• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کاروباری اعتماد میں نمایاں بہتری، مستقبل کے امکانات پہلی بار مثبت، سروے

کراچی (اسٹاف رپورٹر)گیلپ پاکستان کے بزنس کانفیڈنس سروے کے مطابق2026کی دوسری سہ ماہی کے دوران ملک میں کاروباری اعتماد میں نمایاں بہتری ریکارڈ کی گئی ہے، 45فیصد کاروباری اداروں نے حالات بہتر قرار دے دیئے، تاہم وفاقی بجٹ 2026-27، مہنگائی، توانائی بحران اور کاروباری لاگت کے حوالے سے کاروباری برادری کے تحفظات بدستور برقرار ہیں۔سروے کے مطابق بزنس کانفیڈنس انڈیکس کے تینوں اہم اشاریوں میں بہتری دیکھی گئی۔ موجودہ کاروباری صورتحال کا اعتماد 9 فیصد بہتر ہو کر منفی 19 فیصد سے منفی 10 فیصد تک پہنچ گیا، جبکہ 45 فیصد کاروباری اداروں نے موجودہ کاروباری حالات کو بہتر قرار دیا، جو گزشتہ سہ ماہی کے مقابلے میں 4 فیصد زیادہ ہے۔رپورٹ کے مطابق مستقبل کے کاروباری امکانات کے حوالے سے اعتماد میں سب سے نمایاں بہتری ریکارڈ کی گئی، جو 25 فیصد اضافے کے بعد 12 فیصد مثبت ہوگیا۔ گزشتہ تین سہ ماہیوں میں پہلی مرتبہ یہ اشاریہ مثبت سطح پر آیا ہے، جبکہ 56 فیصد کاروباری اداروں نے آئندہ 12 ماہ کے دوران کاروباری حالات مزید بہتر ہونے کی توقع ظاہر کی۔ملک کی مجموعی معاشی سمت کے حوالے سے اعتماد اگرچہ اب بھی منفی ہے، تاہم اس میں بھی 12 فیصد بہتری آئی ہے اور یہ منفی 20 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ گیلپ پاکستان کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں کمی اور سروے سے قبل ایندھن کی قیمتوں میں کمی کاروباری اعتماد میں بہتری کی اہم وجوہات ہیں۔گیلپ پاکستان کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر بلال آئی گیلانی نے کہا کہ کاروباری اعتماد میں بحالی کے آثار نمایاں ہیں، تاہم بیشتر اشاریے اب بھی منفی سطح پر موجود ہیں اور پائیدار بہتری کے لیے مزید اقدامات درکار ہیں۔سروے کے مطابق 34 فیصد کاروباری اداروں نے مہنگائی کو سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا، جبکہ 72 فیصد نے بجلی کی لوڈشیڈنگ کی شکایت کی، جو گزشتہ سہ ماہی کے مقابلے میں 15 فیصد زیادہ ہے۔وفاقی بجٹ 2026-27 کے حوالے سے کاروباری برادری کی رائے مجموعی طور پر منفی رہی۔ 39 فیصد کاروباری اداروں نے بجٹ کو منفی قرار دیا جبکہ صرف 18 فیصد نے اسے مثبت قرار دیا۔ اسی طرح 49 فیصد کاروباری اداروں کا کہنا تھا کہ بجٹ کے بعد ان کے کاروباری امکانات پر اعتماد میں کمی آئی ہے، جبکہ اتنی ہی تعداد کا خیال ہے کہ کاروبار کرنے کی لاگت مزید بڑھے گی۔سرمایہ کاری کے حوالے سے بھی محتاط رجحان سامنے آیا۔ 34 فیصد کاروباری اداروں نے کہا کہ بجٹ کے بعد سرمایہ کاری یا کاروبار میں توسیع کے امکانات کم ہوئے ہیں، جبکہ صرف 22 فیصد نے سرمایہ کاری بڑھانے کا ارادہ ظاہر کیا۔گیلپ پاکستان کے مطابق کاروباری اعتماد میں حالیہ بہتری حوصلہ افزا ضرور ہے، تاہم اسے پائیدار بنانے کے لیے مہنگائی پر قابو پانے، توانائی کی بلا تعطل فراہمی اور کاروباری لاگت میں مسلسل کمی ناگزیر ہے۔
اہم خبریں سے مزید