• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان میں ٹریڈ یونینز کے حقوق مکمل طور پر سلب کئے جا چکے ہیں‘مزدور رہنما

ملتان(سٹاف رپورٹر) پاکستان کی پانچ متحرک ٹریڈ یونینزآل پاکستان فیڈریشن آف یونائیٹڈ ٹریڈ یونینز، نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن، پاکستان ٹیکسٹائل ورکرز فیڈریشن، اتحاد لیبر یونین آف کارپٹ انڈسٹریز پاکستان اور ہوم بیسڈ ویمنورکرز فیڈریشن کے زیراہتمام ملک بھر خصوصاً جنوبی پنجاب کے مزدور نمائندوں کا ایک روزہ مشاورتی اجتماع ملتان پریس کلب میں منعقد ہوا جس کی صدارت انڈسٹریل گلوبل یونین ٹیکسٹائل گارمنٹس سیکٹر کی شریک چیئرپرسن اور ہوم بیسڈ ویمن ورکرز فیڈریشن کی جنرل سیکرٹری کامریڈ زیرا خان نے کی،اس موقعے پر مزدور نمائندوں نے کہا کہ پاکستان میں ٹریڈ یونینز کے حقوق مکمل طور پر سلب ہو چکے ہیں،فیکٹریاں اور کارگاہیں عملاً بیگار کیمپ میں تبدیل ہو چکے ہیں،کم از کم اجرت کی ادائیگی، سماجی تحفظ اور پینشن کے اداروں سے رجسٹریشن جیسے بنیادی حق سے 90فی صد سے زائد مزدور محروم ہیں،آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کی ایما پر حکمراںعوام دشمن پالیسیوں پر عمل درآمد کرتے ہوئے اداروں کی نج کاری اور مہنگائی میں بے تحاشا اضافہ کر رہے ہیں،تعلیم ، صحت ، رہائش ، صاف پانی ، ٹرانسپورٹ اور دیگر بنیادی سہولتیںعوام کی دسترس سے باہر ہو چکی ہیں،ان کا مزید کہنا تھا کہ ٹیکسٹائل گارمنٹسسیکٹر جس میں مزدوروں کی اکثریت کام کرتی ہے، حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے مسسل زوال کا شکار ہےاور پاکستان آئی ایل او کے تین درجن سے زائد لیبر کنونشنز کی توثیق اور یورپی یونین سے کیے گئے جی ایس پی پلس معاہدے کی پاس داری کے وعدہ کے باوجود مسلسل بین الاقوامی وعدوں اور ذمہ داریوں کی خلاف ورزیوں کس مرتکب ہو رہا ہے، اجتماع میں مزدور رہنماؤں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سرمایہ دارانہ جبر ، آئی ایم ایف کی عوام دشمن پالیسیوں اور حکم رانوں کےعاقبت نا اندیش طرز حکومت اور پنجابلیبر کوڈ کے خلاف منظم جدوجہد کی جائے گی، مشاورتی اجتماع سے خطاب کرنے والوں میں ناصر منصور (نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن پاکستان )، ضیاء سید (آل پاکستان فیڈریشن آف یونائیٹڈ ٹریڈ یونینز فیڈریشنز )، نیاز خان ( اتحاد لیبر یونین آف کارپٹ انڈسٹریز پاکستان)، نثار شاہ (پاکستان ٹیکسٹائل ورکرز فیڈریشن)، اشفاق بٹ، رانا طاہر (لیبر قومی موومنٹ) زہرہ خان (ہوم بیسڈ ویمن ورکرز فیڈریشن)، سلیم چشتی (ریلوے ورکرز یونین) اور دیگر مزدور رہنما شامل تھے،اجتماع میں مطالبہ کیا گیا کہ لیبر قوانین پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے،پنجاب میں کم از کم اجرت کی مختلف کیٹیگریز کا اعلان اور ان پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائےاور یونین سازی اور اجتماعی سوداکاری کو درپیش مشکلات ختم کی جائیں،ٹھیکہ داری نظام کی ہر شکل کو ختم کیا جائےاور مزدوروں کو تحریری تقررنامے جاری کیے جائیں۔
ملتان سے مزید