پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں آئے روز اضافے سے دل برداشتہ، نوکری کی تلاش میں سرگرداں، تازہ تازہ گریجویٹ نوجوان جوتیاں چٹخاتا شہر کی گلیوں کی خاک چھانتا پِھر رہا تھا کہ نادانستگی میں ’’نہرِ عُمرِ خیام‘‘ کے کنارے جا دھمکا۔ گو کہ خستگی میں آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا چھا رہا تھا مگر سماعتوں سے شناسا بھنبھناہٹ ٹکرانے پر کان کھڑے ہوئے، تو اپنی عینک پر پڑی گرد صاف کر کے اُسے ناک پر صحیح طرح سے جمایا کہ جھٹپٹے کے دُھندلکے میں منظر کچھ واضح ہو۔ مچھروں کی پوری پلٹن اُس کے گرد ایسے حلقہ زن تھی، جیسے اُسی کا ہیولیٰ ہو۔
یوں گمان ہوا، جیسے ملین مارچ کر رہے ہوں۔ ایک ایسے وقت میں کہ جب خالی جیب کےسبب یاردوست، واقف کارکنی کترانےلگے، اپنا سایہ بھی ساتھ چھوڑنے کے درپے تھا، ستم بالائے ستم، موبائل کی چارجنگ بھی لبِ دم تھی، مچھروں کی یہ قدردانی اُسے بھلی معلوم ہوئی۔ زندگی کے کئی مون سون دیکھنے اور بھگتنے کے باوجود بھی اُسے یہ ہجوم کچھ غیرمعمولی محسوس ہوا۔ کن سوئیاں لینےکی عادت سے مجبور نوجوان جلد ہی یہ معلوم کرنے میں کام یاب ہوگیا کہ وہ بغیر کسی دعوت یا پیشگی اطلاع کے ’’مچھرستان‘‘ کی سالانہ مجلسِ عام میں پہنچ چُکا ہے۔
ویسے تو انسان ابھی تک دُنیا میں موجود مچھروں کی لگ بھگ 3500اقسام ہی سے واقف ہوپایا ہے، جن میں سےبیش ترانسانوں کے لیے بےضرر ہیں، البتہ تقریباً 100ایسی انواع ہیں، جو بنی نوع انسان کے لیے تباہ کُن ثابت ہوئی ہیں، مگر اس اجلاس میں پاکستان میں پائی جانے والی پانچ بڑی اقسام (Genera) سے تعلق رکھنے والے ایک سو سے زائد مختلف النوع مچھروں کے نمائندے شریک تھے اور اپنی آبادی کی تعداد اور حیثیت کے مطابق گفتگو میں ہرممکن حصّہ ڈالنے کی کوشش کررہے تھے۔
اس جُھنڈ میں موجود کچھ مچھروں کے خُود نمائی پرمائل نوجوان عہدے دار زیادہ پُرجوش تھے اور چیخ چیخ کراوروں کو شایدیہ باور کروانے کی کوشش میں مصروف تھے کہ وہ آواز پیدا کرنے کے لیے اپنے پروں کو ہلانے کی اوسط رفتار یعنی 300سے 600مرتبہ فی سیکنڈ سے بھی زیادہ محنت کررہے ہیں۔ وہ خُود کو زمین کا 100 ملین سال یعنی ڈائنوسارز سے بھی پرانا باسی قرار دے کر اپنے زندہ رہنے کی حیرت انگیز صلاحیت پر فخر کا اظہار فرما رہے تھے۔ ان کے شور ہنگامے میں کان پڑی آواز بھی سنائی نہ دیتی تھی۔ اس سمع خراشی سےگھبرا کر نوجوان ایک کونے میں موجود فٹ پاتھ پر بیٹھ گیا۔
قریب ہی چند جہاں دِیدہ نر اور مادہ مچھر دائرہ بنائے کسی فکر میں غلطاں تھے۔ رسمی سلام دُعا کے بعد تعارف کامرحلہ آیا، تو درمیانے سائز والی مٹیالے رنگ کی باتونی مادہ مچھر، جسے ساری رات اپنی بِھن بِھن سے خوابِ غفلت میں پڑے انسانوں کو جگانے کی عادت تھی، سب سے پہلے بولی کہ ’’مُجھے تو پہچان ہی گئے ہوگے؟ مَیں کیولیکس ( Culex ) ہوں، جسے لوگ عام طور پر’’گھریلو مچھر‘‘ کہتے ہیں۔
ہم دُنیا کے گرم اور مرطوب علاقوں میں رہنا پسند کرتے ہیں لیکن معتدل گرم خطّوں میں بھی گزارہ کر لیتے ہیں۔ تقریباً پورے موسمِ گرما میں یعنی اپریل سے ستمبر تک ہم انسانی گھروں کےاندریا ان کے قُرب و جوار میں جمع گندے پانی، نالیوں، گٹر یا جوہڑوں میں پروان چڑھتے ہیں اور اونچی اُڑان بَھر کر ’’آدم بُو، آدم بُو‘‘ کرتے ہوئے خُون چُوسنے پانچویں منزل تک پہنچ جاتے ہیں۔‘‘
جتنی دیر’’کیولیکس‘‘اپنی رام کہانی سُناتی رہی،نوجوان یہی سوچتا رہا کہ ’’یہ تو وہ مچھر ہے، جو نہ صرف انسانوں میں فِیل پا اور ویسٹ نائل بخار سمیت دیگر بیماریاں پھیلانے کا سبب بنتا ہے بلکہ کُتوں، بلیوں، گھوڑوں اور پرندوں میں بھی بعض امراض پھیلاتا ہے۔‘‘ کیولیکس سانس لینے کو رُکی ہی تھی کہ باقی مچھروں سے جسامت میں بڑے اور پھرتیلے مگر خاموش طبع مچھر نے، جو اپنے جسم پر موجود سفید اور کالی دھاریوں کی وجہ سے خطرناک نظر آ رہا تھا، بولنا شروع کیا کہ ’’ہم ایڈیز ( Aedes) خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔
لوگ ہمیں ’’ٹائیگر مچھر‘‘ بھی کہتے ہیں۔‘‘ یہ سُن کر نوجوان کو ایک جھرجھری سی آ گئی، کیوں کہ چند سال پہلے اسےڈینگی بُخاراورپچھلے سال اس کے کزن کو چکن گونیا میں مبتلا ہونے کی وجہ سے سخت تکلیف کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ پھر اُس نے کہیں یہ بھی پڑھا تھا کہ ڈینگی مچھر زرد بُخار اور زِیکا وائرس بھی پھیلاتا ہے اور بعض جنگلی جانوروں سمیت دیگر چوپائے بھی اس کے نشانے پر ہوتے ہیں، جب کہ نوجوان کی سوچوں سے بےخبر ڈینگی مچھر نے سلسلۂ کلام جاری رکھا۔ ’’ہمیں راتوں کو جاگنا پسند نہیں۔ ہم طلوعِ آفتاب کے بعد اورغروبِ آفتاب سے چند گھنٹے قبل تک اپنی خوراک کے حصول کے لیے دوڑ دھوپ کرتے ہیں۔
ہمیں اپنی افزائشِ نسل کے لیے بہت زیادہ پانی کی ضرورت نہیں ہوتی، ایک چمچ کے برابر پانی پربھی قانع ہو جاتے ہیں۔علاوہ ازیں، 10سے40 ڈگری سینٹی گریڈ میں بھی زندہ رہتے ہیں او یہ موافق ماحول ہمیں گھروں کےاندر یا پودوں میں باآسانی مل جاتا ہے۔ مون سون یعنی جولائی سے اکتوبر تک خاصے مستعد ہوتے ہیں۔
ہمیں زیادہ اونچائی پرجانے کا شوق نہیں، بس دوسری منزل تک کا سفر کرلیتے ہیں۔‘‘ ’’ٹائیگر مچھر‘‘ خاموش ہوا ہی تھا کہ ہلکی بُھوری رنگت، گہرے رنگ کے دھبّے پر مشتمل پروں اور45 ڈگری کے مخصوص زاویے پر بیٹھنے کے لیے مشہور ’’اینافلیز‘‘(Anopheles)نے بولنا شروع کیا کہ ’’ہم نہروں، تالابوں، کھیتوں یا جوہڑوں میں افزائش پاتے اوراکتوبر اور نومبر میں زیادہ فعال ہوتے ہیں۔‘‘ نوجوان، ملیریا پھیلانےوالے مچھر کےفعال ہونے کی بات سُن کر خون کے گھونٹ پی کر رہ گیا، کیوں کہ انسانی تاریخ میں اب تک ملیریا کی وجہ سے اندازاً 4 سے 5 ارب لوگ ہلاک ہو چُکے ہیں۔
مچھروں کی طویل گفتگو سُننے کے بعد نوجوان نے اُن سے پوچھا کہ ’’کیا یہ بات دُرست ہے کہ صرف مادہ مچھر ہی خون چُوستی ہے، نرمچھر پودوں اور پھولوں کے رس پر گزارہ کرتے ہیں؟‘‘ یہ سُن کروہاں موجود مادہ مچھر کچھ جذباتی ہوگئی۔ شاید اُس نے نوجوان کے اس سوال کو ’’زن بےزاری‘‘ (Misogyny) پر محمول کیا یا فیمینزم پر کوئی اوچھا حملہ سمجھا۔ وہ رندھی ہوئی آواز میں دفاعی اندازاختیار کرتے ہوئے بولی۔’’ہاں ہاں… صرف مادہ مچھر ہی خون چوستی ہے، مگر یہ تو سوچو کہ وہ کیوں کر اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر یہ کشٹ اُٹھاتی ہے؟ درحقیقت وہ یہ خطرہ صرف اپنے بچّوں کی خاطر مول لیتی ہے۔
وہ یہ ساری محنت خون میں موجود اُس پروٹین کوحاصل کرنےکےلیے کرتی ہے، جو اس کے انڈوں کی نشوونما کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ مچھروں کی عُمرزیادہ طویل نہیں ہوتی۔ بےچارے نرمچھر تو عام طور پرصرف ایک سے دو ہفتے ہی زندہ رہ پاتے ہیں، جب کہ مادہ مچھر کو اگر سازگار ماحول ملے، تو وہ چار سے چھے ہفتے تک بھی زندہ رہ سکتی ہے اور وہ اس دوران تین سے پانچ مرتبہ اور ہر بار 100سے 300انڈے دیتی ہے۔‘‘
مادہ مچھر خاموش ہوئی، تو نوجوان نے اگلا سوال داغا کہ ’’مُجھے اس بات پر حیرت ہوتی ہے کہ آپ اندھیرے میں اپنا شکار کیسے ڈھونڈتے ہیں اور کیا یہ سچ ہے کہ آپ میٹھے خون والوں کو زیادہ کاٹتے ہیں؟‘‘ اس سوال پر ملیریا مچھر ہنستے ہوئے بولا۔’’ہم تین مراحل میں اپنے شکار تک رسائی حاصل کرتے ہیں اور ہم تقریباً 10سے 50میٹر کی دُوری سے کسی بھی انسان یا جانور کی سانس یا پسینے کی بُوسےاس کی موجودگی کا اندازہ لگالیتے ہیں۔
ویسے ہم عام طور پر گہرے رنگوں جیسےکہ کالے یا گہرے نیلے اور حرکت کرتی ہوئی چیزوں کی طرف تیزی سے راغب ہوتے ہیں اور آخری مرحلے میں ایک میٹر سے بھی کم فاصلےپر شکار کے جسم کی گرمی اور نمی محسوس کر کے بالکل درست جگہ پر بیٹھتے اور کاٹتے ہیں۔ ہمارے شکار کا خون کے میٹھا ہونے سے کوئی تعلق نہیں بلکہ جن لوگوں کو پسینہ زیادہ آتا ہے یا جن کا جسمانی درجۂ حرارت زیادہ ہوتا ہے، ہم اُن کی طرف زیادہ مائل ہوتے ہیں۔‘‘
’’اچھا بھئی یہ بتاؤ کہ تم صرف قدم بوسی یا دست بوسی کا شرف حاصل کرکے یا جسم کےکُھلے حصّوں پرکاٹ کرواپس کیوں نہیں چلے جاتے،کان کےپاس آکر راگ کیوں الاپتے رہتے ہو؟ نوجوان کے اس سوال پر ایک گھریلو مچھر نے جواب دیا۔ ’’جنابِ والا! ہم تو فقط کاٹنے کے لیے موزوں مقام کی تلاش میں چہرے اور ناک کے گرد منڈلا رہے ہوتے ہیں، پر اِس دوران پَروں کے تیزی سے ہلنےکے سبب جو بھنبھناہٹ پیدا ہوتی ہے،وہ رات کی خاموشی میں آپ کو بہت واضح سُنائی دیتی ہے۔
یاد رہے، بعض مچھر مسلسل چار گھنٹے تک اُڑسکتے ہیں اور رات بَھر میں بارہ کلومیٹر تک کا سفر طے کر لیتے ہیں۔‘‘ گھریلو مچھر جواب دے کر فارغ ہی ہوا ہی تھا کہ نوجوان نے اگلا سوال داغ دیا۔’’مچھر کے کاٹنے سے جسم پر خارش اور سُوجن کیوں ہوتی ہے؟ میرے جسم پر تو مچھر کے کاٹنے کے بعد ایک چھوٹا سا نشان رہ جاتا ہے، جب کہ میرے دوست کے بدن پر ہفتوں سُرخ اُبھار موجود رہتے ہیں۔‘‘
اس بار ڈینگی مچھر بولا۔ ’’بھئی! اس کا سادہ مگر سائنٹیفک جواب یہ ہے کہ جب ہم خون چُوستے ہیں، تو اپنے لعاب (Saliva) کا ایک قطرہ جِلد میں داخل کردیتے ہیں تاکہ خون جمنے نہ پائے۔ انسانی مدافعتی نظام اس لعاب کو بیرونی خطرہ سمجھتے ہوئے فوراً ہسٹامائن (Histamine) نامی کیمیکل خارج کرتا ہے اور اس کے ردِعمل میں جِلد پر خارش، سُرخی اور سوجن ہو جاتی ہے۔‘‘ مچھروں کی دی گئی معلومات نوجوان کے لیے متاثر کُن تھیں مگر اس نے بظاہر لاپروائی سے ہنستے ہوئے پوچھا۔
’’رات کو تو آپ سیکڑوں کی تعداد میں نظر آتے ہیں مگر دن کے وقت کہاں غائب ہو جاتے ہیں؟‘‘ گھریلو مچھر نے جواب دیا کہ ’’ہم مچھروں کو دھوپ اورگرمی سے نفرت ہے، کیوں کہ اس سے ہمارے جسم میں موجود پانی خُشک ہوسکتا ہے۔اس لیے دن کے وقت ہم گھروں کے تاریک، ٹھنڈے اورنمی والےحصّوں مثلاً پردوں کے پیچھے، الماریوں، بستر کے نیچے، باتھ روم یا پودوں میں چُھپ جاتے ہیں اورجیسے ہی شام ہوتی ہے،درجۂ حرارت گرتاہے، تو ہم باہر نکل آتے ہیں۔‘‘
کامرس کی تعلیم حاصل کرنے والے نوجوان نے اپنی تعلیمی مصروفیات کے سبب کبھی ان باتوں پر توجّہ ہی نہیں دی تھی لیکن آج جب موقع ملا، تو لگے ہاتھوں یہ بھی پوچھ لیا کہ ’’آخر آپ بیماریاں پھیلاتے کیسے ہیں؟‘‘ ملیریا مچھر نے سمجھاتے ہوئے رسان سےجواب دیا۔ ’’مچھر بیماریاں اپنی بقا اور افزائشِ نسل (انڈے دینے) کے لیےخون چوستے وقت لاشعوری طور پر پھیلاتے ہیں۔
درحقیقت کوئی بھی مچھرخُود بیماری نہیں پھیلاتا، وہ محض ایک ’’ویکٹر‘‘ (Vector) یعنی بیماری کو ایک سے دوسری جگہ منتقل کرنے کا ذریعہ بنتا ہے۔ جب کوئی مچھرکسی ایسے انسان یا جانور کو کاٹتا ہے،جو پہلے ہی کسی وائرس یا پیراسائٹ جیسا کہ ملیریا یا ڈینگی کا شکار ہو، تو وہ جراثیم خون کے ساتھ مچھر کے پیٹ میں چلے جاتے ہیں۔
مچھر کے جسم میں داخل ہو کر یہ جراثیم مرتے نہیں بلکہ چند دنوں میں اس کے معدے سے ہوتے ہوئے لعاب کےغدود تک پہنچ جاتے ہیں اور پھر جب مچھر کسی صحت مند جان دار کو کاٹتا ہے، تو وہ اپنی سوئی جیسی زبان جِلد میں چبھوتا اور خون چوسنے سے پہلے اپنا لعاب اس کے جسم میں داخل کرتا ہے، تو اِسی تھوک کے ساتھ مچھر کے اندر موجود وائرس یا پیراسائٹس صحت مند انسان یا جانور کے خون میں شامل ہوجاتا ہے اور یوں انفیکشن کی منتقلی سے وہ جان داربیمار ہوجاتا ہے۔‘‘ بیماری پھیلنےکا پورا طریقۂ کار سمجھ جانے کے باوجود نوجوان کی تسلی نہ ہوئی توبولا۔ ’’آپ یہ بھی تو دیکھیں کہ ڈبلیو ایچ او کے مطابق دُنیا بَھر میں مچھروں کے کاٹنے سے ہر سال 70سے 100کروڑافراد بیمار ہوتے اور7لاکھ سے 10لاکھ کےدرمیان اموات واقع ہوتی ہیں۔
صرف ملیریا کے شکار 28کروڑ سے زائد افراد میں سے 6لاکھ موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں، جن میں زیادہ تر 5سال سےکم عُمر بچّے ہوتے ہیں۔ دوسری طرف ہر سال ڈینگی وائرس کروڑوں افراد کو متاثر کرتا ہے، جس سےلگ بھگ 40,000 انسان زندگی کی بازی ہارجاتے ہیں۔ اس کےعلاوہ چکن گونیا، زِیکاوائرس، زرد بخار اور ویسٹ نائل وائرس جیسی بیماریاں بھی ایشیائی اور افریقی ممالک میں لاکھوں افراد کو شدید بیمار کرنے اور ہزاروں اموات کا باعث بنتی ہیں۔
ان ہی ہول ناک اعدادوشمار کی وجہ سے مچھر کو’’دُنیا کا مُہلک ترین جان دار‘‘ مانا جاتا ہے۔‘‘ نوجوان یہ کہہ کرخاموش ہوگیا مگر اُس کےدماغ میں چند دن پہلے دیکھی گئی وہ فیس بُک پوسٹ گھوم رہی تھی، جس میں بی بی سی سائنس فوکس کا حوالہ دے کر دعویٰ کیا گیا تھا کہ اس وقت مچھر کے بعد سب سے زیادہ انسانوں کا قاتل خود انسان ہی ہے۔ جنگ و جدل، قتل وغارت گری اور تشدد کے ذریعے اپنی ہی نسل ختم کرنے والی نوعِ انسانی کا حصہ ہونے نے اس کا سَر شرم سے جُھکا دیا تھا، جب کہ مچھر یہ سمجھ رہے تھے کہ نوجوان مچھروں کے ہاتھوں مارے جانے والے انسانوں کے غم سے دل گرفتہ ہے۔
تمام مچھر اُس نوجوان کی طرف بغور دیکھ رہے تھے۔ دُنیا کے حالات سے بےزار، اپنے دِل کےچور کو چُھپائے اور جھنجھلائے ہوئے نوجوان کے ہاتھ سے شائستگی کا دامن چُھوٹ گیا اور بے اختیار منہ سے نکلا کہ ’’آخر تمہارا فائدہ ہی کیا ہے؟‘‘ ہر چند کہ اس جملے کے فوراً بعد نوجوان کو اپنی کم عقلی پر شرمندگی اور بد تہذیبی پرتاسف ہوا، مگر اب وہ دل ہی دل میں افسوس کے علاوہ کیا کرسکتا تھا کہ تیر کمان سے نکل چُکا تھا۔
تب گھریلو مچھر نہایت تحمّل سے بولا۔ ’’تمہارا سوال جائز ہے۔ مچھر بظاہر ایک تکلیف دہ کیڑا معلوم ہوتا ہے، لیکن ماحولیاتی توازن کی برقراری میں اس کا کردار انتہائی اہم ہے۔ اس کا لارواغذائی زنجیر میں آبی حیات اور بالغ مچھرپرندوں کی خوراک کا بنیادی ذریعہ ہے۔ اس کے علاوہ نر اور مادہ دونوں مچھر بنیادی طور پر پُھولوں اور پودوں کا رس پیتے ہیں، لہذا یہ پودوں کی زیرگی میں بھی مدد کرتے ہیں۔‘‘
یہ سوچ کر بھی نوجوان کا دل دہل گیا کہ اگر کسی مچھر نے پلٹ کر یہ پوچھ لیا کہ اس کرۂ ارض کو انسان سے کیا فائدہ ہے، تو وہ کیا جواب دے گا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اب تک کا انسان زمین اور دوسری انواع کے لیے زیادہ تر نقصان دہ ہی رہا ہے، جیسا کہ ماحولیاتی آلودگی، جنگلات کے خاتمے اور گلوبل وارمنگ وغیرہ۔ کا سبب بن کے۔ نوجوان نے گھبراہٹ میں بات بنانے کی کوشش کی، تو ہکلانے لگا۔ ’’وہ…مَیں…دراصل یہ کہناچاہ رہاتھاکہ صرف الزام لگانے کا کیا فائدہ۔ ہمیں اس مسئلے کا کوئی حل نکالنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
مَیں نے سُنا ہے، صفائی کی ناقص صُورتِ حال، تیزی سے ہونے والی شہرکاری، بین الاقوامی سفر، موسمیاتی تبدیلی اور آبادی میں اضافے جیسے عوامل نے دُنیا بَھر میں مچھروں کے ذریعے پھیلنے والے انفیکشنز کے خطرات کو بڑھا دیا ہے۔ گرچہ اس مسئلے پر قابو پانے کے لیے مذکورہ امراض کے علاج اور مچھر کو جینیاتی طور پر تبدیل کرکے اُس کی افزائشی صلاحیت متاثر کرنے پر بھی کام ہو رہا ہے، لیکن دیر پا نتائج کے لیے سستا اور آسان طریقہ یہی ہے کہ انسانی آبادیوں کے قریب مچھروں کو افزائش کے لیے سازگار ماحول نہ ملے۔
اس سلسلے میں حکومت کے ساتھ عوام کو بھی اجتماعی و انفرادی طور پر پیشگی لائحہ عمل کے لیے متحرک ہونا پڑے گا۔‘‘ نوجوان ایک لمحے کو رُکا اور اُن آگہی اشتہارات کو یاد کرکے باآوازِ بلند دُہرانے کی کوشش کی کہ جن میں مچھروں سے نمٹنے کے طریقے بتائے گئے تھے، جیسا کہ پانی کے برتنوں کو ڈھانپ کر رکھنا، غیر ضروری جمع شدہ پانی خشک کرنا، گڑھوں کو مٹی سے بَھردینا، گلی، محلے میں پانی جمع نہ ہونے دینا، بارش کے پانی کی فوری نکاسی کا موثر انتظام اور اگر کہیں پانی جمع ہے، تو مچھروں کے لاروے کو مارنے کے لیےاس میں مٹی کا تیل، کوکنگ آئل یا مچھر مارنے والی مخصوص گولیاں یا پاؤڈر (Larvicide) ڈالنا وغیرہ شامل تھا۔
مچھروں کو یہ گفتگو بالکل بےمحل محسوس ہوئی، حتیٰ کہ ایک شریر مچھر نے تو محض نوجوان کو چڑانے کے لیے کان کے پیچھے سے پُکارا کہ’’ہم اس سلسلے میں آپ کی کیا مدد کر سکتے ہیں؟‘‘ مگر نوجوان نے اس کی بدتمیزی نظر انداز کرتے ہوئے اپنی گفتگو جاری رکھی اور مچھروں کو مارنے یا بھگانے کے مختلف بازاری کیمیکلز، اسپرے، کوائلز، میٹ اور مچھر بھگاؤ لوشن وغیرہ کو عارضی اور منہگے حل بتا کر بچاؤ اور صفائی کو بہترین طریقہ قرار دیتے ہوئے ہلکے رنگ کے ایسے لباس کے انتخاب کا مشورہ دیا کہ جوجسم کو زیادہ سے زیادہ ڈھانپ لے۔
ان احتیاطی تدابیر سے بدمزہ ہو کر پہلو بدلتے مچھروں کو نظرانداز کرتے ہوئے اُس نے دفعتاً یاد آئے آخری نکات بیان کرنا بھی اپنی ذمّےداری سمجھی کہ ’’کھڑکیوں اور دروازوں پر باریک جالی، مچھر دانی، مچھر مار ریکٹ (Zapper Bug) کا استعمال، طلوع اور غروب آفتاب کے قریب غیرضروری طور پر باہر رہنے سے گریز کے ساتھ گھر سے مچھروں کو دُور رکھنے کے لیے تیز خوش بو والے پودے جیسے تُلسی، لیمن گراس، پودینا، لیونڈر، اور گیندا رکھنا بہترین حل ہے۔‘‘
مفادِ عامّہ میں اپنے علم کےموتی رولتے اور جوشِ خطابت دِکھاتے نوجوان کووقت گزرنے اور سورج ڈوبنے کا احساس ہی نہ ہو سکا۔ ہوش اُس وقت آیا،جب اس نے اپنے چاروں اطراف پھیلی تاریکی میں خُود کو مچھروں کے عوامی اجلاس کے بُھوکے شرکاء کی للچائی نگاہوں کا واحد مرکز پایا۔