• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایران پر شدید بمباری، تہران کے جوابی حملے تیز، میزائل نظام، ریڈار تنصیبات، F15 طیارہ نشانہ

تہران /واشنگٹن (اے ایف پی /نیوز ڈیسک ) امریکی افواج نے منگل کو ایران کی کئی بندرگاہوں اور شہروں پر نئے فضائی حملوں کے دوران شدید بمباری کی جس کے جواب میں تہران نے بھی عرب ریاستوں میں امریکی اہداف کوزیادہ طاقت سے نشانہ بنایا۔ایران کا کہنا ہے کہ اس نے کویت اور بحرین میں امریکا کے میزائل نظام اور متعدد ریڈار تنصیبات کو نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ اردن میں امریکی ایف 15 طیارہ تباہ کردیا ہے‘ پاسداران نے دعویٰ کیاکہ اردن میں آرمی کمپلیکس پر حملوں میں متعدد امریکی فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔عراق کے اربیل ایئرپورٹ پر فضائی آپریشن عارضی طور پر معطل کردیاگیا‘قطر نے اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کو بھیجے گئے خطوط میں اپنی سرزمین پر حملوں کی ذمہ داری ایران پر عائد کرتے ہوئے ہرجانے کا مطالبہ کیا ہے۔حوثی جنگجوؤںکی دھمکی کے بعد بحیرہ احمر میں سفر کے دوران دو سعوی آئل ٹینکر واپس مڑ گئےجبکہ حوثی جنگجوؤں نےشپنگ کمپنیوں کووارننگ بھی جاری کر دی جس میں کہا گیا ہے کہ سعودی بندر گاہوں سے تیل وکارگولانے لے جانے والے بحری جہازوں کو کسی بھی جگہ پر نشانہ بنایا جاسکتا ہے ۔امریکی صدرڈونلڈٹرمپ کا کہنا ہے کہ جب تک ایران بامعنی مذاکرات کے لیے تیار نہیں ہوتا ہمیں کوئی دلچسپی نہیں‘ایران پر حملے ابھی ختم نہیں ہوئے‘ ہمارااگلاہدف ’’پک ایکس ماؤنٹین ‘‘نامی زیرزمین جوہری کمپلیکس ہو سکتا ہے‘ ہم بہت جلد اور انتہائی شدت کے ساتھ اس کونشانہ بنائیں گے۔ اگر حوثیوں نے سعودی بندرگاہوں کی ناکابندی کی تو ان سے نمٹ لیں گے‘ پاسدارانِ انقلاب نے کہا کہ ہرمز سے گزرنے کی کوشش کرنے والے دو ٹینکرز دھماکوں کی زد میں آئے جس سےشدید آگ لگ گئی اور وہ مکمل طور پر رک گئے۔پنٹاگون کے مطابق اس ماہ مشرقِ وسطیٰ میں فوجی اڈوں پر ایران کےفضائی حملوں میں تقریباً 100 امریکی فوجی اہلکار زخمی ہوئے ہیں جبکہ امریکی وزیردفاع کاکہنا ہے کہ ایران جنگ پر اب تک37.5ارب ڈالر خرچ ہوچکے ہیں‘ہرمز میںجہاز پر حملےکے بعد کویت نے ایرانی سفیر کو طلب کر لیاجبکہ توانائی ڈھانچے پر ایرانی حملوں کے بعد ملک میں بجلی کی بچت کے اقدامات شروع کردیئے ہیں ‘ملک میں بجلی بریک ڈاؤن کا خطرہ بڑھ گیاہے ‘آئی آر جی سی نے خبردار کیاہے کہ امریکی جارحیت جاری رہنے تک آبنائے ہرمز بند رہے گی۔ نہ ایک قطرہ تیل یا گیس برآمد ہونے دیا جائے گا اور نہ ہی کیمیائی کھاد کا ایک بھی پیکٹ۔ صدر مسعودپزشکیان کا کہنا ہے کہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے ساتھ ان کے روابط میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔عالمی توانائی ایجنسی کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں لڑائی نے توانائی کی فراہمی سے متعلق خدشات بڑھا دیئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق اوول آفس میں لبنان کے صدر جوزف عون سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں صدرٹرمپ نے ایک بار پھر دعویٰ کیا ہے کہ ایران مذاکرات کے بے تاب ہے تاہم ان کا کہنا تھاکہ جب تک وہ بامعنی بات چیت کے لیے تیار نہیں ہوتے، ہمیں کوئی دلچسپی نہیں‘امریکی صدر نے جوہری ہتھیاروں کو ایران کے ساتھ تنازع کی وجہ قرار دیتے ہوئے کہاکہ یہ سب جو کچھ ہو رہا ہے، اس کی وجہ جوہری ہتھیار ہیں۔ اگر وہ کسی تنصیب کو دوبارہ فعال کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو ہم اس تنصیب کو نشانہ بنائیں گے۔ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سچ تو یہ ہے کہ انہوں نے ابھی کچھ دیکھا ہی نہیں۔ ہم اب تک نرم رویہ اختیار کیے ہوئے تھے ۔ موجودہ نقصان کے بعد ایران کی تعمیرنو میں 20 سے 25 سال لگیں گےاوراور ہم ابھی بالکل فارغ نہیں ہوئے‘ ہم اس وقت واپس نہیں جا رہے۔

اہم خبریں سے مزید