گھارو( نامہ نگار )گھارو کے قریب میرپور ساکرو گولائی پر کراچی واٹر بورڈ کی 27ایکڑ اراضی پر قبضے کے بعد دکانوں مکانوں کے لیے بولیاں لگنے لگیں انتظامیہ نے مجرمانہ خاموشی اختیار کر لی۔ تفصیلات کے مطابق کراچی واٹر بورڈ نے1956 سے قبل چلیا تا کراچی کی حدود تک 7000سات ہزار ایکڑ اراضی کراچی کو پانی کی فراہمی کیلئے ریونیو حکام سے خریدی تھی اور اسکی مکمل دستاویزات واٹر بورڈ انتظامیہ کے پاس موجود ہیں اور اس زمینوں کا انتخاب یورپ کے ماہرین کی ٹیم نے کئی سالوں کی تحقیق کے بعد تجویز کی تھی جس سے کراچی کو روانی کے ساتھ پانی فراہمی ممکن ہے جسکے بعد مذکورہ اراضی کا انتخاب کیا گیا تھا جس میں میرپور ساکرو گولائی پر واٹر بورڈ کی 27ایکڑ اراضی موجود ہے جس کے زیر زمین پانی کی 3لائنیں موجود ہیں اور جہاں جہاں سے لائنیں جا رہی ہیں لائنوں کے دونوں اطراف 500فٹ اراضی واٹر بورڈ کی اراضی ہے مگر بااثر مافیا نے ایک شخص جنکی اراضی واٹر بورڈ کی اراضی کے ساتھ لگتی ہے ان کی اراضی کی آڑ میں واٹر بورڈ کی اراضی پر قبضہ کر کے اسے فروخت کرنا چا رہے ہیں انھوں نے پہلے واٹر بورڈ کی اراضی پر 500سے زائد تاجروں جن میں دوکاندار ہوٹلز کیبن اسٹالز والے شامل ہیں انکو دباؤ ڈال کر وہاں سے بیدخل کر کے وہاں منوں مٹی کی بھروائی کرا دی ہے اور اب اس اراضی کو فروخت کرنے کے لیے بولیاں لگانے کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے قابل توجہ امر یہ ہے کہ واٹر بورڈ کے اعلی حکام نے ان مقامات کا دورہ کرنے کے بعد فوری کارروائی کرنے کے بجائے مجرمانہ خاموشی اختیار کر لی ہے اسی طرح مقامی انتظامیہ جو آئے دن تجاوزات کے خلاف آپریشن کرتی نظر آتی ہے نے بھی اس معاملے سے نظر پوشی اختیار کر رکھی ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ واٹر بورڈ کو دیکھنے والی ہائر اتھارٹی واٹر بورڈ کے ایم ڈی وزیراعلی سندھ چیف سیکریٹری سندھ اس معاملے کا نوٹس لیں اور فوری طور پر واٹر بورڈ کی اراضی سے قبضہ ختم کرایا جائے اور ملوث مافیا کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے۔