• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایران کو جنگ شروع ہونے سے پہلے ہی ناگزیر ہونے کا یقین تھا، ایرانی وزیر خارجہ

کراچی (رفیق مانگٹ) ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے 40 روزہ جنگ کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ تہران کو جنگ کے آغاز سے قبل ہی اس کے ناگزیر ہونے کا یقین تھا، جوہری مذاکرات سفارتی راستہ مکمل کرنے کے لیے کیے،افزودگی  تنازع پر  جنگ کی قیمت پر بھی مؤقف برقرار رکھا،سپریم  کونسل نے کوڈ 110سمیت جوابی منصوبے پہلے سے تیار کیے، فوری  خلیجی ممالک کو امریکی اڈوں پر حملوں سے آگاہ کیا،ایران نے پورے خطے میں جوابی کارروائیوں کے منصوبے پہلے سے تیار کر رکھے تھے، اور امریکہ-اسرائیل کے متوقع حملے سے قبل آخری لمحوں میں جوہری مذاکرات میں شرکت محض سفارتی راستہ مکمل کرنے کے لیے کی گئی۔ انہوں نے جنگی تیاریوں، ابتدائی تباہ کن حملوں، علاقائی ردعمل، خفیہ سفارت کاری، داخلی کمزوریوں، اور بالآخر جنگ بندی قبول کرنے کے اسباب سمیت اہم نکات پر روشنی ڈالی۔فلم ساز جواد مگوئی کے ساتھ ایک طویل انٹرویو میں عراقچی نے کہا ایران کو مذاکرات ختم ہونے سے پہلے ہی جنگ کا یقین تھا۔ایران نے قیادت کے شہید ہو جانے کی صورت میں جوابی منصوبہ پہلے سے بنا رکھا تھا-ایرانی وزیر خارجہ نے بتایا کہ سیاسی و عسکری قیادت کو پہلے ہی یقین ہو چکا تھا کہ حملہ ہونے والا ہے، اس کے باوجود تہران نے مذاکرات کے تین ادوار میں شرکت کی تاکہ جنگ سے بچنے کا امکان ختم نہ ہو اور بعد میں ایران پر سفارت کاری سے انکار کا الزام نہ آئے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بنیادی تنازع افزودگی کے مسئلے پر تھا، جہاں امریکہ نے صفر افزودگی یا طویل معطلی کا مطالبہ کیا، جسے ایران نے جنگ کی قیمت پر بھی مسترد کر دیا۔انہوں نے کہا کہ جنیوا میں آخری مذاکراتی دور کے بعد جنگ یقینی نظر آنے لگی تھی۔ عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی نے واشنگٹن جا کر خبردار کیا کہ وہاں کا ماحول مکمل طور پر جنگ کے حق میں ہو چکا ہے، جبکہ عراقچی نے امریکی قیادت تک براہ راست مؤقف پہنچانے کی بھی کوشش کی۔ عراقچی کے مطابق ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل نے مختلف ممکنہ منظرناموں کے لیے پیشگی تحریری منصوبے تیار کیے تھے، جن میں صرف امریکی حملہ، مشترکہ امریکی-اسرائیلی کارروائی، انفراسٹرکچر پر حملے اور حتیٰ کہ ایرانی قیادت کے قتل تک شامل تھا۔ اس آخری صورتحال کو کوڈ 110دیا گیا تھا، جس کے تحت آبنائے ہرمز بند کرنے اور وسیع علاقائی ردعمل کو فوری فعال کرنے کا منصوبہ تھا۔ابتدائی حملے کے حوالے سے عراقچی نے انکشاف کیا کہ وہ خود اس حملے میں بال بال بچے۔ صبح کے وقت لیڈرشپ کمپاؤنڈ میں موجودگی کے دوران اچانک متعدد دھماکے ہوئے، عمارتیں منہدم ہوئیں اور وہ ملبے کے درمیان سے نکل کر محفوظ مقام تک پہنچے۔ انہوں نے کہا کہ ان حملوں نے اعلیٰ فوجی اور انٹیلیجنس قیادت کو نشانہ بنایا، جس سے ایک بڑی سکیورٹی خلاف ورزی ظاہر ہوئی۔ایرانی وزیر خارجہ نے بتایا کہ حملے کے چند گھنٹوں کے اندر انہوں نے خلیجی ممالک کے وزرائے خارجہ سے رابطہ کر کے واضح کر دیا کہ ان کی سرزمین پر موجود امریکی اڈے نشانہ بن سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جنگ سے پہلے بھی خطے کو خبردار کیا گیا تھا کہ ایران کے جوہری یا تیل کے انفراسٹرکچر پر حملہ ہوا تو متناسب جواب دیا جائے گا اور تیل کی برآمدات روکنے کی صورت میں پورا خطہ متاثر ہوگا۔عراقچی کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کو یقین تھا کہ ایران ایک ماہ کے اندر گر جائے گا اور علاقائی ممالک کو کہا گیا تھا کہ وہ محدود مدت تک ایرانی ردعمل برداشت کریں۔ تاہم جب ابتدائی جنگ اس مقصد میں ناکام رہی تو اسرائیل نے حکمت عملی تبدیل کر کے طویل جنگ، سماجی بنیاد کو کمزور کرنے اور قیادت کو نشانہ بنانے کا منصوبہ بنایا۔انہوں نے جنگ سے قبل ایران کی داخلی ناکامیوں کو بھی تسلیم کیا، خاص طور پر جنوری کے احتجاجی مظاہروں کے حوالے سے، جہاں حکام صورتحال کا درست اندازہ لگانے میں ناکام رہے۔

اہم خبریں سے مزید