• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نتن یاہو نہیں، ایرانی قیادت کو پکڑنا چاہئے، اب ایک بھی امریکی فوجی مرا تو ایران کو کئی گنا زیادہ قیمت چکانا پڑے گی، ٹرمپ

تہران /واشنگٹن (اے ایف پی /نیوزڈیسک ) خلیج میں امریکا اور ایران کے ایک دوسرے پر حملے جاری ‘ایران کے شہرخمین میں صنعتی یونٹ ہدف‘تبریز میں ایک شخص شہید‘متعددزخمی ‘تہران کی امریکی اڈوں اور تنصیبات پر جوابی کارروائیاں‘ اردن کے عقبہ ایئرپورٹ پر امریکی طیارے‘کویت میں ریڈار نظام ‘ڈرون ہینگر‘شام کے علاقے التنف میں اسپیشل آپریشنز کمانڈ سینٹرکو نشانہ بنایاگیا جبکہ بحرینی حکام کا کہنا ہے کہ ایرانی ڈرونز نے اس کے فضائی نیوی گیشن سسٹم کو ٹارگٹ کیاہے ‘یمن کے حوثی جنگجوؤں نے سعودی عرب کیبحری ناکہ بندی کا اعلان کردیاجس کے بعد بحیرہ احمر کے راستے سامان کی ترسیل کےانشورنس اخراجات میں اضافہ ہو گیا ہےجبکہ ایک امریکی اہلکار نے بتایا کہ اردن میں ہوئے مہلک حملے سے قبل ہی امریکا نے اضافی فوجی طیاروں اوردیگرسامان کو مشرق وسطیٰ منتقل کرنا شروع کردیاتھا۔ادھر صدرٹرمپ نے خبردارکیا ہے کہ جب بھی ایران کسی امریکی فوجی کو ہلاک کرے گا تو وہ اس ہلاکت کی کئی گنا زیادہ قیمت چکائیں گے‘اسرائیلی وزیراعظم کو امریکا میں قیام کے دوران کسی بھی صورت یا طریقے سے گرفتار نہیں کیا جائے گا‘نتن یاہوکی بجائے ان لوگوں کو گرفتار کیا جانا چاہیے جنہوں نے ایران کو موت اور تباہی کی طرف دھکیلا۔دوسری جانب ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار نے بتایاہے کہ ثالثوں نے ایران کو جنگ کی شدت میں کمی لانے کی نئی تجویز پیش کی ہے جس میں دس روزہ جنگ بندی شامل ہے ‘ایرانی عہدیدار کے مطابق جنگ بندی تجویز میں آبنائے ہرمز کو 10 دنوں سے لیکر 2 ہفتوں کیلئے کھولنے پر غور کیاجارہا ہے‘ادھر ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ حملوں کے باوجود ثالثوں کے ذریعے امریکا سے سفارتی رابطے جاری ہیں تاہم تہران سفارتی کوششوں کے ساتھ ساتھ فوجی ردِ عمل بھی جاری رکھے گا‘امریکاکو جزیرہ خارگ پر قبضہ کی مہم جوئی کے نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا‘تہران زمینی حملے کی صورت میں امریکی فوج کا استقبال کرنے کیلئے ایک ایک منٹ گن رہاہےجبکہ امریکی وزیر خارجہ مارکوروبیو نے کہاہے کہ واشنگٹن اب بھی تہران کے ساتھ مذاکرات کیلئے تیار ہے تاہم اس کیلئے ضروری ہے کہ بات چیت حقیقی اور بامعنی ہو‘ایران آبی گزرگاہ کو بطورہتھیار استعمال کر رہا ہے‘عالمی جہاز رانی کے تحفظ کے لیے دیگر ممالک کو بھی دباؤ بڑھاناچاہئے ‘صدرمسعودپزشکیان کا کہنا ہے کہ تہران امریکا کے ساتھ مکمل جنگ لڑرہاہے اور تہران کو اس تنازع کے اثرات کو تسلیم کرنا چاہیے۔ آئی آر جی سی نے کہاہےکہ آبنائے ہرمز کے جنوب میں دو آئل ٹینکرز میں دھماکے ہوئے ہیں جبکہ خلیج فارس میں عمان کے ساحل کے قریب ایک جہاز شعلوں کی لپیٹ میں آگیاجس کے بعد عملے کے ارکان کوشپ کو نکال لیا گیا ۔امارات کی فجیرہ بندرگاہ کے قریب ایک بحری جہاز کو نشانہ بنایا گیا ہے۔خطے کی سکیورٹی صورتحال کے باعث ایئر فرانس نے دبئی‘ ریاض اوربیروت کے لیے پروازیں معطل کر دیں۔

اہم خبریں سے مزید