انصار عباسی
اسلام آباد :…آڈیٹر جنرل کی رپورٹ کے مطابق ایف بی آر میں مالی سال 2024-25ء کے دوران ٹیکس اور مالی بے ضابطگیوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق، بے ضابطگیوں کا حجم کم ہو کر 242؍ ارب روپے رہ گیا، جو ایک سال قبل 662.7؍ ارب روپے تھا۔ اس طرح اگرچہ وصولیوں اور نفاذ کا نظام بدستور کمزور ہے لیکن ٹیکس انتظامیہ نمایاں طور پر بہتر ہوئی۔ آڈیٹر جنرل کی آڈٹ رپورٹس برائے 2024-25ء (مالی سال 2023-24ء کا احاطہ) اور 2025-26ء (مالی سال 2024-25ء کا احاطہ) کے تقابلی جائزے سے ظاہر ہوتا ہے کہ آڈٹ اعتراضات کی مالی مالیت میں تقریباً 421؍ ارب روپے یا 63.5؍ فیصد کمی آئی۔ سب سے نمایاں بہتری انکم ٹیکس کے شعبے میں دیکھی گئی، جہاں بے ضابطگیوں کا حجم 457.1؍ ارب روپے سے کم ہو کر تقریباً 163؍ ارب روپے رہ گیا۔ اس شعبے میں سب سے بڑا مسئلہ سپر ٹیکس کی عدم وصولی رہا، تاہم اس کی مالیت بھی 1600؍ سے زائد کیسز میں 167.9؍ ارب روپے سے کم ہو کر 527؍ کیسز میں 117؍ ارب روپے رہ گئی۔ اسی طرح Inadmissible اخراجات کے دعووں کے باعث انکم ٹیکس کی انڈر اسسمنٹ میں بھی نمایاں بہتری آئی، جہاں یہ رقم 149.6؍ ارب روپے سے کم ہو کر 25 ارب روپے رہ گئی۔ اسی طرح کم از کم ٹیکس کی عدم وصولی 22.9؍ ارب روپے سے کم ہو کر 15؍ ارب روپے ہوگئی، جبکہ اخراجات کی غیر متناسب تقسیم کے باعث 2؍ ارب روپے کی بے ضابطگی رپورٹ کی گئی، جو گزشتہ سال کی رپورٹ میں اس شدت سے سامنے نہیں آئی تھی۔ سیلز ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی سے متعلق بے ضابطگیوں میں بھی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی، جو 186.7؍ ارب روپے سے کم ہو کر تقریباً 60؍ ارب روپے رہ گئیں۔ اس ضمن میں سب سے بڑی بہتری معطل یا بلیک لسٹ سپلائرز کی جانب سے جاری کردہ انوائسز پر جعلی یا ناقابل قبول ان پٹ ٹیکس کریڈٹ کے دعووں میں دیکھی گئی۔ یہ رقم 123.6؍ ارب روپے سے کم ہو کر 42؍ ارب روپے رہ گئی، اگرچہ یہ اب بھی سیلز ٹیکس کی سب سے بڑی بے ضابطگی ہے۔ قابل ٹیکس سپلائز پر سیلز ٹیکس کی عدم وصولی سے ہونے والا نقصان 13؍ ارب روپے تک محدود رہا، جبکہ گزشتہ رپورٹ میں فروخت چھپانے کے باعث یہ نقصان 36؍ ارب روپے بتایا گیا تھا۔ اسی طرح ان پٹ ٹیکس کی غیر متناسب تقسیم کے باعث ہونے والا نقصان 8.5؍ ارب روپے سے کم ہو کر 2؍ ارب روپے رہ گیا۔ کسٹمز کے شعبے میں بھی آڈٹ رپورٹ نے بہتری کی نشاندہی کی ہے۔ مجموعی طور پر کسٹمز سے متعلق بے ضابطگیاں 18.9؍ ارب روپے سے کم ہو کر تقریباً 18؍ ارب روپے رہ گئیں۔ اگرچہ ضبط شدہ سامان اور گاڑیوں کی مالیت، جن کے کیسز اب تک نمٹائے نہیں گئے، 13؍ ارب روپے رہی، جو گزشتہ رپورٹ میں 12.6؍ ارب روپے تھی، تاہم یہ اب بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ دوسری جانب درآمدی اشیا کی غلط درجہ بندی اور کم مالیت ظاہر کرنے کے باعث ہونے والا نقصان 3.6؍ ارب روپے رہا، جبکہ گزشتہ سال یہ 1.2؍ ارب روپے تھا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس مخصوص شعبے میں صورتحال مجموعی بہتری کے باوجود خراب ہوئی ہے۔ اسی طرح کسٹمز ڈیوٹی میں ناجائز چھوٹ اور رعایتوں کی مالیت 1.6؍ ارب روپے سے کم ہو کر 700؍ ملین روپے رہ گئی، جبکہ گوداموں میں رکھی گئی اشیا پر سرچارج کی عدم وصولی کے باعث مزید 809؍ ملین روپے کی بے ضابطگی سامنے آئی۔ رپورٹ کے مطابق تازہ آڈٹ میں فیلڈ دفاتر سے متعلق آڈٹ اعتراضات کی تعداد بڑھ کر 193؍ ہوگئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آڈٹ کا دائرہ کار مزید وسیع کیا گیا، تاہم اس کے باوجود بے ضابطگیوں کے مجموعی مالی اثرات میں نمایاں کمی واقع ہوئی۔