کراچی (ٹی وی رپورٹ) چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ میں نہیں چاہتا کہ کراچی جیسی ہڑتالوں کی سیاست کا سامنا کشمیر کو بھی کرنا پڑے۔ اس وقت تو پورے آزاد کشمیر میں انٹرنیٹ پر پابندی ہے میری پارٹی الیکشن کمیشن میں اس حوالے سے درخواست دے رہی ہے کہ اس پابندی کو صرف سیکورٹی چینلجز والے علاقوں تک محدود رکھا جائے یہ جو پورا آزاد کشمیر 40 دن سے پابندی کا شکار ہے اس کا خاتمہ ہونا چاہئے اگر صورتحال یہی رہی تو پھر آزاد کشمیر کے عوام اٹھتے بیٹھتے گالی دیں گے،زاد کشمیر الیکشن فری اینڈ فیئر ہوں گے کے حوالے سے سوال کے جواب میں بلاول بھٹو نے کہا میرا خیال ہے اتنے ہی فری اینڈ فیئر ہوں گے جتنے پاکستان کے الیکشن رہے ہیں فری اینڈ فیئر ،2024کے انتخابات کے حوالے سے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا بالکل متنازعہ انتخابات تھے کوشش ہونی چاہئے کہ آنے والے الیکشن میں پچھلے الیکشن سے زیادہ بھروسہ ہو، مولانا فضل الرحمان کی میرے دل میں بہت عزت ہے ان کی تقریر سے جو تاثر گیا ہے میں چاہوں گا کہ نہ جائے اور اس تاثر کو دور مولانا صاحب ہی کرسکتے ہیں اگر وہ چاہیں تو لفظوں کا چناؤ بہتر ہوسکتا ہے بلوچستان کی صورتحال بھی وہ جانتے ہیں کے پی کی صورتحال سے بھی وہ واقف ہیں اس موقع پر ان کی تقریر سے جو تاثر آیا وہ درست نہیں امید ہے کہ مولانا اپنے اس بیان پر غور کریں گے ۔ ایک انٹرویو میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ موجودہ حکومت نے کافی کامیابیاں حاصل کی ہیں جس میں کوئی دو رائے نہیں ہے مجھے علم ہے کہ وزیراعظم پوری نیک نیتی سے مسائل کو حل کررہے ہیں تاہم میں سمجھتا ہوں کہ کشمیر کے تناظر میں کچھ ایسے افراد ہیں جو وزیراعظم کو کبھی کبھار غلط گائیڈ کررہے ہیں ہماری خواہش کابینہ میں جانے کی نہیں ہے اور نہ ہی اس حوالے سے ہم نے کچھ سوچا ہے وزیراعظم کی اپنی ٹیم ہے ان کا اس پر اعتماد ہے وہ اس کو جیسا چاہیں چلائیں، پیپلز پارٹی پارلیمنٹ میں اپنا مثبت کردار ادا کررہی ہے گلگت بلتستان اور بلوچستان میں جو ہمیں حکومتی ذمہ داری ملی ہے ہم اس کو ادا کررہے ہیں اور جلد ہی آزاد کشمیر میں بھی ہمیں یہ ذمہ داری ملے گی ۔ایک انٹرویو میں بلاول بھٹو زرداری کا مزید کہنا تھا کہ آزاد کشمیر کی حکومت کے اختیار میں جو چیزیں تھیں ان پر مکمل عملدرآمد ہوا پیپلزپارٹی مہاجرین کی نمائندگی پر کبھی کوئی سمجھوتہ نہیں کرنا چاہتی کشمیر کی صورتحال تشویشناک ہے مسئلہ پرامن طریقے سے حل ہونا چاہئے کشمیری عوام کو اس تکلیف سے نکالنے کا پرامن راستہ موجود ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کشمیر کے تمام مسائل کی تحقیقات کے لئے ایک ٹرتھ کمیشن قائم کیا جانا چاہئے ٹرتھ کمیشن کا کام تحقیقات کرنا سچائی سامنے لانا اور میرٹ پر فیصلے کرنا ہوگا ٹرتھ کمیشن کے ذریعے مسائل حل کرکے کشمیریوں کو تکلیف سے بچایا جاسکتا ہے ریاست کو قائل کریں گے کہ ٹرتھ کمیشن کی رپورٹ تک مزید کارروائیاں التوا میں رکھے فارمولا قبول ہونے پر مظاہرین کمیشن کے قیام تک اپنا احتجاج موخر کردیں ۔ کشمیری عوام کو اس تکلیف سے نکالنے کا پرامن راستہ موجود ہے میں نہیں چاہتا کہ کراچی جیسی ہڑتالوں کی سیاست کا سامنا کشمیر کو بھی کرنا پڑے ۔انہوں نے کہا کشمیر کا مسئلہ صرف ان 12 سیٹوں کا نہیں بلکہ کشمیری عوام کو حاصل حقوق کی بڑی گفتگو کا حصہ ہے ۔پاکستان الیکشن نظام پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس نظام میں بہتری لانے کی ضرورت ہے جس کا اظہار میں بارہا کرچکا ہوں اور اگر آج بھی ہمیں موقع ملا جگہ ملی تو ہم اس نظام میں مزید تبدیلی لانا چاہیں گے ۔ آزاد کشمیر الیکشن فری اینڈ فیئر ہوں گے کے حوالے سے سوال کے جواب میں بلاول بھٹو نے کہا میرا خیال ہے اتنے ہی فری اینڈ فیئر ہوں گے جتنے پاکستان کے الیکشن رہے ہیں فری اینڈ فیئر ۔ ریزرو سیٹوں کے حوالے سے انہوں نے کہا ہم نہیں چاہتے تھے کہ یہ متنازعہ ہوں آئینی طور پر اگر اس کا حل ممکن نہیں تھا تو ہم نے یہ تجویز بھی دی تھی تاکہ ایک وزیر نے جو بیان دیا ہے کہ دس سیٹیں میری جیب میں ہیں ان کے اس بیان کی وجہ سے یہ تاثر نہ جائے کہ دھندلی زور زبردستی پر ان 12سیٹوں کا فیصلہ ہو ۔ ہم چاہتے ہیں کہ مختلف فیز میں الیکشن ہوں پہلے فیز میں جو آزاد کشمیر کے اندر کے علاقے ہیں وہاں الیکشن ہوں اور جو ریزرو سیٹ کے الیکشن ہوں وہ دوسرے فیز میں ہوں ۔ اس وقت تو پورے آزاد کشمیر میں انٹرنیٹ پر پابندی ہے میری پارٹی الیکشن کمیشن میں اس حوالے سے درخواست دے رہی ہے کہ اس پابندی کو صرف سیکورٹی چینلجز والے علاقوں تک محدود رکھا جائے یہ جو پورا آزاد کشمیر 40 دن سے پابندی کا شکار ہے اس کا خاتمہ ہونا چاہئے اگر صورتحال یہی رہی تو پھر آزاد کشمیر کے عوام اٹھتے بیٹھتے گالی دیں گے میں نے وفاقی حکومت سے کہا ہے کہ جو غلطی کررہے ہیں سزا ان کو ہی دی جائے ناں کہ پورے آزاد کشمیر کو ۔انہوں نے اعتراض کرنے والوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کا اعتراض ریاست آزاد کشمیر سے ہوگا ریاست پاکستان سے ہوگا اس لئے سزا پورے کشمیر کو ناں دیں میں امید کرتا ہوں کہ میری اس تجویز پر دونوں فریق غور کریں گے ۔