• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان کینیڈا کا زراعت، تجارت میں تعاون بڑھانے پر اتفاق، انسداد دہشت گردی، کشمیر، سندھ طاس معاہدے پر تبادلہ خیال

اسلام آباد (رانا غلام قادر، فاروق اقدس) کینیڈا کی وزیر خارجہ انتیا آنند نے وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈاراور وزیر داخلہ محسن نقوی سے الگ الگ ملاقاتیں کیں جن میں دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تجارت، سرمایہ کاری، زراعت میں تعاون پر اتفاق کیا گیا، ملاقاتوں میں انسداد دہشت گردی، افغانستان سے دراندازی، کشمیر کی صورتحال اور سندھ طاس معاہدے پر گفتگو ہوئی۔ دونوں ممالک نے دوطرفہ روابط کو ادارہ جاتی بنیادوں پر مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا جبکہ کینیڈا نے پاکستان میں سیکورٹی اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے 4 کروڑ 70 لاکھ کینیڈین ڈالر سے زائد کی معاونت کا اعلان کیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے خطے میں امن کی کوششوں کیلئے پاکستان کی حمایت پر کینیڈا کا شکریہ ادا کیا، کینیڈا کی وزیرخارجہ انیتاآنند نے اسلام آباد میں استقبال پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا ، وزیر خارجہ اسحق ڈار نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی پاسداری ضروری ہے، عالمی سطح پر حمایت کے خواہشمند ہیں،کینیڈا کی وزیر خارجہ نے کہا باہمی تعاون کو فروغ کیلئے فریم ورک مرتب کیا جانا چاہیے، ملاقات کے بعد کینیڈا سے پاکستان کو کینولا (Canola) کی درآمد کے حوالے سے "فائٹو سینیٹری ضوابط" (Phyto-sanitary regulations) کے پروٹوکول پر دستخط کی تقریب ہوئی۔ پروٹوکول پر نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار اور کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے دستخط کیے۔تفصیلات کے مطابق کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند آج اسلام آباد پہنچیں اور نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے ملاقات کی جس میں مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا جبکہ کی شعبہ جات میں مشترکہ تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق کیا گیا۔ وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ کینیڈا کی وزیرِ خارجہ کا یہ دورہ دو طرفہ تعاون کو مزید وسعت دینے کے ہمارے مشترکہ عزم کا مظہر ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور کینیڈا کے تعلقات تاریخی روابط، عوامی سطح پر مضبوط روابط اور کینیڈا میں آباد متحرک پاکستانی برادری کی بنیاد پر استوار ہیں۔انہوں نے کہا کہ دونوں فریقین نے اعلیٰ سطح روابط کو تسلسل کے ساتھ جاری رکھنے، ادارہ جاتی تعاون کو مزید مستحکم بنانے، باقاعدہ دوطرفہ مشاورت کو فروغ دینے اور متعلقہ وزارتوں و اداروں کے درمیان روابط کو وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ پاکستان تعلیم، توانائی، کان کنی و اہم معدنیات، زراعت، بنیادی ڈھانچے اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی سمیت ترجیحی شعبوں میں کینیڈا کی سرمایہ کاری کا خیرمقدم کرتا ہے۔اسحاق ڈار نے کہا کہ دونوں ممالک کے متعلقہ ادارے زرعی شعبے میں فنی تعاون اور استعدادِ کار میں اضافے کے امکانات کا بھی مشترکہ جائزہ لیں گے۔ وزیر خارجہ نے بتایا کہ ملاقات میں خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC) کے کردار پر بھی تبادلۂ خیال ہوا، جو سرمایہ کاروں کے لیے سہولت کاری کا ایک مؤثر پلیٹ فارم فراہم کر رہی ہے، ہم نے کینیڈا کی کمپنیوں کو پاکستان میں دستیاب سرمایہ کاری کے مواقع سے بھرپور استفادہ کرنے کی دعوت دی، ہماری گفتگو میں تعلیم، افرادی قوت کی نقل و حرکت، قونصلر تعاون، سائنس و ٹیکنالوجی، موسمیاتی تبدیلی اور عوامی روابط کے فروغ سمیت متعدد شعبے شامل تھے۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کہا کہ میں نے جموں و کشمیر کے تنازع کا معاملہ بھی اٹھایا، جو دنیا کے دیرینہ حل طلب بین الاقوامی تنازعات میں سے ایک ہے اور 1948 سے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود ہے۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ بھارت نے سندھ طاس معاہدے (IWT) کو معطل رکھنے کے اعلان کے ذریعے پہلے ہی سے کشیدہ سلامتی کی صورتحال میں ایک نئی اور تشویشناک جہت کا اضافہ کیا ہے، ہم اپنے دوست ممالک سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی فوری بحالی، پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے خاتمے، اور بین الاقوامی قانون و معاہداتی ذمہ داریوں کی پاسداری کو یقینی بنانے کے لیے اپنی حمایت فراہم کریگے۔ علاوہ ازیں وزیراعظم شہباز شریف سے کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے وزیراعظم ہاؤس میں ملاقات کی۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے کینیڈین وزیر خارجہ کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہا اور اس بات کا اعادہ کیا کہ دونوں ممالک کے مابین دوستانہ تعلقات قائم ہیں جنہیں خاص طور پر تجارت، سرمایہ کاری، زراعت بشمول ایگری فوڈز اور ویکسین کی تیاری، قابل تجدید توانائی، آٹو موبائل اور آٹو پارٹس کی صنعت کے شعبوں میں مزید وسعت دینے کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم نے کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی کے لیے اپنے نیک خواہشات کا پیغام پہنچایا اور کہا کہ وہ ان سے جلد ملاقات کے منتظر ہیں۔ انہوں نے خطے میں امن کی کوششوں کے لیے پاکستان کی حمایت کرنے پر کینیڈا کا شکریہ ادا کیا۔ 

اہم خبریں سے مزید