• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بجٹ بحال نہ ہوا تو آئندہ ہفتہ احتجاجی تحریک شروع ہوگی، لیڈی ہیلتھ ورکرز

کراچی (اسٹاف رپورٹر) آل لیڈی ہیلتھ ورکرز پروگرام یونین سندھ نے صوبائی حکومت کی جانب سے لیڈی ہیلتھ ورکرز پروگرام کے آپریشنل بجٹ میں 75فیصد کمی کو پروگرام ختم کرنے کی کوشش قرار دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اگر بجٹ بحال نہ کیا گیا تو آئندہ ہفتے کراچی سے احتجاجی تحریک کا آغاز کیا جائے گا، جو بعد ازاں پورے سندھ تک پھیلائی جائے گی۔ کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یونین کی چیئرپرسن بشریٰ آریان نے کہا کہ یہ پروگرام شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کا عوامی صحت کا خواب تھا جسے ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بجٹ میں کٹوتی کے بعد فنڈز ایک نجی کمپنی کو منتقل کر دیے گئے ہیں، جس کے باعث لیڈی ہیلتھ ورکرز بنیادی ادویات، ہیلتھ کٹس اور سپروائزرز پیٹرول سے محروم ہو گئی ہیں جبکہ انتظامی نگرانی بھی متاثر ہوئی ہے۔بجٹ دستاویز سے لیڈی ہیلتھ ورکرز پروگرام کا تاریخی نام بھی نکال دیا گیا ہے اور تنظیمی ڈھانچے میں تبدیلیاں پروگرام کی نجکاری یا آؤٹ سورسنگ کی جانب اشارہ کرتی ہیں، جو سپریم کورٹ کے 2013 کے فیصلے اور حکومت کے سابقہ وعدوں کے بھی منافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں لیڈی ہیلتھ ورکرز کی تعداد 24 ہزار سے کم ہو کر تقریباً 17 ہزار رہ گئی ہے اور کئی برسوں سے نئی بھرتیاں نہ ہونے کے باعث صوبے کے تقریباً 60 فیصد علاقوں میں لیڈی ہیلتھ ورکرز کی خدمات دستیاب نہیں ہیں۔
اہم خبریں سے مزید