تہران (اے ایف پی)قرآن کی آیات سے مزین ایک ایسے ہال میں، جو عام طور پر نماز کے لیے مخصوص ہوتا ہے، ایرانی نوعمر بچوں ( لڑکوں اور لڑکیوں کی الگ الگ ٹیموں ) نے اپنے تیار کردہ ایسے روبوٹس کو فٹ بال کھیلتے دیکھا جنہیں کوڈنگ سے خودمختار بنایا گیا تھا اورمیچ کے دوران ریمورٹ کنٹرول استعمال کرنے یا انسانی مداخلت کی ممانعت تھی۔ اس ہفتے تہران میں ہونے والے روبوکپ مقابلے میں شریک افراد کی عمریں 10 سال تک کم تھیں۔یہ مقابلہ لڑکیوں اور لڑکوں کی ٹیموں کے درمیان بھی تھا، ایسے ملک میں جہاں اسکولوں میں مخلوط تعلیم پر پابندی ہے۔15 سالہ ایلینا رضوانیان نے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’میرا عزم ہے کہ یونیورسٹی میں روبوٹکس کی تعلیم حاصل کروں اور بین الاقوامی مقابلوں میں حصہ لوں۔