• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بھارت کی بزدلانہ، عیارانہ آبی جارحیت اور پاکستان کا دانش مندانہ ردعمل

کسی زمانے میں، پڑوسی مُلک کے شاعر، جاوید اختر نے ایک گیت لکھا تھا ؎

پنچھی، ندیا، پوَن کے جھونکے

کوئی سرحد نہ اِنہیں روکے

سرحد انسانوں کے لیے ہے

سوچو ہم نے اور تم نے

کیا پایا انساں ہو کے

مگر آج وہی پڑوسی جنونی، ہذیانی اور شکستہ خوردہ وحشت بھری کیفیت کے زیرِاثر وہ کرنا چاہ رہا ہے، جو قانونی و اخلاقی طورپرتوناممکن ہے ہی، انسانی اور فطری اعتبار سے بھی اَن ہونی کے مترادف ہے۔ دریاؤں کو آج تک بھلا کوئی روک پایا ہے، جو بھارت روک پائے گا؟

فطرت کے قوانین میں ذرّہ برابر لچک نہیں۔ سورج مغرب سے نہیں نکل سکتا۔ زمین چاند کے گرد نہیں گھوم سکتی۔ کششِ ثقل ختم نہیں ہوسکتی۔ دریا اُلٹے نہیں بہہ سکتے۔ دریائےسندھ کا پانی اپنےقدرتی بہاؤ کے خلاف نہیں روکا جاسکتا۔ بات ختم۔

اب ذرا ماضی کے صحیفے کھنگال دیکھیے۔ بین الاقوامی سفارت کاری کی قدیم و طویل تاریخ میں بہت کم کم معاہدے ایسے ہیں کہ جنہوں نے وقت کے بے رحم امتحان کو اس وقار، استقامت اور قانونی عظمت کےساتھ عبور کیا، جس کا مظہر ’’سندھ طاس معاہدہ‘‘ (Indus Waters Treaty) 1960 ہے۔ 19 ستمبر 1960ء کو کراچی میں بھارت کے وزیرِاعظم جواہر لعل نہرو، پاکستان کے صدرفیلڈ مارشل محمّد ایوب خان اور بین الاقوامی بینک برائے تعمیرِنو و ترقی (ورلڈ بینک) کی سرپرستی میں طے پانے والا یہ معاہدہ آج بھی دنیا میں سرحد پار آبی وسائل کی تقسیم کی کام یاب ترین اورحیران کُن قانونی مثالوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

صاحبانِ قوانینِ آب آگاہ اورگواہ ہیں کہ یہ معاہدہ محض ایک سفارتی دستاویز نہیں، بین الاقوامی قانون کی تاریخ کا ایسا سنگِ میل ہے، جس نے نصف صدی سے زائد عرصے میں برِعظیم پاک و ہند کے تقریباً ہر بڑے اور شدید بحران کا سامنا کیا اور قائم دائم رہا۔1965 ء اور1971 ء کی پاک بھارت جنگیں،1999 ء کا کارگل تنازع، متعدد سرحدی کشیدگیاں، سفارتی تعلقات میں کثرت سے تعطل، باہمی بداعتمادی اور مسلسل سیاسی اختلافات، یہ سب کچھ ہوتا رہا، مگر سندھ طاس معاہدہ اپنی قانونی بنیادوں پر جما تھا۔

اندازہ لگائیے، یہ معاہدہ کتنی دہائیوں تک تین سوملین سے زائد انسانوں کی زندگی کا رواں دواں محور بنے دریاؤں کے بہاؤ کو ایک منظّم ادارہ جاتی نظام کے تحت محفوظ رکھتا رہا۔ اور اس معاہدے کی یہ غیرمعمولی پائےداری نہ تو محض حُسنِ اتفاق تھی نہ صرف وقتی سفارتی مہارت کانتیجہ، اس کے پیچھے ایک نہایت باریک بین، مربوط اور دُور اندیش قانونی ڈھانچا کارفرما تھا، ہے اور رہے گا کہ جس کا مقصد صرف دریاؤں کی تقسیم نہیں بلکہ اُن کی مسلسل نگرانی اور اُن کے انتظام و اہتمام کو سیاسی اتار چڑھاؤ سے قطعی محفوظ بنانا تھا۔

اس معاہدے کے معمار اس بنیادی حقیقت سے پوری طرح آگاہ تھے کہ دریا نہ سرحدوں کو جانتے ہیں اورنہ نظریاتی تقسیم کو۔ وہ پہاڑوں کی بلندیوں سے اُسی وقار کے ساتھ اُترتے ہیں اوراُترتے رہیں گے،جیسے قدرت نےاُنہیں تخلیق کیا۔ دریا حکومتوں کی خواہشات یا وقتی سیاسی تنازعات سے بے نیاز رہتے ہوئے انسانوں سے صرف ’’تعاون، تحمّل اور قانون کی پاس داری‘‘ کا تقاضا کرتے ہیں، اِسی لیےسندھ طاس معاہدہ کسی عارضی سیاسی مفاہمت کےطور پر نہیں، دو خودمختار ریاستوں کے درمیان ایک دائمی قانونی عہد کی حیثیت سے لکھا گیا۔

آئیے، معاہدے کا دیباچہ پڑھتے ہیں تاکہ آپ جان پائیں کہ پاکستان کتنا سچا اور بھارت کتنا جھوٹا ہے۔پاکستان اور بھارت نے دیباچے ہی میں اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ نظامِ دریائے سندھ کے پانیوں سے ممکنہ حد تک مکمل اور اطمینان بخش استفادہ چاہتے ہیں اور اس مقصد کے لیے باہمی حُسنِ نیّت اور دوستی کی فضا میں اپنے حقوق و فرائض متعین کرنے کے ساتھ ایسامستقل ادارہ جاتی طریقۂ کار بھی قائم کریں گے، جو مستقبل میں معاہدے کی تشریح یا اس پرعمل درآمد سے متعلق پیدا ہونے والے ہر اختلاف کو پُرامن انداز میں حل کرسکے۔ اور یہ الفاظ محض سفارتی آداب نہیں، اس معاہدے کی رُوح ہیں۔

ان سے واضح ہوتا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ جبر کے بجائے تعاون، یک طرفہ فیصلوں کےبجائےمکالمے اور سیاسی مصلحتوں کے بجائے ادارہ جاتی تسلسل پر استوار کیا گیا۔ اِسی فلسفے کی عملی تعبیر معاہدے کی بعد کی دفعات میں نظر آتی ہے۔ آرٹیکل II کے تحت تین مشرقی دریاؤں یعنی راوی، بیاس اورستلج کے پانیوں کےاستعمال کا حق بھارت کو دیا گیا، جب کہ آرٹیکل III کے ذریعے تین مغربی دریاؤں یعنی سندھ، جہلم اور چناب کاپانی پاکستان کے لیے مختص کیا گیا۔

البتہ بھارت کو ان دریاؤں پرصرف اُن محدود نوعیت کے استعمال کی اجازت دی گئی، جو معاہدے میں صراحت کے ساتھ بیان کیے گئے ہیں، مثلاً گھریلو ضروریات، محدود زرعی استعمال اورسخت تیکنیکی شرائط کے تحت ’’رن آف دی ریور‘‘ نوعیت کے پن بجلی منصوبے۔ یہ تقسیم کسی سیاسی رعایت کا نتیجہ نہیں بلکہ دونوں ریاستوں کے درمیان قانونی طور پر تسلیم شدہ حقوق و فرائض کی واضح اور لازمی تقسیم ہے۔

اس سے بھی زیادہ قابلِ توجّہ امر یہ ہے کہ معاہدےنےمغربی دریاؤں پربھارت کی سرگرمیوں کوغیر معمولی باریکی کے ساتھ ضابطہ بند کیا۔ آرٹیکل( III:2) اور اس کے ساتھ منسلک ضمیموں سی، ڈی اورای میں زراعت، ذخیرۂ آب، پن بجلی منصوبوں، ڈیزائن، انجینئرنگ، پانی ذخیرہ کرنےکی حد اور ڈھانچوں کی تیکنیکی تفصیلات تک مقرر کردی گئیں۔ صاف ظاہر ہے، یہ معاہدہ سیاسی تشریحات پرنہیں، انجینئرنگ کی درستی اور قانونی قطعیت پر استوار کیا گیا تھا۔

معاہدےکی ایک اورغیرمعمولی خصوصیت آرٹیکل VIII کے تحت قائم ہونے والا مستقل سندھ کمیشن (Permanent Indus Commission) ہے۔ پاکستان اور بھارت کے ایک ایک کمشنر پر مشتمل یہ ادارہ معاہدے کامستقل نگہ بان ہے۔ اس کے فرائض میں ہائیڈرولوجیکل معلومات کا تبادلہ، معائنہ جات، تیکنیکی مشاورت، باقاعدہ اجلاس اور معاہدے پر عمل درآمد سے متعلق تمام رابطوں کوجاری رکھنا شامل ہے۔

یہ کمیشن دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ تیکنیکی اختلافات کو کبھی بھی سیاسی یا عسکری بحران میں تبدیل نہیں ہوناچاہیے،چناں چہ معاہدےنےاختلافات کو اداروں کے ذریعے سنبھالنے کا راستہ اختیار کیا، طاقت کے ذریعے نہیں۔ اِسی اصول کو مزید مضبوطی آرٹیکل IXسےملتی ہے،جو تنازعات کےحل کے لیے ایک تدریجی اور جامع قانونی نظام وضع کرتا ہے۔ اس کےمطابق معاہدے کی تشریح یا نفاذ سے متعلق ہر سوال پہلے مستقل سندھ کمیشن کےسامنے رکھا جائے گا۔

اگر وہاں حل نہ ہو تومعاملہ اس کی نوعیت کےمطابق نیوٹرل ایکسپرٹ، دوطرفہ مذاکرات، ثالثی یا بالآخر عدالتِ ثالثی (Court of Arbitration) کے سپرد کیا جاسکتا ہے۔ غورطلب حقیقت یہ ہے کہ معاہدے کے پورے متن میں کسی ایک مقام پر بھی کسی فریق کو یہ اختیار نہیں دیا گیا کہ وہ اپنی مرضی سے معاہدے کو معطل، منسوخ، نظرانداز یا مُلتوی کرسکے۔ ایسے حقوق دیے جانے کے بارے میں معاہدے کی یہ خاموشی قطعی اتفاقی نہیں بلکہ مکمل دانستہ اورارادی ہے۔

معاہدہ اختلافات کےامکانات کوتو پیشِ نگاہ رکھتا ہے لیکن اُن کے حل کے لیے یک طرفہ اقدامات کی قطعی اجازت نہیں دیتا۔ قانونی اختلاف قانون کےذریعے حل ہوں گے، تیکنیکی مسائل انجینئرز کے ذریعے، سیاسی تنازعات سفارت کاری کے ذریعے اور اگر کوئی معاملہ ان تمام مراحل سے گزرنے کے بعد بھی حل نہ ہو تو ثالثی کے تحت۔

اگر کسی ایک ریاست کو یہ اختیار حاصل ہوتا کہ وہ سیاسی کشیدگی کے وقت یک طرفہ طور پر معاہدہ معطل کردے تویقیناً پورا ادارہ جاتی ڈھانچا اپنی معنویت کھودیتا۔ اس سوال کا فیصلہ کُن جواب آرٹیکل XII میں موجود ہے، جو معاہدے کی آخری اور نہایت اہم شق ہے۔ یہاں دونوں ریاستوں نے واضح الفاظ میں طےکیا کہ معاہدے میں کسی بھی قسم کی ترمیم صرف اُسی صُورت ممکن ہوگی، جب پاکستان اور بھارت باہمی رضامندی سےایک نیا اورباقاعدہ توثیق شدہ معاہدہ کریں۔

اِسی طرح معاہدے کا اختتام بھی صرف ایک نئےباہمی معاہدے کے ذریعے ہی ممکن ہوگا۔ یہ الفاظ محض مشورہ یا خواہش کا اظہار نہیں بلکہ لازمی قانونی حُکم ہیں۔ ترمیم باہمی رضامندی سے ہوگی، اختتام باہمی رضامندی سے ہوگا۔ اس کے بعد یہ نتیجہ ناگزیر ہے کہ یک طرفہ معطلی کے لیے اس معاہدے میں کوئی قانونی گنجائش سِرے سے موجود ہی نہیں۔

اب آئیے، پچھلے سال اپریل کےمہینے میں۔ معاہدے کی تمام تر قانونی حقیقت کی روشنی میں اپریل2025 ء میں بھارت کا یہ اعلان کہ وہ سندھ طاس معاہدہ ’’التواء‘‘ میں ڈال رہا ہے، غیر معمولی اہمیت اختیارکرجاتا ہے۔پہلگام میں پیش آنے والے افسوس ناک حملےکے بعد نئی دہلی نے حسبِ عادت الزام پاکستان پردھر دیا، جسے اسلام آباد نے دوٹوک انداز میں، سچ کی بنیاد پر مسترد کردیا۔

تاہم اس واقعے کے سیاسی یا سفارتی پس منظر سے قطع نظر،خود سندھ طاس معاہدہ کسی بھی مقام پرسلامتی کے خدشات، سفارتی کشیدگی یا دہشت گردی کے الزامات کو یک طرفہ معطلی کی قانونی بنیاد تسلیم نہیں کرتا۔ بین الاقوامی معاہداتی قانون بھی اسی نتیجے کی تائید کرتا ہے۔ اس کا بنیادی اصول Pacta Sunt Servanda ہے، جس کا مفہوم ہے کہ ’’جو معاہدے نافذ العمل ہوں، ان پرحُسنِ نیّت کےساتھ عمل تمام فریقوں پرلازم ہے۔‘‘

یہی اصول پورے جدیدبین الاقوامی قانونی نظام کی بنیاد ہے۔امریکا اور مغرب سمیت اقوامِ عالم خُوب آگاہ ہیں کہ اگر یہ اصول کم زور پڑ گیا تو بین الاقوامی معاہدے قانونی دستاویزات نہیں، محض کاغذ کے بے کار چیتھڑے بن کر رہ جائیں گے۔

اسی لیے سندھ طاس معاہدے کوجان بوجھ کرسیاسی اتارچڑھاؤ سے محفوظ رکھا گیا تھا کہ اس کے لکھاری جانتے تھے، آبی سلامتی وقتی سیاسی اختلافات سے کہیں بلند ایک انسانی ضرورت ہے، جس کی وجہ یہ ہے کہ یہ معاہدہ صرف پانی تقسیم نہیں کرتا بلکہ مستقل ادارے قائم کرتا ہے، معلومات کا تبادلہ یقینی بناتا ہے، مشترکہ ترقی کی راہیں کھولتا ہے، اختلافات کے حل کامستقل نظام فراہم کرتا ہے اور دونوں ممالک کو مسلسل رابطے میں رکھتا ہے، چناں چہ اگر کوئی ریاست یک طرفہ طور پر اس معاہدے کو ’’معطل‘‘ قرار دیتی ہے تو وہ صرف پانی کی تقسیم کو نہیں، اُس پورے قانونی اورادارہ جاتی نظام کو چیلنج کرتی ہے، جو گزشتہ چھے دہائیوں سے جنوبی ایشیا میں آبی امن کی بنیاد بنا ہوا ہے۔

اقوامِ عالم کو یاد رکھنا چاہیے کہ ریاستِ پاکستان محض ایک معاہدے کا نہیں، عالمی قانونی نظام کا دفاع کر رہی ہے۔ اگر سندھ طاس معاہدے کی تاریخ بین الاقوامی قانون کی استقامت کی روشن مثال ہے تو بھارت کی جانب سے اسے یک طرفہ طور پر مُلتوی کرنے کے بےوقوفانہ اعلان پر پاکستان کا ردِّعمل بھی عالمی قانونی نظم کے دفاع کی ایک بالغ، متوازن اور دُوراندیش سفارتی حکمتِ عملی کا مظہر ہے۔

اسلام آباد نے اس معاملے کومحض دو ہم سایہ ممالک کےدرمیان پانی کی تقسیم کا تنازع قراردینےکے بجائے بین الاقوامی معاہداتی قانون، عالمی آبی نظم اور ریاستوں کےباہمی اعتماد سے وابستہ ایک ایسے مسئلے کے طورپر پیش کیا ہے،جس کے اثرات جنوبی ایشیا سے کہیں آگے، کہیں دُور اور بہت پرے محسوس کیے جائیں گے۔

اسی نظریے کا سب سے جامع اظہار اسلام آباد میں منعقد ہونے والی حالیہ بین الاقوامی کانفرنس بعنوان ’’سندھ طاس معاہدہ: ایک پائےدار قانونی اور ادارہ جاتی فریم ورک‘‘ میں سامنے آیا۔ اپنی نوعیت کی اس پہلی کانفرنس نے پاکستان، بین الاقوامی قانون، آبی وسائل، موسمیاتی تبدیلی اور سفارت کاری کے ممتاز ماہرین کو ایک ہی پلیٹ فارم پر جمع کیا تاکہ نہ صرف موجودہ بحران بلکہ سندھ طاس معاہدے کی قانونی بنیاد، اہمیت اورعالمی افادیت کا ازسرِ نو جائزہ لیا جا سکے۔

یہ کانفرنس بذاتِ خود پاکستان کی سفارتی حکمتِ عملی کی واضح آئینہ دارتھی۔ اسلام آباد نے دانستہ طورپراس تنازعےکومحض پاکستان اور بھارت کے درمیان اختلاف کے طور پر پیش نہیں کیا بلکہ اسےایک ایسے اصولی سوال میں تبدیل کیا، جس کا تعلق عالمی معاہداتی نظام کی ساکھ سے ہے۔ اگرکسی بالادست (Upstream) ریاست کو یہ اختیار دے دیا جائے کہ وہ اپنی صوابدید پرایک بین الاقوامی معاہدے کو معطل کر دے تو پھر دنیا کے ہر اُس خطّے میں جہاں مشترکہ دریا مختلف ممالک سےگزرتے ہیں، بین الاقوامی اعتماد کی بنیادیں لرز کر رہ جائیں گی۔

کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات، عطا اللہ تارڑ نے پاکستان کے قانونی مؤقف کو نہایت واضح، شفّاف اورمدلّل انداز میں بیان کیا۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ’’سندھ طاس معاہدہ کوئی سیاسی مفاہمت یاوقتی انتظام نہیں بلکہ ایک مکمل بین الاقوامی معاہدہ ہے، جسے نہ یک طرفہ طورپرمعطل کیا جا سکتاہے، نہ منسوخ، نہ ہی التوا میں رکھا جا سکتا ہے۔‘‘ اُن کالہجہ مدلّل، زبان واضح اورپیغام روزِروشن کی طرح عیاں تھا کہ ’’سندھ طاس معاہدے میں نہ ترمیم، نہ معطلی، نہ تنسیخ اورنہ ہی اِسے ملتوی کرنے کا اختیار کسی ایک فریق کو حاصل ہے۔

یہ معاہدہ باہمی رضامندی سے وجود میں آیا تھا اور اس میں کسی بھی قسم کی تبدیلی بھی صرف باہمی رضامندی سے ہی ممکن ہے۔‘‘وزیرِ اطلاعات کا یہ مؤقف محض سیاسی بیان نہیں بلکہ براہِ راست آرٹیکل XII کی ایک ماہرانہ قانونی تشریح تھا، جس سے یہ امرظاہرہوا کہ ہمارے وزراء انٹرنیشل قوانین کی اچھی خاصی سمجھ بوجھ اور فہم رکھتے ہیں۔ اس آرٹیکل میں واضح طور پر درج ہے کہ معاہدے میں کسی بھی قسم کی ترمیم صرف پاکستان اور بھارت کے درمیان باقاعدہ توثیق شدہ نئے معاہدے کے ذریعے ممکن ہوگی، جب کہ اس کا اختتام بھی صرف اِسی طریقۂ کار کے مطابق ہو سکتا ہے۔

اس قانونی زبان میں کسی قسم کا ابہام، گنجائش یا خاموشی موجود نہیں، چناں چہ جہاں معاہدہ ترمیم اور اختتام کے واضح طریقے متعین کردیتا ہے، وہاں یک طرفہ معطلی کا کوئی تصور خودبخود خارج ہوجاتا ہے۔ اوربات یہاں ختم نہیں ہوجاتی کہ مُقرّر کو خود پراعتماد اور اپنے پیغام کی سچائی پر بھروسا ہو تو تاثیرخود بخود عطا ہوجاتی ہے۔ وزیرِ اطلاعات و نشریات، عطا اللہ تارڑ نے اپنی گفتگو میں ایک اورنہایت اہم پہلوکی طرف بھی نہایت اثرانگیز انداز سے توجّہ دلائی۔

انہوں نے دریائے سندھ کو پاکستان کے چوبیس کروڑ سے زائد عوام کی شہ رگ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ صرف ایک دریا نہیں بلکہ پاکستان کی زراعت، معیشت، خوراک، توانائی اور دیہی معیشت کی بنیادہے۔ پنجاب اورسندھ کےوسیع زرعی میدان، ملک کی غذائی پیداوار، لاکھوں کسانوں کا روزگار، پن بجلی کے منصوبے اور شہری آبادیوں کی ضروریات، سب اسی آبی نظام سے وابستہ ہیں۔ اس تناظرمیں پانی محض کسی تجارتی جنس کی حیثیت نہیں رکھتا، جسے بازار سے خریدا یا سفارتی سودے بازی میں تبدیل کیا جاسکے۔

پانی بنی نوع انسان کی بنیادی ضرورت ہے۔ یہ سیاست سے پہلے زندگی کو سہارا دیتا ہے، معیشت سے پہلے معاشرے کو زندہ رکھتا ہے اور ریاست سے پہلے انسان کی بقاممکن بناتا ہے، لہٰذا اگر کسی قوم کے قانونی طور پر تسلیم شدہ حصّے کےپانی کوروکنے کی کوشش کی جائے تو اُس کے اثرات صرف دو ممالک کےتعلقات تک محدودنہیں رہتے بلکہ وہ انسانی سلامتی (Human Security) کے مسئلے میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔

وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات نے یہ بھی واضح کیا کہ پاکستان گزشتہ ساڑھے چھے دہائیوں سے سندھ طاس معاہدے پر نہایت دیانت داری اور مستقل مزاجی سےعمل درآمد کرتا آیا ہے۔ اُس نےہمیشہ مذاکرات، رابطوں اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی پر یقین رکھا۔ تاہم انہوں نےخبردار کیا کہ اگر پاکستان کےجائز حصّے کے پانی کو روکنے کی کوئی عملی کوشش کی گئی تو ریاستِ پاکستان اپنے عوام کےآبی حقوق کےتحفّظ کےلیے ہرقانونی، سفارتی اور قومی ذریعہ استعمال کرے گی۔

کانفرنس میں اگر وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات نے قانونی پہلو اجاگر کیے تو وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی وماحولیاتی رابطہ ڈاکٹر مصدّق ملک نےاس بحث کو ایک وسیع ترعالمی تناظرعطا کیا۔ وہ ایک شُعلہ بیان مقرر بھی ہیں۔ بولتے ہیں تو شورش کاشمیری یاد آتے ہیں، ونسٹن چرچل بھی۔ اوراُن کی شائستگی وشُستگی وشگفتگی بھری شُعلہ بیانی محض اُردو تک محدود نہیں۔ اُنہوں نے کانفرنس میں انگریزی تقریر کےبھی وہ جوہر دکھائےکہ سبحان اللہ۔

انہوں نے بہت پہلے تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبے میں منعقد ہونے والی چوتھی اعلیٰ سطحی بین الاقوامی کانفرنس برائے ’پائے دارترقی کے لیے پانی‘‘سےخطاب کرتے ہوئے ایک نئی اصطلاح استعمال کی تھی، ’’آبی جارحیت‘‘۔ اور یہ محض سیاسی نعرہ نہیں، بین الاقوامی تعلقات میں ابھرنے والے ایک نئے رجحان کی نشان دہی تھی۔

ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ ’’کسی بھی ریاست کو یہ حق حاصل نہیں ہونا چاہیے کہ وہ پانی کو سیاسی دباؤ یا جغرافیائی برتری کا ہتھیار بنائے۔ اگر بالائی دھارے پر واقع ممالک مشترکہ دریاؤں کے بہاؤ کواپنی سیاسی ترجیحات کے تابع کرنے لگیں تو دنیابھر میں درجنوں بین الاقوامی معاہدے غیر مؤثر اور کروڑوں انسان عدم تحفّظ کا شکار ہوجائیں گے۔‘‘ ایک کسان کی کہانی بھی سُنائی کہ بھارت کی’’آبی جارحیت‘‘ کے سبب کبھی اُس کے کھیت سوکھے رہ جاتے، تو کبھی ڈوب جاتے، حتٰی کہ اُسےکاشت کاری ترک کرکے اپنے خاندان سمیت دربدر ہونا پڑا۔

ایسی کہانیاں بےشُمار،لا انتہا ہیں اور یہ سیاسی یا عسکری کہانیاں نہیں، انسانی کہانیاں ہیں۔ اُنہوں نےمتنبّہ کیا کہ آج دنیا میں260 سے زائد بین الاقوامی دریا مختلف ریاستوں سے گزرتے ہیں۔ ان تمام دریاؤں کا انتظام اس اعتماد پر قائم ہے کہ معاہدے سیاسی اختلافات سے بالاتررہیں گے۔ اگر ایک ریاست کو یہ اجازت مل گئی کہ وہ یک طرفہ طور پر معاہدہ معطل کردے، تو کل دریائے نیل، میکونگ، ڈینیوب، فرات، سینیگال اور دنیا کے دیگر تمام مشترکہ آبی نظام بھی اسی خطرے سے دوچار ہوں گے۔

ڈاکٹر مصدق ملک نے بھارت کے حالیہ مؤقف کو اسی لیےنہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک خطرناک نظیر قراردیا۔ ان کےمطابق اگر خدانخواستہ اس طرزِعمل کو قبول کر لیا گیا تو مستقبل میں بالائی دھارے پرواقع ریاستیں پانی کو بطور سیاسی دباؤ استعمال کرنےلگیں گی، جس سے بین الاقوامی آبی قانون کی پوری عمارت پہلے متزلزل ہوگی اور رفتہ رفتہ ڈھے جائے گی۔ انہوں نے موسمیاتی تبدیلی کو بھی اس بحث کا لازمی جزو قرار دیا۔

پاکستان پہلے ہی دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تغیرات سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ شدید سیلاب، خشک سالی، گلیشیئرز کا تیزی سے پگھلنا، بارشوں کے غیرمتوقع سلسلےاوردرجۂ حرارت میں مسلسل اضافہ پاکستان کے آبی نظام کومزیدغیریقینی بنا رہےہیں۔ایسےحالات میں بین الاقوامی معاہدوں کی اہمیت کم نہیں ہوتی بلکہ پہلےسےکہیں بڑھ جاتی ہے۔

انہوں نے یہ اہم انکشاف بھی کیا کہ پاکستان اور تاجکستان میں مجموعی طور پر تقریباً تیرہ ہزار گلیشیئرز موجود تھے، جن میں سے تقریباً ایک ہزارموسمیاتی تبدیلی کے باعث ختم ہو چُکے ہیں۔ اس صورتِ حال میں علاقائی تعاون،مشترکہ تحقیق اورآبی وسائل کے ذمّے دارانہ استعمال کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔

اسی دوران پاکستان کے قانونی مؤقف کوایک اہم تقویت مستقل عدالتِ ثالثی (Permanent Court of Arbitration) کے ذریعے بھی حاصل ہوئی۔ عدالت نے اپنےفیصلے میں اس اصول کی توثیق کی کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت قائم تنازعات کے حل کا نظام بدستور نافذ العمل ہےاور آرٹیکل IX میں درج طریقۂ کار کو کسی بھی یک طرفہ اعلان کےذریعے غیرمؤثر نہیں کیا جا سکتا۔

اس فیصلے نے پاکستان کے اس مؤقف کو مزید مضبوط کیا کہ معاہدہ اپنی پوری قانونی قوت کےساتھ آج بھی نافذ ہےاوراس سے متعلق ہر اختلاف اسی معاہدے میں طے شدہ ادارہ جاتی طریقۂ کار کے تحت ہی حل ہوگا۔ ان تمام سفارتی اقدامات کا مجموعی جائزہ لیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ پاکستان نے اس بحران کو جذباتی یا محض سیاسی مسئلہ بنانے کے بجائے ایک منظّم قانونی حکمتِ عملی اختیار کی ہے۔ اس کی دلیل چار بنیادی ستونوں پر قائم ہے۔

بین الاقوامی معاہدوں کا تقدّس، انسانی آبی حقوق کا تحفّظ، عالمی قانونی اداروں کی ساکھ کا دفاع اور موسمیاتی تبدیلی کے دور میں سرحد پارآبی تعاون کا فروغ۔ ہمارے معتبر قارئین کو جان لینا چاہئے کہ یہی وہ نقطۂ نظر ہے، جس نے پاکستان کے مؤقف کو صرف قومی مفاد تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے بین الاقوامی قانون کے ایک وسیع تراصول سے جوڑ دیا ہے۔

اگر مشترکہ دریا تعاون کے بجائےسیاسی دباؤ کا ذریعہ بن جائیں تو نقصان صرف پانی کے بہاؤ کا نہیں ہوگا، اس سے وہ عالمی قانونی نظام بھی کم زورہوگا، جس پر ریاستوں کے درمیان اعتماد، امن اور بقائے باہمی کی پوری عمارت استوار ہے۔

اگر بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو یک طرفہ طور پر التوا میں رکھنے کے اعلان نے بین الاقوامی معاہداتی قانون کی کم زور ہوتی ہوئی بنیادوں کو آشکار کیا ہے، تو اس نے ایک اور بنیادی حقیقت کو بھی نمایاں کردیا ہے کہ اکیسویں صدی میں پانی اب محض ایک قدرتی وسیلہ نہیں رہا بلکہ قومی سلامتی، ریاستی خُودمختاری اور جغرافیائی سیاست کا بنیادی ستون بن چکا ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ تہذیبوں نے ہمیشہ دریاؤں کے کنارے جنم لیا، انہی کے سہارے ترقی کی اور انہی کے ذریعے اپنی معیشتوں کو استحکام بخشا۔ مگر یہی تاریخ ہمیں یہ سبق بھی دیتی ہے کہ جب پانی کو مشترکہ وَرثے کےبجائے سیاسی دباؤ کے آلے میں تبدیل کردیا جائے تو وہ زندگی بخشنے کے بجائے تنازعات کو جنم دیتا ہے۔

مذکورہ کانفرنس سے پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین اور سابق وزیرِخارجہ بلاول بھٹوزرداری کاخطاب بھی اس اعتبار سےغیر معمولی اہمیت اختیارکر گیا کہ پہلے مقررین نے قانونی اور ادارہ جاتی پہلوؤں پرروشنی ڈالی، تو بلاول بھٹو زرداری نے اس بحث کو قومی سلامتی، انسانی حقوق اورعالمی سفارت کاری کے وسیع تر تناظر میں پیش کیا۔

انہوں نے دوٹوک انداز میں بھارت کے اس اقدام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پانی کو کبھی بھی سیاسی سزا یا سفارتی دباؤ کے ہتھیار میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا یہ جملہ کہ ’’پاکستان کےبچّوں کی پیاس کسی ہم سایہ ریاست کی سرکاری پالیسی نہیں بن سکتی‘‘صرف ایک سیاسی بیان نہیں، انسانی ضمیر سے براہِ راست مخاطب ہونے والا ایک اخلاقی اعلان تھا۔

پانی کسی ریاست کی عطا نہیں، قدرت کی امانت ہے۔یہ سب سے پہلے بچّے کی پیاس بجھاتا ہے، پھرکھیتوں کو سیراب کرتا ہے، پھر معیشت کوسہارا دیتا ہے اور آخر میں ریاستی ڈھانچا مضبوط بناتا ہے۔ اس لیےجب کسی قوم کے پانی کو دانستہ طور پر سیاسی دباؤ کا ذریعہ بنایاجاتا ہے تو اصل نشانہ حکومتیں نہیں، عام شہری ہوتے ہیں۔ اس اعتبار سے پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا صرف بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہی نہیں،انسانی اخلاقیات کے بھی منافی ہے۔

اپنےخطاب میں بلاول بھٹو زرداری نے ایک نہایت بلیغ مثال پیش کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح دنیا آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کی ناکہ بندی کوعالمی امن اورعالمی معیشت کے لیےسنگین خطرہ تصور کرتی ہے، اِسی طرح دریائے سندھ کا قدرتی بہاؤ روکنے یا محدود کرنے کی کوئی بھی کوشش محض ایک دوطرفہ مسئلہ نہیں بلکہ علاقائی اوربین الاقوامی سلامتی کے لیے ایک خطرناک پیش رفت ہوگی۔ اور یہ تشبیہ محض تقریری حُسن نہیں، بین الاقوامی قانون کے ایک بنیادی اصول کی یاددہانی کرواتی ہےکہ جس طرح عالمی تجارت کے لیے سمندری راستوں کا آزادرہنا ضروری ہے، اسی طرح بین الاقوامی معاہدوں کے تحت محفوظ مشترکہ دریاؤں کا قدرتی بہاؤ بھی عالمی امن کے لیے ناگزیر ہے۔

بلاول بھٹو زرداری کے خطاب کا سب سے اہم اوردوٹوک حصّہ وہ تھا، جس میں انہوں نےکہا کہ اگر پاکستان کے قانونی حصےکے پانی کو روکنے یا اس کے بہاؤ میں دانستہ رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی گئی تو پاکستان اِسے اپنے وجود کے خلاف خطرہ (Existential Threat) تصورکرے گا، اور ایسی کارروائی کو ’’جنگی اقدام‘‘ (Act of War)سمجھا جائے گا۔

پاکستان کی تقریباً پوری زرعی معیشت مغربی دریاؤں (دریائے سندھ، جہلم اور چناب) پراستوارہے۔ مُلک کی غذائی پیداوار، کپاس، گندم، چاول، گنےکی کاشت، پن بجلی کے بڑے منصوبے، صنعتی پیداوار، شہری آبادیوں کی پانی کی ضروریات اور کروڑوں افراد کاروزگاراسی آبی نظام سے وابستہ ہے۔

اگر اس بہاؤ میں مصنوعی رکاوٹ پیدا کی جائے تو اس کے اثرات صرف زرعی شعبے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ قومی معیشت، غذائی تحفّظ، توانائی، سماجی استحکام اور داخلی سلامتی سب متاثر ہوں گے۔ تاہم بلاول بھٹو زرداری نے اس کے ساتھ ساتھ ایک اور نہایت اہم پہلو پر بھی زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کاردِّعمل کسی ایک وزارت، کسی ایک سیاسی جماعت یا کسی ایک ادارے تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ پارلیمان، دفترِ خارجہ، قانونی ماہرین، تیکنیکی اداروں اور مسلح افواج سمیت ریاست کے تمام ستونوں کو ایک مربوط قومی حکمتِ عملی کے تحت کام کرنا ہوگا۔

ان کے نزدیک یہ صرف حکومت کی ذمّےداری نہیں بلکہ پوری ریاست کا مقدمہ ہے، کیوں کہ سندھ طاس معاہدہ کسی سیاسی جماعت کا نہیں بلکہ پاکستان کےعوام کے اجتماعی حقِ حیات کا محافظ ہے۔ اُنھوں نےپاکستان پریہ ذمّےداری بھی عائد کی کہ وہ اپنا مؤقف دنیا کے ہرمؤثر فورم تک پہنچائے۔

پاکستان کو اقوامِ متحدہ، ورلڈ بینک، بین الاقوامی عدالتوں، مستقل عدالتِ ثالثی، دوست ممالک اورعالمی دارالحکومتوں میں بھرپور سفارتی مہم چلانی چاہیے تاکہ دنیا کو یہ باورکروایا جاسکےکہ سرحد پار دریاؤں کو سیاسی دباؤ کے آلے میں تبدیل کرنا نہ صرف سندھ طاس معاہدے بلکہ پورے بین الاقوامی قانونی نظام کے لیے خطرہ ہے۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ عالمی برادری کو مستقبل میں ایک ایسے بین الاقوامی کنونشن کی تشکیل پرغورکرناچاہیے، جومشترکہ دریاؤں کو بطور سیاسی یا عسکری ہتھیار استعمال کرنے پر واضح پابندی عائد کرے۔

آج دنیا میں بےشمارمعاہدےمختلف دریائی نظاموں کو منظّم کرتے ہیں،مگرابھی تک ایساکوئی جامع عالمی قانونی فریم ورک موجود نہیں، جو واضح طور پر پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کو ممنوع قرار دیتا ہو۔ موسمیاتی تبدیلی، بڑھتی ہوئی آبادی اور پانی کی قلت کے تناظر میں یہ خلامستقبل میں عالمی امن کےلیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔

پاکستان نے موجودہ بحران میں جس سفارتی حکمتِ عملی کا مظاہرہ کیا، وہ اسی وسیع ترسوچ کی عکّاس ہے۔ اسلام آبادنےمحض احتجاج پراکتفا نہیں کیا بلکہ مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا کہ سندھ طاس معاہدےمیں موجودآرٹیکل IX کے تحت تنازعات کے حل کا مکمل قانونی نظام موجود ہے، جس میں مستقل سندھ کمیشن، نیوٹرل ایکسپرٹ اورعدالتِ ثالثی جیسے ادارے شامل ہیں۔

اس لیے کسی بھی اختلاف کا حل انہی قانونی ذرائع سے نکلنا چاہیے، نہ کہ یک طرفہ اعلانات کے ذریعے۔ اسی طرح ورلڈ بینک کا کردار بھی ایک مرتبہ پھر اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ اگرچہ ورلڈ بینک براہِ راست نفاذ کا اختیار نہیں رکھتا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ سندھ طاس معاہدہ، اس کی ثالثی اور سرپرستی میں وجود میں آیا تھا۔

یہی وجہ ہے کہ یہ معاہدہ ہمیشہ صرف پاکستان اور بھارت کےدرمیان ایک دوطرفہ انتظام نہیں سمجھا گیابلکہ عالمی سفارت کاری اور بین الاقوامی ثالثی کی ایک تاریخی کام یابی کے طور پر تسلیم کیا جاتا رہا، چناں چہ اس معاہدے کی بقا خود کثیرالجہتی سفارت کاری (Multilateral Diplomacy) کی ساکھ سے بھی جڑی ہوئی ہے۔اس تنازعےکےاثرات جنوبی ایشیا تک محدودنہیں رہتے۔

افریقا، ایشیا، یورپ اورلاطینی امریکا میں بےشمار ممالک مشترکہ دریاؤں کے ذریعے ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔ دریائے نیل، دریائے میکونگ، دریائے ڈینیوب، دریائے سینیگال اور دنیا کے متعدد دیگر آبی نظام اسی اعتماد پرقائم ہیں کہ بین الاقوامی معاہدے وقتی سیاسی اختلافات سے بالاتررہیں گے۔ اگر یک طرفہ معطلی کو قبول کرلیا گیا تو دنیا بھر کے زیریں دھارے (Downstream) پر واقع ممالک اپنے بنیادی آبی حقوق کے بارے میں مستقل غیریقینی کیفیت کا شکار ہوجائیں گے۔ جب کہ موسمیاتی تبدیلی نے اس مسئلے کو مزید پیچیدہ کردیا ہے۔

گلیشیئر تیزی سے پگھل رہے ہیں، بارشوں کےاندازبدل رہےہیں، سیلاب اورخشک سالی کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ایسے میں بین الاقوامی معاہدوں کی ضرورت کم نہیں بلکہ پہلے سےکہیں زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ چیلنج یہ نہیں کہ موجودہ ادارہ جاتی نظام کم زورکیاجائے،بلکہ یہ ہےکہا سے مزید مضبوط، لچک دار اور مؤثر بنایا جائے تاکہ قدرتی دباؤ ریاستوں کے درمیان تصادم کے بجائے تعاون کو فروغ دے۔

یہی وہ مقام ہے، جہاں سندھ طاس معاہدےکی اصل عظمت سامنے آتی ہے۔ اسے اکثر صرف پانی کی تقسیم کا معاہدہ سمجھ لیا جاتا ہے، حالاں کہ حقیقت میں یہ ایک جامع ادارہ جاتی نظام ہے۔ اس معاہدے کا اصل حُسن یہ ہے کہ اس نے صرف دریاؤں کی تقسیم نہیں کی بلکہ اختلافات کو امن کے ساتھ سنبھالنے کا مستقل نظام بھی تشکیل دیا۔

شاید یہی وجہ ہےکہ یہ معاہدہ ان جنگوں میں بھی قائم رہا، جنہوں نے دنیا کے بہت سے دوسرے معاہدوں کو تاریخ کےصفحات میں دفن کردیا۔ اس کے معمار جانتےتھے کہ حکومتیں بدلتی رہتی ہیں، سیاسی ماحول تبدیل ہوتا رہتا ہے، سرحدوں پر کشیدگی چلتی رہتی ہے، لیکن دریا سیاست کی عُمرسےکہیں زیادہ طویل عُمر رکھتے ہیں۔ اس لیے انہوں نےایسا قانونی اور ادارہ جاتی ڈھانچا قائم کیا، جو وقتی حکومتوں سے زیادہ دیرپا ثابت ہو۔

اسی تناظرمیں بھارت کا یک طرفہ اعلان صرف سندھ طاس معاہدے کی تشریح کا اختلاف نہیں بلکہ اس بنیادی اصول کو چیلنج کرتا ہے، جس پرجدید بین الاقوامی قانون قائم ہے۔ ریاستیں اپنے بین الاقوامی وعدوں کی پابند رہتی ہیں، جب تک کہ وہ باہمی رضامندی سےانہیں تبدیل نہ کر دیں۔ بھارت کے برعکس پاکستان نے مسلسل یہی مؤقف اختیار کیا ہے کہ اختلافات کتنے ہی شدید کیوں نہ ہوں، ان کا حل اُسی قانونی راستے میں تلاش کیا جانا چاہیے،جس پر دونوں ریاستیں 1960 ء میں باہمی رضامندی سے متفق ہوئی تھیں۔

حرفِ آخر کے طور پر اتنا ہی کہا جا سکتا ہےکہ یہ تنازع صرف پاکستان کےآبی حقوق یا بھارت کی ذمّے داریوں کا سوال نہیں۔ یہ اس بڑے سوال سےجڑا ہوا ہے کہ کیا بین الاقوامی قانون اب بھی طاقت کوحدود کاپابند بنا سکتا ہے، یا دنیا ایک ایسےدَورمیں داخل ہورہی ہے، جہاں معاہدوں کی حیثیت محض سیاسی سہولت تک محدود ہوجائے گی؟

سندھ طاس معاہدہ آج بھی دنیا کو یہ سبق دیتا ہےکہ شدید ترین اختلافات کےباوجود تعاون ممکن ہے، بشرطیکہ اس کی بنیاد قانون، باہمی اعتماد اور ادارہ جاتی استحکام پر رکھی جائے۔ گزشتہ پینسٹھ برسوں میں اس معاہدے نے جنگوں کے دوران قانون کی طاقت کو زندہ رکھا۔ آج اس کا سامنا ایک نئے امتحان سےہے، اور یہ امتحان صرف پاکستان اور بھارت کا نہیں بلکہ پورےبین الاقوامی قانونی نظام کا ہے۔

پاکستان کے لیے سندھ طاس معاہدے کا دفاع محض دریاؤں کے پانی کا دفاع نہیں، بلکہ ایک ایسے قانونی عہد کا دفاع ہے، جوسفارت کاری کی بصیرت، بین الاقوامی قانون کی بالادستی اور انسانی بقاکے مشترکہ اصولوں پر استوار ہے۔ اس عہد کی حفاظت درحقیقت اس یقین کی حفاظت ہے کہ مشترکہ دریا قوموں کے درمیان کشیدگی کا نہیں، تعاون، امن اور مشترکہ مستقبل کا وسیلہ بننے چاہییں۔

اور ایک ایسی دنیا میں، جو موسمیاتی تبدیلی، پانی کی قلت اوربڑھتی ہوئی جغرافیائی رقابتوں سے دوچارہے، شاید اس سےزیادہ اہم اور پائےدار اصول کوئی دوسرا نہیں۔ آخر میں، بھارتی شاعر جاوید اختر کے نام پاکستانی شاعر رحمان فارس کا شعری پیغام ؎

جو وقت آیا تو جاں دیں گے اور سر دیں گے

مگر تمہیں نہ کبھی اپنے بحر و بَر دیں گے

اُنہیں بتانا کہ ہم کربلا کے فاتح ہیں

جو کہہ رہے ہیں کہ ہم پانی بند کردیں گے