لاہور (آصف محمود بٹ پرویز بشیر)چین کے قونصل جنرل سن یان نے کہا ہے کہ سی پیک کا دوسرا مرحلہ پاک چین اقتصادی تعاون میں گیم چینجر ثابت ہوگا۔ 25.9ارب ڈالر سرمایہ کاری، اڑھائی لاکھ سے زائد روزگار کے مواقع پیدا ہوئے۔سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے کہا کہ پاکستان، چین اور بھارت کے درمیان امن ایشیا کی تقدیر بدل سکتا ہے۔سابق سیکریٹری خارجہ شمشاد احمد خان نے کہا کہ پاک چین تعلقات جامع شراکت داری کی شکل اختیا کر چکے۔ان خیالات کا اظہار انڈرسٹینڈنگ چائنا فورم (یو سی ایف) کے زیر اہتمام پاکستان اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ اور کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کے قیام کی 105ویں سالگرہ کے موقع پر منعقدہ اعلیٰ سطحی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا گیا۔سیمینار میں وزیراعظم کے چین کے لیے خصوصی نمائندے ظفر الدین محمود، سابق وزیر خارجہ و چیئرمین یو سی ایف میاں خورشید محمود قصوری، چین کے قونصل جنرل لاہور سن یان، سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر سلمان شاہ، سابق سیکریٹری خارجہ شمشاد احمد خان، سابق پرنسپل سیکریٹری فواد حسن فواد، سابق سفیر منصور احمد خان، نیشنل اسکول آف پبلک پالیسی کے ریکٹر اور سول سروسز اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل فرحان عزیز خواجہ، لیفٹیننٹ جنرل (ر) شفاعت اللہ شاہ، یو سی ایف کے ڈائریکٹر سید یاور علی، سفارت کاروں، ماہرین تعلیم، کاروباری شخصیات، پالیسی سازوں اور طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔چین کے قونصل جنرل سن یان نے اپنےخطاب میں کہا کہ پاکستان اور چین کے تعلقات باہمی اعتماد، اسٹریٹجک تعاون اور ایک دوسرے کے بنیادی قومی مفادات کی غیر متزلزل حمایت پر استوار ہیں اور یہی خصوصیات اس شراکت داری کو دنیا کے مضبوط ترین دوطرفہ تعلقات میں ممتاز مقام عطا کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ان اولین ممالک میں شامل تھا جنہوں نے عوامی جمہوریہ چین کو تسلیم کیا، جبکہ 1971ء میں اقوام متحدہ میں چین کی قانونی نشست کی بحالی کے لیے پاکستان کی سفارتی حمایت دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک تاریخی سنگِ میل ثابت ہوئی۔ اسی طرح تائیوان، سنکیانگ اور زیزانگ کے معاملات پر پاکستان کی مستقل حمایت اور دوسری جانب پاکستان کی خودمختاری، سلامتی اور ترقیاتی مفادات پر چین کا دوٹوک مؤقف دونوں ممالک کے "آہنی بھائی چارے" کا عملی اظہار ہے۔سن یان نے کہا کہ صدر شی جن پنگ کے 2015ء کے تاریخی دورۂ پاکستان کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات کو آل ویدر اسٹریٹجک کوآپریٹو پارٹنرشپ کی سطح پر ترقی دی گئی، جس کے نتیجے میں سی پیک پر عملدرآمد میں غیر معمولی تیزی آئی۔ انہوں نے بتایا کہ اس منصوبے کے تحت اب تک پاکستان میں 25 ارب 90 کروڑ ڈالر سے زائد کی براہ راست سرمایہ کاری کی جا چکی ہے، بجلی کی قومی پیداواری صلاحیت میں 8 ہزار میگاواٹ سے زیادہ اضافہ ہوا، 510 کلومیٹر شاہراہیں اور 886 کلومیٹر بجلی کی ترسیلی لائنیں تعمیر کی گئیں جبکہ 2 لاکھ 60 ہزار سے زائد مقامی افراد کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوئے۔انہوں نے کہا کہ سی پیک اب اپنے دوسرے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جہاں تعاون کا دائرہ انفراسٹرکچر سے آگے بڑھ کر زراعت، مینوفیکچرنگ، خصوصی اقتصادی زونز، سائنس، ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، صنعتی اختراع اور انسانی وسائل کی ترقی تک وسیع ہو رہا ہے۔