر گلفام عمر 7 سال، عبداللہ ولد اصغر عمر 7 سال جبکہ زخمیوں میں ٹیچر انیلا زوجہ ریحان عمر 28 سال، الماس ولد عرفان عمر 11 سال ، مرتضیٰ ولد غلام مصطفیٰ عمر 11 سال، ابیہہ ولد غلام علی عمر 10/11 سال، فریحہ دختر گلفام عمر 7 سال،رابعہ دختر غلام علی عمر 5 سال، ایان ولد محمد مقصود عمر 4 سال، ایان ولد شہزاد عمر 8 سال شامل ہیں.پولیس نےگھر کے مالک ریحان اور 4 مزدورں کو گرفتار کر لیا ہے۔