کراچی(مطلوب حسین )شہر میں معصوم بچے درندہ صفت انسانوں کے رحم و کرم پر،کھیل کے میدانوں کی کمی، سماجی بے حسی، کمزور حفاظتی نظام اور انصاف میں تاخیر نے بچوں کو غیر محفوظ بنا دیاکراچی سمیت ملک کے مختلف شہروں میں بچوں کے خلاف جنسی تشدد، اغوا اور قتل کے واقعات مسلسل تشویش کا باعث بن رہے ہیں۔ معصوم بچے، جنہیں محفوظ ماحول، کھیل کے میدان اور تعلیمی سرگرمیوں کی ضرورت ہوتی ہے، اکثر گھروں سے باہر گلیوں، سڑکوں یا ویران مقامات پر کھیلنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ یہی وہ ماحول ہے جہاں بعض مجرمانہ ذہنیت رکھنے والے افراد ان کی کم عمری، معصومیت اور بے بسی کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ماہرین کے مطابق بچوں کے لیے محفوظ کھیل کے میدانوں کی کمی، والدین کی معاشی مصروفیات، آبادی میں اضافہ، منشیات کے بڑھتے استعمال، اور بچوں کے تحفظ کے مؤثر نظام کا فقدان ایسے عوامل ہیں جو بچوں کو خطرات سے دوچار کرتے ہیں۔ اکثر بچے کھیلتے کھیلتے گھر سے دور نکل جاتے ہیں اور پھر کسی مجرم کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں۔ یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ اکثر ایسے واقعات میں بچے کے انتہائی قریب لوگ، جن میں بعض اوقات رشتہ دار، پڑوسی، جاننے والے یا گھر کے اندر موجود افرادملوث پائے جاتے ہیں یا کم از کم ان تک رسائی رکھتے ہیں، جس سے ان جرائم کی سنگینی اور بھی بڑھ جاتی ہے۔گزشتہ چند برسوں کے دوران کراچی سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں ایسے کئی افسوسناک واقعات سامنے آئے جن میں کمسن بچوں کو اغوا کیا گیا، ان کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی اور بعد ازاں انہیں قتل کر دیا گیا۔ ہر واقعے کے بعد معاشرے میں غم و غصہ پیدا ہوتا ہے، احتجاج ہوتے ہیں، سوشل میڈیا پر آواز بلند کی جاتی ہے، مگر وقت گزرنے کے ساتھ معاملہ سرد پڑ جاتا ہے اور ایک نیا سانحہ پھر سب کو جھنجھوڑ دیتا ہے۔بعض مقدمات میں پولیس جدید تفتیش، سی سی ٹی وی فوٹیج، ڈی این اے شواہد اور خفیہ معلومات کی بنیاد پر ملزمان تک پہنچنے میں کامیاب بھی ہوتی ہے، لیکن انصاف کا سفر اکثر طویل ثابت ہوتا ہے۔ متاثرہ خاندان، جو پہلے ہی اپنے لختِ جگر کی جدائی کا ناقابلِ برداشت صدمہ سہہ رہے ہوتے ہیں، برسوں عدالتوں کے چکر لگاتے لگاتے ذہنی، جسمانی اور مالی طور پر نڈھال ہو جاتے ہیں۔ بعض اوقات وسائل کی کمی، سماجی دباؤ یا دیگر وجوہات کی بنا پر مقدمات کی مؤثر پیروی نہیں ہو پاتی، جس کے نتیجے میں کچھ ملزمان شواہد کی کمی یا قانونی پیچیدگیوں کی بنیاد پر بری بھی ہو جاتے ہیں۔ماہرین اطفال، ماہرین نفسیات اور سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ صرف مجرموں کی گرفتاری کافی نہیں بلکہ ایسے جرائم کی روک تھام کے لیے جامع حکمت عملی درکار ہے۔