کراچی (اسٹاف رپورٹر) ایف پی سی سی آئی نے ویزا سفارشات سے متعلق الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس خبر میں بیان کردہ تمام الزامات بے بنیاد ہیں ،تفصیلات کے مطابق فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے سیکریٹری جنرل نے تجارتی وفد کی آڑ میں ویزوں کی مبینہ فروخت اور انسانی اسمگلنگ میں ایف پی سی سی آئی کے عہدیداروں کے ملوث ہونے کا الزام بارے شائع خبرکی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی اعلیٰ ترین تجارتی تنظیم پر الزامات کو من گھڑت، بدنیتی پر مبنی اور حقائق کے منافی ہیں یہ نظام 2023 سے ملک میں موجود تمام سفارت خانوں اور قونصل خانوں کے ساتھ نافذ العمل ہے۔ چونکہ ایف پی سی سی آئی نے ایسی کوئی سفارش جاری ہی نہیں کی، اس لیے کسی دوست ملک کے لیے مبینہ طور پر بھاری رقوم کے عوض دو درجن ویزے جاری کرانے، بعد ازاں ویزوں کے مسترد ہونے اور انکوائری شروع ہونے کے تمام الزامات سراسر بے بنیاد ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ مبینہ اسکینڈل کے حوالے سے حکومت کے کسی بھی ادارے کی جانب سے ایف پی سی سی آئی سے کوئی رابطہ نہیں کیا گیا، نہ ہی کسی قسم کی تحقیقات کے بارے میں آگاہ کیا گیا، اور نہ ہی ایف پی سی سی آئی نے حکومت کو اس معاملے میں اندرونی تحقیقات کرانے کی کوئی یقین دہانی کرائی ہے، ایف پی سی سی آئی نے کہا کہ یہ ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی ایک کوشش ہے۔ ایف پی سی سی آئی نے اس بے بنیاد خبر کی اشاعت کی شدید مذمت کی ہے۔سیکریٹری جنرل نے کہا کہ مذکورہ خبر سراسر جھوٹی، حقائق کے منافی اور مکمل طور پر بے بنیاد ہے،سیکریٹری جنرل ایف پی سی سی آئی نے مزید وضاحت کی کہ ملک بھر میں 300 سے زائد تجارتی تنظیمیں موجود ہیں جن میں 31 ویمن چیمبرز آف کامرس بھی شامل ہیں، اور یہ تمام ادارے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ٹریڈ آرگنائزیشنز سے باقاعدہ لائسنس یافتہ اور آزاد حیثیت کے حامل ہیں۔ یہ تنظیمیں اپنی انتظامی اور قانونی حیثیت میں خودمختار ہیں، لہٰذا ایف پی سی سی آئی اپنی الحاق شدہ تجارتی تنظیموں کے اقدامات کی ذمہ دار نہیں ہے۔