• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ میں تاخیر پر سینیٹ کمیٹی کا اظہار تشویش

اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اکنامک افیئرز کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس سینیٹر سید وقار مہدی کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا، جس میں واپڈا کے زیرِ انتظام مختلف آبی بجلی منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ میں تاخیر پرتشویش کا اظہار کیا گیا۔ اجلاس میں ہدایت اللہ، روبینہ خالد، اور سینئر حکام نے شرکت کی۔ کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ گزشتہ اجلاس میں پنجاب اور بلوچستان کے منصوبوں کا جائزہ لیا گیا تھا، جبکہ موجودہ اجلاس میں سندھ اور خیبرپختونخوا کے منصوبوں پر غور کیا گیا۔ آبی وسائل ڈویژن اور واپڈا کے حکام نے داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ (اسٹیج-I) پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ منصوبے کی مالی معاونت ورلڈ بینک، غیر ملکی و مقامی کمرشل قرضوں اور واپڈا کی ایکویٹی سے کی جا رہی ہے۔ حکام کے مطابق منصوبے میں تاخیر کی وجوہات میں 2015سے 2019تک اراضی کے حصول کے مسائل، 2020سے 2021کے دوران کورونا وبا، 2022سے 2024تک سکیورٹی سے متعلق واقعات اور بعد ازاں ڈیزائن میں متعدد تبدیلیاں شامل ہیں۔ کنوینر کمیٹی سینیٹر سید وقار مہدی نے منصوبے میں طویل تاخیر پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت کو متعدد بار خطوط ارسال کئے گئے، تاہم پانچ سال تک منصوبہ تعطل کا شکار رہا، جس کے باعث اس کی لاگت میں نمایاں اضافہ ہوا اور قومی خزانے پر بھاری مالی بوجھ پڑا۔ انہوں نے کہا کہ منصوبے کو شروع ہوئے بارہ برس گزر چکے ہیں، مگر اس کی تکمیل کا حتمی وقت اب بھی واضح نہیں۔مہمند ڈیم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ پر بریفنگ دیتے ہوئے حکام نے بتایا کہ منصوبے کا تقریباً 54 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔
اہم خبریں سے مزید