• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

لڑکی اغوا، زیادتی مقدمے میں نامزد2ملزمان کی ضمانت مسترد، عدالت سے گرفتار

پشاور( نیوزرپورٹر) ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج پشاور نے حیات آباد سے 19 سالہ لڑکی کو اغوا کرنے اور زیادتی کا نشانہ بنانے کے مقدمے میں نامزد دو ملزمان کی عبوری ضمانت کے لئے دائر درخواست مسترد کردی جس پر پولیس نے دونوں ملزمان کو کمرہ عدالت سے گرفتار کرلیا ۔ گزشتہ روز مقدمے کی سماعت ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج طلاء محمد نے کی۔ پراسیکیوشن کے مطابق مدعی مقدمہ نے الزام لگایا تھا کہ ان کی 19 سالہ بیٹی گھر سے واش روم گئی اور واپس نہیں آئی۔ بعدازاں ایک نامعلوم شخص نے انہیں واٹس ایپ پر پیغام بھیجا کہ وہ ان کی بیٹی کے ساتھ ہے اور اس سے شادی کرنا چاہتا ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 365 (اغوا) اور 376-بی زنا بالجبر کے تحت دونوں ملزمان آصف اور ایوب عرف سید عارف سمیت دیگر پر انکوائری کے بعد درج کیا گیا ، ملزمان نے اپنی گرفتاری سے بچنے کے لیے عدالت میں قبل از گرفتاری ضمانت کی درخواست دائر کی، ملزمان کے وکیل نے عدالت کوبتایا کہ فریقین کے درمیان معاملہ طے پا گیا ہے، لہذا ملزمان ضمانت کے حقدار ہیں۔دوسری جانب پبلک پراسیکیوٹر نے عدالت کوبتایا کہ دفعات 365 اور 376-بی ناقابلِ صلح ہیں اور یہ جرائم معاشرے کے خلاف ہیں۔ عدالت نے سماعت کے بعد تحریری حکم نامہ جاری کردیا تحریری حکم نامہ کے مطابق صرف ایک سمجھوتے کا دعویٰ کرنا اس سنگین نوعیت کے مقدمے میں ضمانت کے لیے کافی قانونی بنیاد نہیں ہے۔ملزمان کی جانب سے کوئی ایسی غیر معمولی صورتحال ثابت نہیں کی جا سکی جو عبوری ضمانت کی بنیاد بن سکے۔متاثرہ لڑکی کو ملزمان کے قبضے سے بازیاب کروایا گیا تھا اور اس کا بیان بھی ریکارڈ پر موجود ہے۔عدالت نے ملزمان کی عبوری ضمانت کی درخواست مسترد کردی جس کے بعد پولیس نے انہیں کمرہ عدالت سے گرفتار کرلیا۔
پشاور سے مزید