تہران /واشنگٹن (اے ایف پی /نیوز ڈیسک ) بحیرہ احمر میں سعودی تیل بردار بحری جہاز پر حملے کے بعد آگ بھڑک اٹھی جبکہ 10 جہازوں نے اپنا راستہ بدل لیا ‘حوثی جنگجوؤں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے دو سعودی آئل ٹینکرز کو نشانہ بنایا ہے‘ اگر یمن کی ناکہ بندی ختم نہ ہوئی تو آرامکو کی تیل تنصیبات بھی ہدف بن سکتی ہیں۔عراق کے وزیراعظم علی زیدی صدر مسعود پزشکیان کی دعوت پر ایک وفد کے ساتھ ایران پہنچے ہیں جبکہ پاسداران نے دعویٰ کیا ہے کہ ہرمز میں ایک جہاز بارودی سرنگ سے ٹکرا گیا جبکہ دیگر دو جہاز واپس مڑگئے ‘ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ ایران کے خلاف دوبارہ بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں شروع کرنے پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں‘واشنگٹن اور ریاض کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری سعودیہ کی معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط ہوگی۔حوثیوں کے اقدامات کا ذمہ دار ایران ہوگا اور دونوں کو جلد ہی بڑی فوجی سزا ملے گی‘ دوسری جانب سپریم لیڈرمجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر محسن رضائی کا کہناہے کہ ٹرمپ کی دھمکیاں مایوسی اور بوکھلاہٹ کی علامت ہیں ‘اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتن یاہو نے معاہدہ ابراہیمی میں سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو مشرق وسطیٰ میں امن کیلئے تاریخی پیشرفت قرار دیا ہے۔ امریکی ایوانِ نمائندگان نے جمعرات کے روز ایک علامتی قرارداد کی منظوری دی جس میں ٹرمپ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کانگریس کی منظوری کےبغیر ایران کے خلاف کارروائی روک دیں تاہم چند گھنٹوں بعد ہی سینیٹ نے ایران سے متعلق امریکی صدرکے جنگی اختیارات محدودکرنے سے متعلق قرارداد مسترد کر دی‘ پاسداران نے یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ امریکا نے ایران پر حملے کے لیے برطانیہ کے فیئرفورڈ فضائی اڈے پر موجودبی ون بمبار طیاروں کا استعمال کیا، لندن کو خبردار کیا کہ ایران کی سرزمین پر حملے کے لیے استعمال ہونے والا کوئی بھی اڈہ جائز ہدف ہوگا۔دوسری جانب برطانیہ نے کہاہے کہ اس کی مسلح افواج ملکی دفاع کیلئے ہروقت تیار ہیں ‘اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے متنبہ کیاہے کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال بے قابو ہو رہی ہے اور ناقابل تصورتصور تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے‘ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیاہے کہ ہمیں ثالثوں سے کوئی مسئلہ نہیں ‘ امریکا کو اپنا استعماری وغاصبانہ رویہ بدلنے کی ضرورت ہے ۔ ایرانی فوج کے ترجمان محمد اکرم نیا نے واضح کیاکہ مسلح افواج کے جوابی حملے اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک ملک کے بنیادی ڈھانچے اور ساحلی علاقوں پر امریکی حملے بند نہیں ہوتے‘امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے الزام عائدکیا کہ حوثیوں کو جہازوں پر حملہ کرنے کے لیے ایران نے اکسایا‘ایران کی ادا کی جانے والی قیمت ہر رات بڑھتی جائے گی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران نے رواں ماہ میزائل و ڈرون سے متعلق سازوسامان یمن منتقل کیا۔معاملے سے واقف چار ذرائع نے بتایا کہ ایران نے 13 جولائی کو تہران سے یمن جانے والی ایک پرواز کے ذریعے پاسداران کے اہلکاروں اور فوجی سامان کو منتقل کیا۔دو ایرانی ذرائع نے برطانوی نیوز ایجنسی کو بتایاکہ ماہان ایئر کی اس پرواز میں آئی آر جی سی کےسینئر کمانڈرزسمیت 10سے 21اہلکار موجود تھے۔