اسلام آباد (قاسم عباسی) آڈیٹر جنرل آف پاکستان (اے جی پی) کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق گزشتہ 10برسوں، یعنی مالی سال 2015-16 سے مالی سال 2024-25 تک، نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) مسلسل خالص عملی خسارے کا شکار رہی، جس کے نتیجے میں مالی سال 2024-25 کے اختتام تک ادارے کے مجموعی نقصانات بڑھ کر 2.06 ٹریلین روپے سے تجاوز کر گئے ہیں۔ آڈیٹر جنرل کی جانچ سے ظاہر ہوا ہے کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی کو ساختی انتظامی کمزوریوں، بڑھتے قرضوں اور عملی اخراجات میں مسلسل اضافے کے باعث سنگین مالی بحران کا سامنا ہے۔ آڈٹ شدہ مالیاتی اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ ایک دہائی کے دوران ٹیکس کے بعد این ایچ اے کا سالانہ خسارہ مسلسل بڑھتا رہا۔ مالی سال 2015-16 میں خسارہ 157.37 ارب روپے، 2016-17 میں 133.83 ارب روپے، 2017-18 میں 157.65 ارب روپے، 2018-19 میں 172.60 ارب روپے، 2019-20 میں 94.38 ارب روپے، 2020-21 میں 254.57 ارب روپے، 2021-22 میں 169.50 ارب روپے، 2022-23 میں 413.45 ارب روپے، 2023-24 میں 318.03 ارب روپے جبکہ 2024-25 میں 288.54 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق آمدنی میں اضافے کے باوجود انتظامی اخراجات اور شاہراہوں کی دیکھ بھال پر بڑھتے اخراجات نے مالی صورتحال مزید خراب کر دی۔ اسی باعث گزشتہ 10 برسوں کے دوران ادارے کے تمام اہم مالیاتی اشاریے منفی رہے۔ خالص منافع کا تناسب مالی سال 2023-24 میں منفی 327.93 فیصد رہا، جو 2024-25 میں منفی 236.47 فیصد پر آگیا۔ اسی طرح اثاثوں پر منافع مالی سال 2023-24 میں منفی 5.49 فیصد اور 2024-25 میں منفی 5.00 فیصد رہا، جبکہ استعمال شدہ سرمائے پر منافع بالترتیب منفی 3.38 فیصد اور منفی 2.40 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔