کراچی ( اسٹاف رپورٹر)وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔ جرائم پیشہ عناصر، دہشت گردوں، منشیات فروشوں اور بھتہ خوروں کے خلاف کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جا سکتی۔امن و امان کی صورتحال پر خصوصی اجلاس کو بتایا گیا کہ جنوری سے جون تک کے عرصے کے دوران گزشتہ سال کے اسی عرصے کی نسبت کراچی میں مجموعی اسٹریٹ کرائم میں11.77فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ ڈکیتی کے دوران ہلاکتوں میں38.3فیصد، زخمی ہونے کے واقعات میں39.1فیصد، گاڑیاں چھیننے کے واقعات میں 24.3 فیصد اور موٹر سائیکل چھیننے کے واقعات میں 27.8 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے ، تاہم موبائل فون چھیننے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے،محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) نے 777 انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیوں کے دوران کالعدم ٹی ٹی پی، بلوچ شدت پسند گروہوں اور فرقہ وارانہ تنظیموں سے تعلق رکھنے والے 355 دہشت گردوں اور جرائم پیشہ افراد کو گرفتار کیا۔تفصیلات کے مطابق پیر کووزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے صوبے میں امن و امان کی مجموعی صورتحال کا جائزہ لیا، اجلاس میں انہیں بتایا گیا کہ 2026 کے پہلے چھ ماہ کے دوران انٹیلی جنس کی بنیاد پر پولیسنگ، اداروں کے درمیان بہتر رابطہ کاری، جرائم پیشہ عناصر کے خلاف ہدفی کارروائیوں اور سرحدی سیکیورٹی کے مؤثر اقدامات کے باعث سنگین جرائم، دہشت گردی سے متعلق واقعات اور اسٹریٹ کرائم میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔اجلاس میں صوبے بھر کی سیکیورٹی صورتحال، جرائم کے رجحانات، انسداد دہشت گردی کارروائیوں، انسداد منشیات مہم، کچے کے علاقوں میں آپریشنز اور سیف سٹی پراجیکٹ اور سندھ اسمارٹ سرویلنس سسٹم (ایس فور) سمیت جدید نگرانی کے نظام کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔وزیراعلیٰ ہاؤس میں منعقدہ اجلاس میں صوبائی وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار، سیکریٹری داخلہ اقبال میمن، انسپکٹر جنرل پولیس جاوید عالم اوڈھو، ایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس کراچی آزاد خان اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ امن و امان کی مجموعی صورتحال میں بہتری پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو موجودہ رفتار برقرار رکھنے اور انسدادی پولیسنگ کو مزید مؤثر بنانے کی ہدایت کی۔انہوں نے کہا کہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔ جرائم پیشہ عناصر، دہشت گردوں، منشیات فروشوں اور بھتہ خوروں کے خلاف کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جا سکتی۔ وزیراعلیٰ نے پولیس اور انٹیلی جنس اداروں کو انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیاں مزید تیز کرنے، جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے نگرانی کا نظام مضبوط بنانے، بین الصوبائی سرحدوں پر مؤثر مانیٹرنگ یقینی بنانے اور موبائل فون چھیننے اور اسٹریٹ کرائم کے ہاٹ اسپاٹس کے خلاف مؤثر کارروائی کی ہدایت کی۔