اسلام آباد(کامرس رپورٹر، نمائندہ خصوصی/ نامہ نگار…فاروق اقدس…ایجنسیاں) نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے خبردار کیا ہے کہ انڈیا کے ساتھ کوئی تصادم یا تنازع نہیں چاہتے لیکن پانی کا رخ موڑنے یا روکنے کی بھارتی کوشش کو جنگی اقدام تصور کیا جائے گا‘پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر غیرقانونی قبضہ ہر گز قبول نہیں کرے گا‘ عالمی معاہدے کو کمزور کرنے کی قیمت بہت بھاری ہو سکتی ہے‘فاقی وزیر اطلاعات عطاءاللہ تارڑ نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی شہ رگ ہے جس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ ترمیم، منسوخی یا معطلی ممکن نہیں‘وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک کاکہنا ہے کہ پاکستان اپنا دفاع کرنا جانتا ہے اور کوئی پاکستان کا پانی نہیں روک سکتا‘پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے خبردارکیاکہ بھارت کا سندھ طاس معاہدہ معطل کرنا نہایت سنگین اقدام ہے‘ پاکستان اپنے پانی‘ خودمختاری اور مستقبل کا ہر قیمت پر دفاع کرے گا‘سابق وزیرمملکت خارجہ حنا ربانی کھر نے کہا ہے کہ بھارتی رویہ پاکستان ہی نہیں پورے بین الاقوامی نظام کیلئے خطرناک مثال ہے‘اگر اس کا نوٹس نہ لیا گیا تو دوسرے ہمسائے بھی متاثر ہوں گے‘سینٹر فار چائنا اینڈ گلوبلائزیشن کے صدر وکٹر گاؤ نے تجویز دی کہ چین کو بھی سندھ طاس معاہدے کا حصہ بنایا جائے تاکہ اسے سہ فریقی فریم ورک کی شکل دی جا سکے‘کروڑوں لوگوں کو پانی سے محروم کر دینے کی دھمکیاں انسانیت کے خلاف جرم ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو یہاں منعقدہ بین الاقوامی سیمینار ”سندھ طاس معاہدہ: امن اور علاقائی استحکام کا ایک ذریعہ“ کی اختتامی نشست سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔