لاہور (اپنے نامہ نگار سے) چیف ایگزیکٹو آفیسر لیسکو انجینئر محمد رمضان بٹ نے کہا ہے کہ گردشی قرضہ ایک قومی نوعیت کا مسئلہ ہے، جس پر متعدد مالی، ریگولیٹری اور آپریشنل عوامل اثرانداز ہوتے ہیں، لہٰذا اسے صرف ٹرانسمیشن اینڈ ڈسٹری بیوشن لاسز سے منسلک نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ لیسکو نے مؤثر گورننس، مالی نظم و ضبط اور آپریشنل اصلاحات کے ذریعے اپنی کارکردگی میں نمایاں بہتری لائی ہے۔ ترجمان لیسکو کے مطابق مالی سال 2021-22 اور 2022-23 کے گردشی قرضے کے بعض اعداد و شمار عبوری تھے، جبکہ آڈٹ شدہ حسابات کے مطابق ان میں نظرثانی کی جا چکی ہے۔مالی سال 2023-24 میں گردشی قرضہ 339 ارب روپے تھا، جو مالی سال 2025-26 میں کم ہو کر 203 ارب روپے رہ گیا، یعنی صرف دو برسوں میں 136 ارب روپے کی تاریخی کمی ریکارڈ کی گئی۔