افشاں نوید، کراچی
آج شہرِ کراچی کا مصروف ترین ’’بچت بازار‘‘ کسی دَور میں مشہور امیوزمینٹ پارک ہوا کرتا تھا، جہاں عروس البلاد کے دُور دراز علاقوں سے بچّے اپنے حصّےکی خوشیاں سمیٹنے آیا کرتے تھے۔ جُھولے، روشنیاں، قہقہے، کھانے پینے کی اشیاء اور والدین کی انگلیاں تھامے بچّوں کی خوشی سے چمکتی دمکتی آنکھیں… لیکن آج بچّوں کی سیروتفریح کے اِسی بڑے مرکز میں، جو کبھی سرِشام آباد ہوجایا کرتا تھا، آج بڑا ’’بچت بازار‘‘ لگتا ہے۔ یاد رہے، یہ پارک 2021ء میں بندکیا گیا، جس کے نتیجے میں شہر بَھر کے بچّے ایک بڑے تفریحی مقام سے محروم ہوگئے۔
بدقسمتی سے ہمارے شہر میں فلک بوس عمارتوں اور شاپنگ مالز میں توتیزی سے اضافہ ہورہا ہے لیکن بچّوں کے تفریحی مقامات سُرعت سے سمٹتے جا رہے ہیں اور جو پارکس باقی بھی بچے ہیں، اُن کی حالتِ زار دیکھ کر دل خُون کے آنسو روتا ہے۔ گزشتہ دِنوں ہمارا نارتھ ناظم آباد، بلاک ایف میں واقع ایک معروف پارک کے قریب سے گزر ہوا، تو فیملیز اور بچّوں کے لیے بنایا گیا وہ خوب صورت تفریحی مقام بھی ویران نظر آیا۔ پارک سے جُھولے غائب تھے اور جگہ جگہ ملبے کے ڈھیر دکھائی دے رہے تھے۔
ہمیں ڈرہے، کل کہیں یہ تفریحی مقام بھی کسی بچت بازار کےلیےمختص نہ کردیا جائے۔ یاد رہے، کچھ عرصہ قبل مذکورہ پارک میں ایک بچّے کے گُم ہونے کا واقعہ رُونما ہوا تھا۔ گرچہ چند روز بچّہ بازیاب ہوگیا لیکن واقعے کے بعد اس پارک کو بند کردیا گیا، جہاں بڑی تعداد میں غریب خاندان سیروتفریح کے لیے آتے تھے۔ ویسے کراچی کے پارکس میں جان لیوا حادثات کا رُونما ہونا کوئی نئی بات نہیں۔
قبل ازیں، جولائی 2018ء میں ایک مشہور تفریحی پارک میں جُھولا گرنے سے ایک کم سِن بچّی جاں بحق اور 15افراد زخمی ہوگئے تھے، جب کہ 2023ء میں کلفٹن کے ایک پارک میں جُھولے سے گرنے کے نتیجے میں 17 سالہ نوجوان جاں بحق ہوگیا تھا۔ یقیناً ایسا ہر ایک حادثہ دل دہلا دیتا ہے، لیکن ان حادثات کے ذمّےداران کا تعیّن کبھی نہیں پاتا۔ مگرکیا یہ طریقۂ کاردُرست ہے کہ ہر حادثے کے بعد اُس پارک سے جُھولے ختم کرکے اُسے ویران، بیابان کردیا جائے؟
یعنی متوقّع حادثے کا بہانہ بنا کر بچّوں کو تفریح اور کھیل کُود ہی سے محروم کردیا جائے۔ پارکس، تفریحی مقامات پر حادثات سے بچاؤ معیاری حفاظتی انتظامات ہی سے ممکن ہےاوراس ضمن میں لازم ہے کہ ہر جُھولے کا باقاعدگی سے معائنہ ہو۔ پُرانے، ناقص پُرزے تبدیل کیے جائیں۔ جُھولے آپریٹ کرنے والے افراد تربیت یافتہ، ذمّے دار اور پروفیشنل ہوں۔
پارکس میں حفاظتی اصولوں کی پابندی لازمی قرار دی جائے اور سب سے بڑھ کریہ کہ جس ادارے کے پاس پارک کی ذمّے داری ہو، اُسے اس بات کا احساس ہونا چاہیے کہ صرف لوہےکے ڈھانچوں کی نگرانی ہی نہیں، بچّوں کی زندگیوں کا تحفظ بھی اُس کی ذمّے داری ہے۔ یعنی اگر کوئی جُھولا خطرناک ہے، تو اُسے محفوظ بنائیں، بچّوں کا جیون خطرے میں نہ ڈالیں۔
پچھلے دنوں ہماری بیٹی نے بتایا کہ اب اُس کے بچّوں نے پارکس میں جانے سے انکار کردیا ہے، کیوں کہ اب ان تفریحی مقامات سے برقی جُھولے ہٹا دیے گیے ہیں۔ ذرا سوچیے کہ جب پارکس سے جُھولے ہی ہٹا دیے گئے ہیں، تو وہاں بچّوں کی دل چسپی کا کیا سامان باقی رہ گیا ہے۔ ایک وقت تھا،بچّے والدین سے پارک لے جانے کی ضد کیا کرتے تھے، لیکن اب یہی بچّے پارکس سے اکتا گئے ہیں۔
آج والدین بچّوں سے کہتے ہیں کہ اپنا اسکرین ٹائم کم کرو اور باہر جا کر کھیلو کُودو، لیکن بچّے باہرجا کر کریں گے کیا؟ سڑکوں، فٹ پاتھس پر گاڑیوں کا ہجوم ہے اور کھیل کے میدان عُنقا، جب کہ پارکس کی دیکھ بھال نہ ہونے کے سبب وہاں جُھولے ٹوٹ پُھوٹ کا شکار ہیں۔ ہم ایک طرف نئی نسل کے موبائل فون استعمال کرنے سے پریشان ہیں، تو دوسری طرف ہم نے اُن کے لیے متبادل سرگرمیوں کے مقامات محدود کر دیے ہیں۔
یاد رکھیں، اگر بچّوں کو موبائل فون کی دُنیا سے باہر نکالنا ہے، تو اُنہیں کھیل کُود کے میدان اور محفوظ پارکس مہیّا کرنا ہوں گے۔ ہمیں یہ ذہن نشین کر لیناچاہیے کہ میدان اور پارکس صرف تفریح کا ذریعہ نہیں، یہ بچّوں کی ذہنی و جسمانی نشوونما کے لیے بھی لازم ہیں۔ پارک میں بچّہ صرف بھاگتا دوڑتا نہیں، نئے نئے دوست بناتا ہے، جس سے اُس کی سماجی تربیت بھی ہوتی ہے۔ وہ کھیل کُود کے دوران جیتنا، ہارنا اور جُھولے پر اپنی باری کا انتظار کرنا سیکھتا ہے۔
یعنی پارک اُس کی شخصیت سازی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اِسی طرح والدین کو بھی ایک ایسی جگہ چاہیے کہ جہاں وہ شام کے وقت اپنے بچّوں کے ساتھ چند سکون بَھرے لمحات گزارسکیں۔ خصوصاً کراچی جیسے شہر میں، جہاں گرمی، ٹریفک، لوڈ شیڈنگ، شور، آلودگی اور آبادی کے دباؤ نے پہلے ہی زندگی کو مشکل بنا دیا ہے، پارکس آسائش نہیں بلکہ ضرورت بن چُکے ہیں۔
کراچی میں بعض پارکس کی بحالی کا فیصلہ خوش آئند ہے اور اس ضمن میں رواں برس ضلع وسطی کےکچھ پارکس میں جُھولوں، جاگنگ ٹریکس اور سبزے سمیت دیگر سہولتوں کی بحالی کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔ یعنی اس مسئلے کا حل نکالا جا سکتا ہے لیکن اصل مسئلہ ترجیحات کا ہے۔ اگر ہم چاہیں، تو شہر بَھرکے پارکس دوبارہ آباد ہوسکتے ہیں لیکن اس کے لیے ضروری ہےکہ انھیں محض سرکاری اراضی نہ سمجھا جائے۔ پارکس بچّوں کا حق ہیں اور بچّوں کے حقوق کی حفاظت بھی اُتنی ہی اہم ہے، جتنی کسی سڑک، پُل یا تجارتی منصوبے کی۔
شاید پاکستان دُنیا کا واحد مُلک ہے کہ جہاں پارکس کےلیےمختص اراضی بھی ہتھیا لی جاتی ہے اور اس سے آمدنی حاصل کرنے کے لیے یہاں بازار، دُکانیں قائم یا کوئی دوسرا کاروبار شروع کر دیا جاتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کراچی کو روزگار، کاروبار، تجارت اور ترقّی کی ضرورت ہے مگر اس کے ساتھ ہی اس شہر کے بچّوں کو جُھولوں سے آراستہ پارکس اور کھیل کُود کے میدان بھی چاہئیں۔ انہیں ایک ایسی جگہ چاہیے، جہاں وہ اپنے والدین کا ہاتھ پکڑکر خوشی خوشی جاسکیں، جہاں سرِ شام اُن کے ننّھے دوست اُنہیں جُھولوں پر اپنے منتظر ملیں۔
ہم اپنے بچّوں کو ہنستے مسکراتے، کھیلتے کودتے دیکھنا چاہتے ہیں، مگرشہر میں اُن کے لیےصحت بخش تفریح کےذرائع مسلسل کم ہوتے جا رہے ہیں اور یہ صرف حکومت کی ناکامی نہیں، ہم سب کی غفلت کا نتیجہ ہے۔ مفاد پرست عناصر اپنی تجوریاں بَھرنے کے لیے بچّوں سے کھیلنے کُودنے کا حق بھی چھین لیں، اور ہم سب خاموش تماشائی بنے رہیں، یہ تو کسی طور مناسب نہیں۔
اب تمام والدین کو ان عناصر سے جواب طلب کرنا ہوگا بلکہ ہر شہری کو آواز اُٹھانی ہوگی اور بلدیاتی اداروں سمیت اُن سب کو جواب دینا ہوگا کہ جو شہر کی زمین سے متعلق فیصلے کرتے ہیں۔ انہیں یہ سوچنا ہوگا کہ ہرخالی جگہ آمدنی کا ذریعہ نہیں ہوتی بلکہ کچھ مقامات نسلیں تیار کرتے ہیں۔
ایک پارک میں لگایا گیا پودا دس سال بعد صحت مند ماحول کے لیے اثاثہ ثابت ہوگا۔ ایک محفوظ جُھولا ہزاروں بچّوں کی یادوں کا حصّہ بنے گا۔ ایک صاف سُتھرا میدان کسی بچّے کو کھیل کُود کا شوق دے کراُسے کئی بیماریوں سے بچالے گا اور ایک خُوب صُورت پارک سے کسی ماں کو یہ اطمینان ملے گا کہ اُس کا بچّہ موبائل فون کی اسکرین کی بجائے سَر اُٹھائے شفّاف نیلگوں آسمان پر محوِ پرواز پرندے دیکھ کر خوش ہو رہا ہے۔
خدارا! اپنے بچّوں کے حصّے کی زمین کا تحفّظ یقینی بنائیں۔ اگر بجٹ کم ہے، تو اپنی ترجیحات دُرست کریں۔ بازار بعد میں بھی بن سکتے ہیں اور تجارت بعد میں بھی فروغ پا سکتی ہے مگر ایک بچّے کا بچپن کبھی واپس نہیں آتا۔
شاید کسی دن یہی بچّے ہم سے یہ سوال کریں کہ ’’آپ نے ہمارے شہر میں ہمارے لیےکیا چھوڑا؟‘‘ اگر ان کے پاس بچپن کی کوئی یادگار شام، کوئی درخت، کوئی میدان اور کوئی جُھولا نہ ہوا، تو کنکریٹ کے یہ جنگل بڑا سوالیہ نشان بن جائیں گے۔