• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ڈومیسٹک کرکٹ بحران میں، 7 ڈپارٹمنٹس کا بھاری فیس دینے سے انکار، پی سی بی متبادل ٹیمیں لانے کو تیار

کراچی (عبدالماجدبھٹی) پاکستان کرکٹ بورڈ کا نئے ڈومیسٹک سیزن کے آغاز سے قبل مشکل صورتحال کا سامنا ہے۔ کئی محکموں نے ڈیڑھ کروڑ روپے کی فیس زیادہ قرار دے کر ڈپارٹمنٹس کا فرسٹ کلاس ٹورنامنٹ پریذیڈنٹ ٹرافی گریڈ ون اور ون ڈے ٹورنامنٹ نہ کھیلنے کی دھمکی دیدی، پی سی بی نے بلیک میلنگ میں آنے سے انکار کرتے ہوئے وارننگ دی ہے کہ اگر کوئی ڈپارٹمنٹ سالانہ فیس ادا نہیں کرے گا تو اس کی جگہ متبادل ڈپارٹمنٹس کو شامل کیا جائے گا۔ امریکی مالکان کی ٹیم کنگز مین اور او جی ڈی سی ایل نے ان کی جگہ کھیلنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ میٹنگ میں کئی ڈپارٹمنٹس نے فیس کو زیادہ قرار دے دیا ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پی سی بی نے ڈپارٹمنٹس سے بلیک میل نہ ہونے اور بے ضابطگیوں کی شکایات کے بعد ڈپارٹمنٹس کا آڈٹ کرانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ باخبر ذرائع کا دعویٰ ہے کہ 8 میں سے7 ڈپارٹمنٹس کی ٹیموں نے پی سی بی کے فیصلے کے خلاف اس سال ٹورنامنٹ نہ کھیلنے کی دھمکی دے دی۔ ان کا کہنا کہ وہ سالانہ کروڑوں روپے کھلاڑیوں کی تنخواہوں اور ان کے طعام و قیام پر خرچ کرتے ہیں۔ ڈیڑھ کروڑ روپے کی سالانہ فیس بہت زیادہ ہے۔ حددرجہ مصدقہ ذرائع کا کہنا ہے کہ ویڈیو لنک پر ہونے والی میٹنگ میں مشیر برائے ڈومیسٹک خرم نیازی اور جنرل منیجر ڈومیسٹک اسامہ شارون نیازی نے ڈپارٹمنٹس کے نمائندوں کے ساتھ شرکت کی تاہم فیس کے معاملے میں لچک دکھانے سے انکارکردیا۔ پی سی بی نے ٹیموں کو گیندیں دینے کا اعلان کیا ۔ کوکابرا کی ایک وائٹ بال کی قیمت48 ہزار اور ریڈ بال کی قیمت بیس ہزار روپے ہے۔ تاہم میچ ریفری، امپائروں ،لائی اسٹریمنگ کی فیس ڈپارٹمنٹس کو ادا کرنی ہوگی۔ ذرائع کے مطابق ایک جانب ڈپارٹمنٹ دھمکیاں دے کر میٹنگ سے چلے گئے تو دوسری جانب کم از کم پانچ ڈپارٹمنٹس نے پی سی بی کو فیس ادا کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ پی سی بی کو شکایات ملی ہیں کہ کچھ ڈپارٹمنٹ میرٹ کو نظر انداز کررہے ہیں، سلیکشن میں گڑ بڑ کی جاتی ہے اور کھلاڑیوں کو معاوضے کی ادائیگیاں بھی نہیں کی جاتی۔ چئیرمین محسن نقوی نے ڈسپلن پر سودے بازی نہ کرنے کی ہدایت کی ہوئی ہے۔

اسپورٹس سے مزید