• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایچ ای سی کمیشن کا 47 واں اجلاس، اہم فیصلے، کمزور جامعات کے کمپیوٹنگ پروگرام برقرار

کراچی (سید محمد عسکری) ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کے 47ویں کمیشن اجلاس میں اعلیٰ تعلیم کے شعبے سے متعلق متعدد اہم پالیسی فیصلوں کی منظوری دی گئی، جن کے تحت ملک بھر کی تمام سرکاری و نجی جامعات میں خزاں 2026سے انڈر گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ ڈگری پروگراموں میں مصنوعی ذہانت (AI) کا تین کریڈٹ آورز پر مشتمل لازمی کورس متعارف کرانے، نیشنل اسکلز کمپیٹنسی ٹیسٹ (NSCT) کو سال میں دو مرتبہ منعقد کرنے، کمزور کارکردگی دکھانے والی 44 جامعات میں کمپیوٹنگ پروگراموں میں داخلوں کی عارضی معطلی برقرار رکھنے، تاہم متاثرہ جامعات کے طلبہ کا لازمی دوبارہ ٹیسٹ کرانے کی سفارش، نئی جامعات کے قیام کے قواعد میں بنیادی تبدیلیاں، آؤٹ کم بیسڈ ایجوکیشن (OBE) کے یکساں پروگرام لرننگ آؤٹ کمز، اور اعلیٰ تعلیمی اداروں میں جنریٹو اے آئی کے استعمال کے لیے قومی فریم ورک سمیت متعدد اصلاحات کی منظوری دی گئی۔ ایچ ای سی سیکریٹریٹ کے مورل ہال میں منعقد ہونے والے اجلاس کی صدارت چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے کی جبکہ وفاقی اور صوبائی نمائندوں، مختلف جامعات کے وائس چانسلرز اور کمیشن کے اراکین نے شرکت کی۔ اجلاس کا سب سے اہم ایجنڈا نیشنل اسکلز کمپیٹنسی ٹیسٹ (NSCT) کے نتائج تھا۔ کمیشن نے چیئرمین ایچ ای سی کے اس فیصلے کی توثیق کر دی جس کے تحت کمزور کارکردگی کی بنیاد پر 44 جامعات کے کمپیوٹنگ پروگراموں میں داخلے عارضی طور پر معطل کیے گئے تھے۔ تاہم اجلاس کے دوران صوبائی نمائندوں نے اس فیصلے پر سنجیدہ تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ داخلوں کی معطلی ایک ایسے امتحان کی بنیاد پر کی گئی جس میں شرکت لازمی نہیں تھی۔ اس پر کمیشن نے فیصلہ کیا کہ وزیراعظم کو خط لکھا جائے تاکہ ان جامعات کے تمام طلبہ کا لازمی ری ٹیسٹ کرایا جائے اور حتمی فیصلہ اسی کے نتائج کی بنیاد پر کیا جائے۔ کمیشن نے یہ بھی منظور کیا کہ آئندہ NSCT سال میں دو مرتبہ ہوگا اور کمپیوٹنگ پروگراموں کے ساتویں اور آٹھویں سمسٹر کے تمام طلبہ کے لیے اس میں شرکت لازمی ہوگی، جبکہ اس امتحان کے انعقاد کی ذمہ داری ایجوکیشن ٹیسٹنگ کونسل (ETC) کو سونپی گئی۔ کمیشن نے ایک اور اہم فیصلے میں ملک کی تمام سرکاری و نجی جامعات کے ہر انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ پروگرام میں خزاں 2026 سے مصنوعی ذہانت (AI) کا تین کریڈٹ آورز پر مشتمل لازمی کورس متعارف کرانے کے فیصلے کی باضابطہ توثیق کر دی۔
اہم خبریں سے مزید