• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عوام کی جان و مال کے تحفظ کی جدوجہد جاری رکھی جائیگی، متین اخونزادہ

کوئٹہ(اسٹاف رپورٹر)جماعت اسلامی بلوچستان کے نائب امیر و زیارت شہداء دھرنا کے ترجمان عبدالمتین اخونزادہ نے کہا ہے کہ مانگی ڈیم زیارت کے شہداء کے لواحقین کے جائز مطالبات فوری طور پر تسلیم کیے جائیں ، شہداء کا خون ہرگز رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا ، عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر جمہوری ، آئینی اور قانونی جدوجہد جاری رکھی جائے گی ۔ یہ بات انہوں نے دھرنا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی ۔ انہوں نے کہا کہ دھرنا کے شرکاء کے اجلاس میں آئندہ کے احتجاجی لائحہ عمل کا اعلان کیا گیا ہے جس کے مطابق 15 جولائی کو ژوب ، ہرنائی ، چمن ، تربت ، گوادر اور پنجگور میں ، 16 جولائی کو کوئلہ پھاٹک دھرنا میں خواتین اور بچوں کا خصوصی احتجاجی دھرنا ، 17 جولائی کو بلوچستان بھر میں شٹرڈاؤن کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس کے شرکا نے واضح کیا کہ اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو اس کے بعد مزید مؤثر اور سخت احتجاجی لائحہ عمل طے کیا جائے گا ۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے نمائندہ کمیٹی تشکیل دی گئی ہے ، جس میں ان کے سمیت ، پشتونخوا میپ کے سیکرٹری جنرل عبدالرحیم زیارتوال ، پشتونخوانیپ کے صوبائی صدر نصراللہ زیرے ، فقیرخوشحال ، جمعیت علماء اسلام کے مولانا کمال الدین ، دلاور خان ، پی ٹی آئی کے ایم این اے عادل خان بازئی ، عوامی نیشنل پارٹی کے اصغر خان اچکزئی ، رشیدناصر ، بی این پی کے آغا حسن بلوچ ، نیشنل پارٹی کے ڈاکٹر اسحٰق بلوچ ، این ڈی ایم کے احمد جان لالا اور شہداء کے لواحقین کے نمائندے شامل ہوں گے جبکہ قانونی امور کا جائزہ لینے کے لیے سینئر وکلاء پر مشتمل الگ کمیٹی بھی قائم کی گئی ہے ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مانگی ڈیم زیارت واقعہ کی جوڈیشل کمیشن کے ذریعے تحقیقات کرائی جائے ۔ زیارت، ہرنائی، ہنہ اوڑک، شعبان، تکتو، زرغون سمیت دیگر علاقوں سے مسلح جتھوں اور دہشت گرد عناصر کا مکمل خاتمہ کیا۔
کوئٹہ سے مزید