کراچی (رفیق مانگٹ)بھارت میں جین زی کی بغاوت، کیا مودی کے گرد گھیرا تنگ ہو رہا ہے؟ احتجاج میں شدت، مودی حکومت کو تیسری مدت کا بڑا چیلنج درپیش،نوجوانوں میں غم وغصہ بڑھنے لگا، نوجوانوں کی نمائندہ تنظیم ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کی تحریک نےامتحانی اسکینڈل سے اٹھ کر حکومتی احتساب کا مطالبہ کردیا،سونم وانگ چک کی بھوک ہڑتال اور جبری منتقلی نے احتجاجی تحریک کو مزید تقویت دی ۔ تفصیلات کے مطابق بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں جاری احتجاجی تحریک نے سیاسی درجہ حرارت بڑھا دیا ہے، جہاں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے پلیٹ فارم سے ابھرنے والا غصہ حکومت کے لیے ایک نمایاں چیلنج بن کر سامنے آیا ہے۔ برطانوی نیوز ایجنسی کے مطابق یہ تحریک وزیراعظم مودی کی تیسری مدت میں اب تک کا سب سے بڑا عوامی دباؤ تصور کی جا رہی ہے، جس کی بنیاد امتحانی اسکینڈل، بے روزگاری اور تعلیمی نظام پر عدم اعتماد ہے۔پارلیمنٹ کی جانب مارچ کے دوران مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے بعد صورتحال کشیدہ رہی، سرکاری اعداد و شمار کے مطابق تصادم میں کم از کم 180 افراد زخمی ہوئے، جن میں 118 پولیس اہلکار اور 60 مظاہرین شامل تھے، جبکہ شہر کے حساس علاقوں میں موبائل انٹرنیٹ معطل کیا گیا۔ مظاہرین کا بنیادی مطالبہ وزیر تعلیم کا استعفیٰ ہے۔تحریک کی قیادت نوجوانوں کے ہاتھ میں ہے اور اسے وسیع پیمانے پر جنریشن زی کی آواز قرار دیا جا رہا ہے۔ ڈی ڈبلیو کے مطابق یہ تحریک ابتدا میں ایک طنزیہ آن لائن مہم تھی، مگر تیزی سے سڑکوں کی ایک منظم احتجاجی لہر میں تبدیل ہو گئی، جو نوجوانوں میں روزگار کے مواقع کی کمی اور تعلیمی بحران کے خلاف گہرے غصے کی عکاسی کرتی ہے۔