اسلام آباد( خالد مصطفیٰ)اوگرا ایندھن کی قیمتوں کا خود مختارانہ نوٹیفکیشن جاری کرے گا،وفاقی حکومت نے پاکستان کے پیٹرولیم پرائسنگ نظام (قیمتوں کے تعین کے ڈھانچے) میں اب تک کی سب سے بڑی اصلاحات کی پالیسی گائیڈ لائنز کا اعلان کر دیا ہے۔پی ایس او کو ہائی اسپیڈ ڈیزل کی درآمد کے خصوصی حقوق مل گئے، اس کے تحت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں وقفے وقفے سے کی جانے والی تبدیلیوں کی بجائے روزانہ کی بنیاد پر مارکیٹ سے منسلک نظام اپنایا جائے گا۔ اس فیصلے کے تحت آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (OGRA) کو ایکس ڈیپو قیمتوں کا مستقل اور خود مختارانہ نوٹیفکیشن جاری کرنے کا اختیار دیا گیا ہے، جبکہ مالی سال 2026-27 کے دوران پاکستان اسٹیٹ آئل (PSO) کو ہائی اسپیڈ ڈیزل (HSD) کی درآمد کے خصوصی حقوق دیدیے گئے ہیں۔اوگرا آرڈیننس 2002 کے سیکشن 21 کے تحت جاری کی جانے والی پالیسی گائیڈ لائنز میں آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (OMCs) کے لیے سخت تعمیل (rules compliance) کے قواعد بھی متعارف کرائے گئے ہیں۔ اگر کوئی بھی کمپنی اپنے وعدے کے مطابق پیٹرول درآمد کرنے میں ناکام رہتی ہے یا ملکی ریفائنریوں سے طے شدہ مقدار میں تیل نہیں اٹھاتی، تو اس پر 9 ماہ کے لیے درآمدی کوٹہ کی پابندی عائد کر دی جائے گ۔ جمعے کو جاری کردہ قیمتیں ہفتہ اور اتوار کے اختتامِ ہفتہ (Weekend) پر نافذ العمل رہیں گی۔ پیٹرولیم لیوی وفاقی کابینہ کی منظور کردہ حد کے اندر رہے گی۔ مالی سال کے دوران اس لیوی میں کسی بھی ترمیم کے لیے وزارتِ خزانہ کی منظوری لازمی ہوگی۔ڈیزل (HSD) کے معاملے میں بھی نئے کارگو کی درآمد کی صورت میں واقعی درآمدی پریمیم لاگو ہوگا۔ اگر 7 دنوں میں کوئی کارگو نہ آیا ہو تو کویت پیٹرولیم کارپوریشن (KPC) کے ساتھ پی ایس او کے طویل المدتی معاہدے کے پریمیم کو بینچ مارک بنایا جائے گا۔ڈیزل کی درآمد پر پی ایس او کا اجارہ اور او ایم سیز پر سختیاںسب سے اہم تجارتی اقدامات میں مالی سال 2026-27 کے لیے ڈیزل کی درآمد کا حق صرف پی ایس او کو دینا شامل ہے، جس سے نجی کمپنیوں (OMCs) پر ڈیزل درآمد کرنے کی پابندی لگ جائے گی۔ حکام کے مطابق اس کا مقصد درآمدات کو ایک جگہ مرکوز کرنا اور ایندھن کے اسٹریٹجک ذخائر کو محفوظ بنانا ہے۔اس کے علاوہ، پیٹرول (Motor Spirit) درآمد کرنے والی پرائیویٹ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں پر بھی سخت نگرانی رکھی جائے گی۔ کمپنیوں کے لیے مارکیٹ شیئر کے مطابق پیٹرول درآمد کرنا اور ملکی ریفائنریوں سے تیل اٹھانا لازمی ہوگا۔ اگر کوئی کمپنی طے شدہ مہینے میں پیٹرول درآمد نہیں کرتی یا ریفائنری سے ایندھن نہیں اٹھاتی تو اسے 9 ماہ کے لیے درآمدی کوٹہ حاصل کرنے سے نااہل (Disqualify) قرار دے دیا جائے گاتاہم، انڈسٹری ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کو عملی جامہ پہنانے میں رکاوٹیں آئیں گی۔ روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں کے تغیر سے آئل کمپنیوں، ڈیلروں اور ڈیجیٹل پیمنٹ سسٹمز کو اپنی قیمتیں فوری اپ ڈیٹ کرنی ہوں گی۔ کمپنیاں نظام لاگو ہونے سے پہلے انوینٹری کی قیمت، ٹیکسیشن اور عملی طریقہ کار کے حوالے سے مزید وضاحت چاہتی ہیں۔اوگرا کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس نظام کو نافذ کرنے سے پہلے جامع گائیڈ لائنز تیار کرے۔ اگر یہ اصلاحات لاگو ہو جاتی ہیں تو یہ پیٹرولیم پرائسنگ کے نظام کو مزید شفاف اور مارکیٹ سے منسلک بنانے کی سمت ایک بڑا قدم ہوں گی۔