اسلام آ باد ( رانا غلام قادر ) اسلامی نظریاتی کونسل نے اپنی منظور کردہ قرارداد میں کہا ہے کہ تمام الیکٹرانک، پرنٹ اور ڈیجیٹل میڈیا پلیٹ فارمز کو چاہئے کہ موثر ایڈیٹوریل نگرانی کا جامع نظام وضع کیا جائے، کونسل نے مقدس شخصیات کے خاکوں کےمتعلق قرار داد کی منظوری دے دی،کونسل نے اقدامِ خودکشی کی سزا کی بحالی سے متعلق وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کی مکمل تائید کی اور اسے انسانی زندگی کے تحفظ کیلئے اہم قرار دیا ، یہ فیصلہ گزشتہ روز چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل علامہ ڈاکٹر راغب حسین نعیمی کی زیر صدارت اجلاس میں کیا گیا،کونسل نےاسلام آباد ہائیکورٹ کے ازدواجی اثاثوں سے متعلق فیصلے کے تناظر میں اپنی سابقہ سفارشات کا اعادہ کرتے ہوئے قرار دیا کہ یہ فیصلہ اسلامی احکامات سے متصادم ہے۔کونسل نے طبی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے مخصوص شرائط کے ساتھ آنکھ کا قرنیہ (cornea) عطیہ کرنے اور اس کی پیوند کاری کرنے کو شرعاً جائز قرار دیا۔تفصیلات کے مطابق اسلامی نظریاتی کونسل نے نجی ٹی وی چینل پر چلنے والے مقدس شخصیات کے خاکوں کے متعلق قرار داد کی منظوری دے دی،قرار داد میں کہا گیا ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل تمام الیکٹرانک، پرنٹ اور ڈیجیٹل میڈیا پلیٹ فارمز کو اس امر کی طرف متوجہ کرتی ہے کہ تمام انبیاء کرام اور خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ،خلفائےراشدین، اہل بیت ، امہات المومنین و صحابہ کرام سے تمام اہل اسلام کی عقیدت و محبت بے پایاں ہے اور یہ عقیدت ہمارے ایمان کا بنیادی جزو ہے، انبیاء کرام کی شبیہہ، تصویری تمثیل یا ان کی مقدس شخصیات کی نمائندگی کرنے والے کسی بھی بصری مواد کی اشاعت شرعی لحاظ سے ناجائز امر ہےجس کی اسلامی نظریاتی کونسل قبل ازیں واضح سفارش کر چکی، لہٰذا اس عمل سے مکمل اجتناب کیا جائے تاکہ عوامی جذبات مجروح نہ ہوں اور ان پاک ہستیوں کے مقام و مرتبہ کا تقدس برقرار رہے۔جدید ڈیجیٹل میڈیا اور مصنوعی ذہانت (AI) کے اس دور میں معلومات کا پھیلاؤ جس تیزی سے ہوتا ہے، وہاں کسی متنازع اور غیر شرعی مواد کی اشاعت کے بعد محض اسے ہٹا دینا (Post-Publication Correction) کافی نہیں رہتا۔ پیمرا کی طرف سے اس پر نوٹس لینا خوش آئند عمل ہے تاہم اس معاملے میں مزید بہتری کی ضرورت ہے۔ نیز اس واقعہ کے ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔کونسل پیمرا سمیت تمام ریگولیٹری اداروں اور میڈیا ہاؤسز سے پرزور اپیل کرتی ہے کہ وہ آزادیِ اظہار کی قانونی حدود اور مذہبی حساسیت کے درمیان ایک ذمہ دارانہ توازن برقرار رکھیں۔ اس سلسلے میں محض بعد از وقت کارروائی کے بجائے پیشگی جانچ پڑتال (Pre-Publication Review) اور مؤثر ایڈیٹوریل نگرانی کا جامع نظام وضع کیا جائے جو ایسے واقعات کا مستقل سدباب کر سکے،علاوہ ازیں کونسل نے عائلی عدالتیں ترمیمی بل 2026ء کا تفصیلی جائزہ بھی لیا جس میں بچوں کے نفقہ سے متعلق اسلامی احکام کی وضاحت کی۔کونسل نے پلاسٹک کور پر پابندی کے حوالے سے وفاقی حکومت کی طرف سے قانون سازی کی تائید کرتے ہوئے ماحولیاتی تحفظ کے پہلو سے اسے احسن اقدام قرار دیا اور اس حوالے سے صوبائی سطح پر بھی قانون سازی کی ضرورت پر زور دیا۔ اجلاس میں کونسل نے امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے لیے پاکستان کی مخلصانہ ثالثی کی کاوشوں کو بھرپور طریقے سے سراہتے ہوئے انہیں خراجِ تحسین پیش کیا۔ اس کے ساتھ ہی عالمی معیشت اور تجارتی روانی کے لیے آبنائے ہرمز کی بندش کے فوری خاتمے کا پرزور مطالبہ کیا گیا تاکہ پوری دنیا جس مہنگائی اور وسائل کی قلت کی صورت حال سے دوچار ہے، اس کے خاتمے میں مدد مل سکے۔ کونسل نے محرم الحرام کے پہلے عشرے کے پرامن انعقاد پر گہرے اطمینان کا اظہار کیا اور اس ضمن میں سیکیورٹی فورسز، قومی امن کمیٹی، صوبائی امن کمیٹیوں اور اتحاد بین المسلمین کمیٹیوں کے فعال اور مثبت کردار کی بھرپور تحسین کی،اجلاس میں حافظ طاہر محمود اشرفی، حافظ محمد امجد، علامہ افتخار حسین نقوی، ڈاکٹر مفتی انتخاب احمد، مفتی محمد زبیر، پیر حسان حسیب الرحمٰن، رانا شفیق پسروری، سید عتیق الرحمٰن، علامہ یوسف اعوان، شمس الرحمٰن مشہدی نے شرکت کی۔