• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

صاحبِ علم و کمال: پروفیسر انجینئر احسن اقبال

صاحبو! ہم نے تیز چائے کی ایک گرما گرم، لبالب پیالی اپنی میز پر دھر لی ہے۔ شام ہے، سو شمع جلا رکھی ہے، قلم ہاتھ میں اور روشنائی دوات میں ہے اور بات ایک ایسی شخصیت کی ہے، جو احسان خُو بھی ہے، اقبال مند بھی۔ یعنی کہانی پروفیسر انجنئیر احسن اقبال کی اور زبانی شاعر رحمان فارس کی۔

کچھ شعبے (جن میں سیاسیات بھی شامل ہے) دو دھاری تلوار کی مانند ہوتے ہیں کہ اُن پر بہت پھونک پھونک کر، چھان پھٹک کر، پرکھ پھرول کرقدم رکھنا پڑتا ہے۔ ہمارے مدبّر راہ نُما احسن اقبال اس میدان میں روزِ اوّل سے آج تک متانت کے عَلم بردار اور خلوصِ نیّت کے نشان ہیں۔ میری ان سے اولین ملاقات کی کہانی بہت دل چسپ ہے۔ یونی ورسٹی آف نارووال میں مشاعرے کا پنڈال سجا۔ برادرِعزیز اور نہایت وسیع المطالعہ ڈاکٹر بابر زیدی کا سندیسہ تھا، سو نہیں نُکڑ کی گنجائش نہ تھی۔

پہنچے تو پتا چلا کہ عزت مآب احسن اقبال کی صدارت ہے۔ ہم اسٹیج ہی پر تھے، جب موصوف تشریف لائے۔ لانبا قد، چھریرا صحت مند بدن، عجز وانکسار آنکھوں میں بھرا، مگر نگاہ بہت پُراعتماد، چشمے کے پیچھے سے جھانکتی ذہین آنکھیں اور سلیقے سے بنے بال۔ لباس بھی دیدہ زیب تھا اور چال بھی۔ ہم نے اسٹیج سے نیچے پنڈال میں جھانکا تو ایک الگ ہی سماں تھا۔ احسن صاحب نے نارووال میں ترقیاتی کاموں کی بہتات کر کے نوجوان نسل میں عجیب ولولہ پیدا کر دیا ہے۔ یونی ورسٹی آف نارووال اِسی ترقی کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔

چہار سمت نسلِ نَو کے لڑکے لڑکیاں خوشبوؤں کے قرابے لُنڈھاتے اور اینڈتے اِٹھلاتے پِھر رہے تھے۔ فلکِ کج رفتار چاہے لاکھ من مانی کرے، احسن صاحب نے چاہا اور کر دکھایا کہ یہ علاقہ ترقی کو اپنے گلی کُوچوں میں دیکھے۔ خوشیاں لوگوں کے چہروں سے عیاں تھیں کہ آٹھ دن میں نَو میلوں ٹھیلوں کی اللہ آمین کرتے شہری ہرسُو موجودتھے۔ایسا نہیں کہ محض میٹھی عید اور سلونی عید ہی پر لوگ سکون و اطمینان سے مُسکرا سکیں۔

اتنے ہجوم کے باوجود کوئی ہڑبوم نہ تھی۔ کچھ لوگ پرے دُور کھانے کے اسٹالز پر چکھا چکھی میں محو، ایک جمِ غفیر مشاعرے میں داد دیتا ہوا۔ ہم نےاحسن صاحب سے سرگوشی میں کہا کہ ’’سر! اس قدر منظم مشاعرہ کیسے؟‘‘ کہنے لگے کہ ’’یہ جامعہ تعلیم پر بعد میں توجّہ دیتی ہے، پہلے تربیت کرتی ہے۔‘‘ یقین کیجے، بےانتہا خوشی ہوئی۔ ثابت ہواکہ رہنما خوش نیت، ذہین، باعلم اور صاحبِ عزم و حوصلہ ہو تو قوم خُود بخود سنور نکھر جاتی ہے۔ اُس مشاعرے میں ہم نے جو اشعار سُنائے، اُن میں سے ایک شعر بعد میں احسن اقبال صاحب نے نیشنل اسمبلی میں پڑھا اور بکمالِ محبت ہمیں ویڈیو بھی بھجوائی۔

ہمارے میزبان ڈاکٹر بابر زیدی کم سِنی میں معلم اور کم عُمری میں مترجم بن گئے ہیں۔ گفتگو سے معیار اور چہرے مہرے سے اقدار ثابت ہیں۔ انہوں نےاحسن صاحب کی دل نشیں شخصیت کے حوالےسےکچھ حیران کُن باتیں ہمارے گوش گزار کیں، جو ہم آپ کو سُناتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ’’2024ء کی ایک سہانی صُبح عزیز دوست ڈاکٹر رانا یونس کے ہم راہ میرا نارووال میں احسن اقبال صاحب کی رہائش گاہ پر جانا ہوا۔ ہم ڈرائنگ روم میں بیٹھے تھے۔

رانا صاحب نےاستفسار کیا کہ احسن صاحب جاگ رہے ہیں تو معلوم ہوا کہ ایک آن لائن میٹنگ میں شمولیت جاری ہے۔ ساتھ ہی ڈرائیورنےبتایا کہ صاحب صُبح نماز سے پہلے اُٹھ گئے تھے۔ بعدازاں انھوں نےاپنا ناشتا خُود تیار کیا اورچھوٹےموٹے کام بھی خود کیے۔ اس کے بعد مجھے (یعنی ڈرائیور کو) ناشتا کروایا۔ مجھے اُس دن علم ہوا کہ نارووال، اُن کی رہائش گاہ پر کوئی باقاعدہ ملازم موجود نہیں۔ ان کے ووٹر سپورٹرز میں سے وہ افراد، جو ان سے لگاؤ رکھتے ہیں، وقتاً فوقتاً کام کاج کے لیے آ جاتے ہیں۔ طرزِ زندگی سادہ اور مناسب ہے۔

اِسی سے یاد آیا کہ مَیں ایک بار2018 ء میں اُن کے صاحب زادے احمد اقبال سے ملنے اِسی رہائش گاہ پرگیا۔ شدید گرمی کی وجہ سے لوڈ شیڈنگ جاری تھی۔ احمد اقبال کھانا کھا رہے تھے، لیکن اُس وقت گھر میں یو۔پی۔ایس نہ ہونے کی وجہ سے کھانا دشوار ہو رہا تھا۔ احمد دنیا کی چوٹی کی یونی ورسٹی، یونی ورسٹی آف پنسلوانیا سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد پاکستان آئے تھے اور ابھی ان کی سیاسی تربیت کا سفر جاری تھا۔

والد کا یہ قومی عُہدہ اور بیٹے کا یہ عجزوانکسار۔ احسن صاحب نے احمد کی تربیت بھی اپنی ذاتی اور خاندانی اعلیٰ اقدار کے عین مُطابق کی ہے۔‘‘ انہی اقدار کی ایک اورگواہی ملاحظہ کیجے۔ خواجہ وسیم بٹ صاحب ایم پی اے اور چیئرمین بیت المال پنجاب ہیں۔ گزشتہ برس عُمرے کے سفر پر احسن صاحب کے ہم راہی تھے۔ اُنہی کے وسیلے سے ایک نہایت پُرتاثیر اورکیفیت بھری بات ناچیز تک پہنچی۔ فرماتے ہیں، احسن صاحب ہرسال عُمرےکےلیےحرمین شریفین حاضری دیتے ہیں۔

بیت اللہ اور درِ رسولِ مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر حاضری کے دوران اُن کی کیفیت مکمل درویشی کی، حالت مکمل وجد ومستی کی اور صُورت کامل عاشقِ رسولﷺ کی ہوتی ہے۔ سر پر ایک بالکل عام سی صوفیانہ ٹوپی، سفید قمیص شلوار میں ملبوس سراپا، دُعائیں کرتا وجود، مستقل جُھکی آنکھوں میں آنسوؤں کی روانی، لبوں پر وردِ درودِ پاک کی مسلسل نمود۔ خاموشی، یک سوئی اور فقر سے مسلسل بھرے رہتے ہیں۔ کسی پروٹوکول کی کوئی پروا نہیں، کسی خاص عہدے کی کوئی یاد نہیں۔ ایک سچّے سُچّے عاشقِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حاضری ہوتی ہے، اور ہر سال ہوتی ہے۔

اِسی طرح ملک سعید الحق صاحب احسن اقبال کے پرانے رفیق اور ایک درویش صفت انسان ہیں۔ اُن کی بتائی ہوئی کہانی بھی سُن لیجے۔ بتاتے ہیں کہ ’’2018ء الیکشن کمپین کے دوران احسن اقبال مختلف مقامات پر جلسے کر رہے تھے۔ وہ عام طور پر بھی اپنے حلقے کے سبھی علاقوں میں جاتے ہیں، عوام سے ملاقات کو اپنے روزمرہ میں شامل رکھتے ہیں۔ 6 مئی کو کجروڑ کے مقام پر وہ پاکستان کے انفراسٹرکچر کی تعمیراورمعاشی منصوبوں پرگفتگو کررہے تھے کہ اسی جلسے میں چُھپ کر بیٹھے ہوئے کسی شخص نے اُنہیں گولی کا نشانہ بنایا۔

ستم ظریفی دیکھیے کہ جس شخص کی ساری سیاست مذہبی نظریات کے تابع رہی ہو، اُسے مذہب دشمن قرار دے کراُس پر قاتلانہ حملہ کیا گیا۔ احسن اقبال بُری طرح زخمی ہوگئے۔ اُنھیں نارووال ڈسٹرکٹ اسپتال لے جایا گیا۔ خون بہہ رہا تھا، احسن اقبال زخمی تھے اور ان کا دل بری طرح گھائل تھا۔ انہوں نے چند ساتھیوں کو قریب بلا کر کچھ جملے انتظامی امور پر کہے۔

پھر نارووال میڈیکل کالج کے حوالے سے کہا کہ یہ کالج ضرور مکمل ہونا چاہیے، یہ میرا خواب ہے۔ احسن اقبال اس قدر زخمی تھے کہ اُنھیں لاہور منتقل کرنا پڑا۔ زخم کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ گولی ہمیشہ کے لیے ان کے جسم ہی میں ٹھہر گئی۔‘‘

صاحبو! جسے اللہ رکھے، اُسے کون چکھے۔ اس شخصیت سے اللہ کو ابھی ملکِ خداداد اور قوم کے لیے مزید بہت سے اعلیٰ کام لینےہیں۔ موصوف پاکستان کی سیاست کے اُن کرداروں میں شمار ہوتے ہیں، جنہوں نے اقتدار کے ایوان بھی دیکھے، اپوزیشن کے دالان بھی اور زمانےکےسرد و گرم کے سب امکان بھی۔ آج وہ وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی، خصوصی اقدامات اور بین الصوبائی رابطہ کے منصب پر فائز ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے سیکریٹری جنرل ہیں اور قومی اسمبلی کے رکن کی حیثیت سے اپنی ذہانت و فطانت اور علم پروری کے ذریعے ایک بار پھر پارلیمان کی رونق بڑھا رہے ہیں۔

قومی اسمبلی سے اُن کا رشتہ کوئی آج کا تھوڑی ہے۔ سیاست کے اس کوچۂ پُرخار میں وہ کئی بارعوام کےاعتماد کا چراغِ روشن لے کر داخل ہوئے۔ 1993ءسے 1999 ء تک، پھر 2008 ء سے 2018 ء تک، اس کے بعد اگست 2018 ء سے اگست 2023 ء تک اور پھر موجودہ دَور میں، ہر بار نئی ذمّے داری، نیا امتحان اور نئی آزمائش ان کے حصّے میں آئی۔ گئے دنوں میں بزرگ کیا خُوب کہا کرتے تھے کہ ’’جس تن لاگے، سو تن جانے۔‘‘ یہ الگ بات کہ خدائے بزرگ و برتر کے کرم سے احسن صاحب ہر آزمائش سے کام ران، ہر امتحان سے کام یاب اور ہر مشکل سے آسان نکل کر سامنے آئے ہیں۔

وزارتوں کی فہرست دیکھیے تو معلوم ہوتا ہے کہ اُن کے سر پر بیک وقت کئی کئی دستاریں رکھی گئیں اور ہاتھوں میں کئی قلم دان دیے گئے۔ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کی حکومت میں اپریل 2022ء سے اگست 2023 ء تک وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی رہے۔ اس سے پہلے شاہد خاقان عباسی کی کابینہ میں ایک طرف وزارتِ داخلہ کا بار اُٹھایا، تو دوسری طرف منصوبہ بندی، ترقی اور اصلاحات کا قلم دان بھی کمال مہارت و خوبی سےسنبھالے رکھا۔

میاں نوازشریف کےتیسرے دورِ حکومت میں وزارتِ منصوبہ بندی اور نائب چیئرمین پلاننگ کمیشن کے منصب پرجلوہ گررہے، جب کہ سید یوسف رضا گیلانی کی کابینہ میں مختصرعرصےکےلیے وزارتِ تعلیم اور وزارتِ اقلیتی امور بھی ان کے سپرد کی گئی۔ میاں نواز شریف کے دوسرے دورِ حکومت میں 1998 ء سے 1999ء تک پلاننگ کمیشن کے نائب چیئرمین کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں۔

یوں کہا جا سکتا ہے کہ مُلکی سطح پر قومی پالیسی سازی اورمنصوبہ بندی ان کے پڑھے لکھے دماغ کا مستقل حصّہ بن گئی ہے۔ اور کیوں نہ ہو کہ یہ صلاحیت، لیاقت اور قابلیت اُن کی رگوں میں وراثت کی عطا کردہ ہے۔ ان کا خانوادہ پنجاب کے معتبر و محترم گھرانوں میں شمار ہوتا ہے۔ ننھیال کی روایت سیاست سے آشنا تھی۔ نانا چودھری عبدالرحمٰن خان برطانوی عہد میں پنجاب قانون ساز اسمبلی کے رکن رہے۔

پھر تقسیمِ ہند کا وہ ہنگامۂ محشر آیا کہ خاندان کو جالندھر کی آبائی خاندانی عزیز بستی چھوڑ کر ہجرت کا کرب سہنا پڑا۔ لیکن یہی آزمائشیں بعض خاندانوں کے مزاج میں استقلال پیدا کر دیتی ہیں۔ اُن کی والدہ، بیگم نثار فاطمہ خُود بھی ایک مدبّر خاتون رہنما تھیں، جو 1985 ء کے عام انتخابات میں خواتین کی مخصوص نشست پر قومی اسمبلی کی رکن منتخب ہوئیں۔ یوں سیاست احسن اقبال کے لیے کوئی کوچۂ نا آشنا یا اجنبی شہر ہرگز نہیں تھا بلکہ گھر کی فضا ہی میں علمِ سیاسیات کی مہک رچی بسی تھی۔ اُن کے بھائی مصطفیٰ کمال بھی پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی کے چیئرمین رہ چُکے ہیں۔

یہاں مجھےاپنی ایک ملاقات کی کہانی یاد آگئی، جواحسن صاحب کےدفتر ہی میں ہوئی۔ برادرِعزیز اور بہترین شاعر نعمان محمود انگلستان سے تشریف لائے تھے اور اس ملاقات میں ساتھ تھے۔ ناچیز نے احسن صاحب سے عرض کیا کہ ’’سر! خوبیٔ قسمت سے میرا بیک گراؤنڈ بھی پاکستان ائیرفورس کا ہے۔‘‘ اس پراپنے دھیمےانداز میں مسکرائے اور فرمایا کہ’’ پاکستان آرمڈ فورسز ہمارا فخر ہیں۔‘‘جس خندہ پیشانی سے وہ ملے، بعد ازملاقات نعمان بھائی مجھ سے کہہ اُٹھے کہ ’’فارس میاں! شخصیت ہو تو ایسی۔‘‘ احسن صاحب نے ابتدائی تعلیم پی اے ایف کالج، سرگودھا سے حاصل کی۔

ذہین فطین تو تھے، سو 1976 ء میں انجینئرنگ کی دنیا نے اُنہیں اپنی طرف کھینچا اور یونی ورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، لاہور میں داخلہ لے لیا، جہاں سے 1981 ء میں مکینیکل انجینئرنگ میں بی ایس سی کی سند حاصل کی۔ اس کے بعد امریکا کارُخ کیا اورجامعۂ پنسلوانیا کےمعروف وارٹن اسکول سے 1986 ء میں ایم بی اے کیا۔ ویسے اُنہوں نے گورنمنٹ کالج لاہور، جارج ٹاؤن یونی ورسٹی اور ہارورڈ یونی ورسٹی میں بھی علمی استفادے کے مختلف النّوع مراحل طے کیے۔

سیاسی سفرکاآغازطالبِ علمی کےزمانے ہی میں ہوا۔ یونی ورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کی طلبہ یونین کے صدر منتخب ہوئے اور پھر اسلامی جمعیت طلبہ سے وابستگی اختیار کی، جو جماعتِ اسلامی کی طلبہ تنظیم سمجھی جاتی ہے۔ نوجوانی ہی میں سیاست کی بساط پر پاؤں پاؤں چلتےچلتے انہوں نے استقامت کی وہ راہ سیکھی کہ جو کم کم کو نصیب ہوتی ہے۔ 1993ء کے عام انتخابات میں نارووال کے حلقہ این اے 117سے پہلی مرتبہ قومی اسمبلی پہنچے۔

اُسی برس وزیرِاعظم پاکستان کے معاون برائے پالیسی وعوامی امور بھی مقرر ہوئے۔1997 ء کے انتخابات میں دوبارہ کام یاب ہوئے، اور جب مسلم لیگ (ن) نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار قومی اسمبلی میں واضح اکثریت حاصل کی تو احسن اقبال حکومت کے نہایت اہم ستونوں میں شمار ہونے لگے۔ انہیں وزیرِ مملکت کے رتبے کے ساتھ پلاننگ کمیشن کا نائب چیئرمین بنایا گیا، پاکستان انجینئرنگ کونسل کی سربراہی سونپی گئی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی اور پیداواری صلاحیت سے متعلق قومی اسٹیئرنگ کمیٹیوں کی قیادت بھی انہی کے سپرد رہی۔

اسی دور میں اُن کی کاوشوں سے پاکستان کی پہلی قومی انفارمیشن ٹیکنالوجی پالیسی مرتب ہوئی۔ علم و ہنر کے ساتھ ساتھ تدریس بھی اُن کے مزاج کا حصّہ ہے، سو 2000 ء سے 2007ء تک اسلام آباد کی محمّد علی جناح یونی ورسٹی میں انتظامی علوم پڑھاتے رہے۔ 2008 ء میں ایک بار پھر قومی اسمبلی پہنچے اور مختصر مدت کے لیے وفاقی وزیرِ تعلیم اور وزیرِ اقلیتی امور بنائے گئے۔2011 ء میں وہ مسلم لیگ (ن) کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل منتخب ہوئے۔ 2013 ء کے انتخابات میں پارٹی کے مرکزی پارلیمانی بورڈ کا حصّہ بنے، امیدواروں کے انتخاب میں شریک رہے، اور خُود بھی چوتھی بار قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔

اس دورمیں وزارتِ منصوبہ بندی و ترقی کے ساتھ پلاننگ کمیشن کے نائب چیئرمین بھی مقرر ہوئے۔ فروری2016 ء میں پائےدار ترقیاتی اہداف کےفروغ میں خدمات کے اعتراف پر اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام نے ایشیا بحرالکاہل کے لیے انہیں ’’چیمپئن منسٹر‘‘ نام زد کیا، جو مملکتِ پاکستان کے لیے بھی بہت بڑا اعزاز تھا۔

شاہد خاقان عباسی وزیرِاعظم منتخب ہوئے، تو احسن اقبال پہلی مرتبہ وزارتِ داخلہ کے منصب پر فائز ہوئے اور چند ماہ بعد وزارتِ منصوبہ بندی کا اضافی قلم دان بھی اُن کے سپرد کر دیا گیا۔ 2018 ء میں نارووال کے حلقہ این اے 87 سے ایک بار پھر کام یاب ہوئے۔ 2024 ء کے عام انتخابات میں نارووال کے حلقہ این اے 76 سے پھر میدان مارا۔ قومی اسمبلی میں واپس آئے اور ایک مرتبہ پھر وفاقی وزارتِ منصوبہ بندی و ترقی کی ذمّےداری سنبھالی۔

احسن اقبال محض سیاست دان نہیں، قلم کے آدمی بھی ہیں۔ انگریزی روزنامہ دی نیوزانٹرنیشنل میں ان کے مضامین وقتاً فوقتاً شائع ہوتے رہے ہیں، جن میں قومی پالیسی، ترقیاتی حکمتِ عملی اور ریاستی معاملات پر اُن کے خیالات کی جھلک دیکھی جا سکتی ہے۔ 14 اگست 2025 ء کے دن انہیں قومی سطح پر معیشت کی بحالی اور’’معرکۂ حق‘‘ میں پاکستان کی فتحِ مُبین کے دوران بہترین قومی خدمات کے اعتراف میں ریاستِ پاکستان کی جانب سے ’’نشانِ امتیاز‘‘ سے نوازا گیا۔

احسن اقبال کی سیاسی زندگی کو اگر ایک جملے میں سمیٹا جائے تو شاید یہی کہا جائے کہ وہ اُن لوگوں میں سے ہیں، جنہوں نے اقتدار کو محض منصب نہیں بلکہ تدبیر کا میدان سمجھا۔ کبھی انجینئر کی باریک بینی سے منصوبے بنائے، کبھی استاد کی متانت سے دلیل دی، کبھی سیاست دان کی مصلحت سےراستہ نکالا، اور کبھی مخالف ہواؤں میں بھی اپنے سیاسی قافلے کا چراغ بجھنے نہ دیا۔ دریا کو کوزے میں بند کرنا آسان نہیں۔ اُن کی سیاسی داستان بھی صرف عہدوں کی فہرست نہیں بلکہ نصف صدی پر پھیلی پاکستانی سیاست کے نشیب و فراز کا ایک آئینہ ہے۔

صاحبو! کسی بھی اعلیٰ مسند پر فائز شخصیت اگر بذاتِ خود عُہدے پر بھاری ہو اور دنیاوی مرتبے کو اپنے اوپر طاری نہ ہونے دے، تو سمجھ لیجے کہ تربیت خاندانی ہے اور اعلیٰ ظرفی اس تربیت کا حصّہ ہے۔ پروفیسر انجنیئر احسن اقبال بھی ایسے ہی اخلاق و کردار کی مجسّم صُورت ہیں۔ ہمارے معاشرے کو قومی سطح پر ترقی و ترویج کے لیے انہی جیسی بہت سی شخصیات اور چاہئیں۔

(خاکہ نگار اسلام آباد میں تعینات سینئر بیوروکریٹ، نہایت مقبول شاعر اور بہترین کالم نگار ہیں)