ملتان (سٹاف رپورٹر)ایڈووکیٹ عباس وسیر کی گرفتاری کیخلاف جمعہ کو پنجاب بار کونسل کی اپیل پر ملتان ڈویژن بھر میں وکلاء نے مکمل ہڑتال کی‘ جبکہ ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن ملتان کی جانب سے بھی ہڑتال کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تھا۔ ہڑتال کے باعث عدالتوں میں معمول کی کارروائیاں متاثر رہیں اور دور دراز سے آنے والے سائلین کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ڈسٹرکٹ بار ملتان میں جنرل باڈی کا اجلاس بھی منعقد ہوا، جس سے بار عہدیداران نے خطاب کرتے ہوئے ایڈووکیٹ عباس وسیر کی گرفتاری پر تحفظات کا اظہار کیا۔ اس موقع پر صدر ڈسٹرکٹ بار سید بشران نقوی نے کہا کہ بار ایسوسی ایشن گرفتار وکیل اور اس کے اہل خانہ کے ساتھ کھڑی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وکلاء اور پولیس کے درمیان مذاکرات کامیاب ہو چکے ہیں اور عباس وسیر کو بے گناہ قرار دیے جانے کے بعد ان کی رہائی کے لیے تازہ بنیادوں پر بعد از گرفتاری ضمانت کی درخواست ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی عدالت میں دائر کی جائیگی۔انہوں نے مزید بتایا کہ گرفتار وکیل کے اہل خانہ کی جانب سے پولیس کو بیانِ حلفی بھی جمع کرا دیا گیا ہے، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ عباس وسیر کا متعلقہ معاملے سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی ان پر عائد الزامات سے ان کا کوئی واسطہ ہے۔ اسی پیش رفت کے بعد وکلاء اور پولیس کے درمیان معاملات خوش اسلوبی سے طے پا گئے ہیں۔واضح رہے کہ ایڈووکیٹ عباس وسیر کی گرفتاری کے معاملے پر جمعرات کے روز وکلاء نے ڈسٹرکٹ کورٹس ملتان کے داخلی و خارجی دروازوں پر تالے لگا دئیے تھے، جس کے باعث ججز اور عدالتی عملہ کئی گھنٹے عدالتوں میں محصور رہا۔ بعد ازاں وکلاء اور ضلعی انتظامیہ کے درمیان مذاکرات کے نتیجے میں رات 12 بجے تک مسئلہ حل کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی۔