اسلام آباد (صالح ظافر) وزیراعظم شہباز شریف، ان کے بھارتی ہم منصب نریندر مودی، چینی صدر شی جن پنگ، روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور چھ دیگر عالمی رہنما اگلے ماہ کے آخر میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہانِ مملکت کی کونسل کے دو روزہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں ایک چھت تلے جمع ہوں گے۔ یہ تقریب وزیراعظم شہباز شریف کو چینی صدر شی جن پنگ، روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور دیگر وفود کے سربراہان سمیت عالمی رہنماؤں سے سائیڈ لائنز پر ملاقاتوں کا موقع فراہم کرے گی۔ سفارتی مبصرین اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ کیا یہ موقع شہباز شریف اور مودی کے درمیان مصافحہ یا کسی سائیڈ لائن ملاقات کا سبب بنے گا؟ بھارت نے اس طرح کی کسی ’’اتفاقیہ‘‘ ملاقات کی درخواست نہیں کی ہے، جبکہ پاکستان بھی ظاہر ہے کہ اس کے لیے خود نہیں کہے گا۔ باوثوق سفارتی ذرائع نے اتوار کو ’جنگ‘ کو بتایا کہ ایس سی او کے سربراہانِ مملکت کی کونسل کا اجلاس رواں سال 31 اگست سے 1 ستمبر تک بشکیک میں منعقد ہونا طے پایا ہے۔ اس سربراہی اجلاس کے اختتام پر، کرغزستان تنظیم کی صدارت باضابطہ طور پر پاکستان کے سپرد کر دے گا۔ وزیراعظم شہباز شریف کے علاوہ، چینی صدر شی جن پنگ، روسی صدر ولادیمیر پیوٹن، ایرانی صدر مسعود پزشکیان، کرغز صدر سادیر جباروف، تاجکستان کے صدر امام علی رحمان، بیلاروس کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو، ازبکستان کے صدر شوکت میرضیایف، بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایف اس سربراہانِ مملکت کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔