اسلام آباد (رپورٹ: حنیف خالد) فنانس ایکٹ 2026-27کسٹمز ایکٹ میں اسٹیٹ ویئر ہاؤس کا نیا قانونی تصور متعارف ، ضبط شدہ اشیا میں چھیڑ چھاڑ پر دو گنا جرمانہ ،5 سال قید کی سزا ،کسٹمز بورڈ کو جرمانوں میں کمی، معافی اور قواعد سازی کے نئے اختیارات وفاقی حکومت کی بجائے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (بورڈ) کو منتقل کر دیے گئے ، جبکہ بورڈ کو یہ اختیار بھی حاصل ہوگا کہ وہ جرمانوں میں کمی یا معافی، اپیل کے طریقہ کار اور ایسے کسٹمز اسٹیشنوں یا اشیا کی اقسام کے بارے میں قواعد جاری کرے جہاں یہ سزائیں لاگو نہیں ہوں گی۔ مزید برآں، سیکشن 156 میں ٹرمینل آپریٹرز کے خلاف مقررہ ایک جرم پر زیادہ سے زیادہ جرمانہ پانچ لاکھ روپے سے بڑھا کر ایک کروڑ روپے کر دیا گیا ہے۔ اسی سیکشن میں نئی شق 62A شامل کی گئی ہے جس کے تحت اگر کوئی شخص اسٹیٹ ویئر ہاؤس میں موجود اشیا کو نکالنے، تبدیل کرنے، نقصان پہنچانے یا کسی بھی قسم کی چھیڑ چھاڑ میں ملوث یا معاون پایا گیا تو اسے متعلقہ اشیا کی مالیت کے دو گنا تک جرمانہ کیا جا سکے گا۔