مَیں نے غروبِ آفتاب کے فوراً بعد مغرب کی سمت ایک چمکتے ستارے کی پُراسرار خُوب صُورتی کو دیکھا۔ اس منظر میں ایک عجیب سی اداسی تھی ،جس نے میرے خیالات کو معمول کی حدود سے آگے دھکیل دیا۔ یوں محسوس ہوا، جیسے سوچ ایک ایسے مقام تک جا پہنچی ہو، جسے لامحدودیت کہا جاتا ہے۔ اُسی لمحے میرے ذہن میں ایک سوال ابھرا۔ ’’اگر یہ کائنات لامحدود ہے، تو پھر انسان ایک طے شدہ تقدیر کے حصار میں کیوں قید ہے؟‘‘ جو چیز مقرر اور محدود ہو، وہ ایک دن ختم ہو جاتی ہے۔
مگر مجھے محسوس ہوتا ہے کہ زندگی ختم نہیں ہوتی، بلکہ اپنی صُورتیں بدلتی رہتی ہے۔ کائنات کی تبدیلیاں اور ارتقاء گویا کسی نہ کسی انداز میں تسلسل اور بقا کا پیغام دیتے ہیں۔ خدا لامحدود ہے اور ہم اُس کی تخلیق ہیں۔ تب میرے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ لامحدود ہستی کی تخلیق مکمل طور پر محدود کیسے ہو سکتی ہے؟
ایک عظیم اور وسیع شعور کا خیال اتنا تنگ اور مقیّد کیوں ہو؟اس کے باوجود انسان تقدیر کے پردوں میں چُھپا ہوا محسوس ہوتا ہے، البتہ ایک خیال مجھے سُکون دیتا ہے کہ رُوح کا سفر شاید کبھی ختم نہیں ہوتا۔ اگر روح حقیقتاً لامحدود ہے تو پھراس کا ایک محدود جسم میں قید ہونا، خوُد ایک عجیب معمّا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ انسان کبھی کبھی اداسی اور تنہائی محسوس کرتا ہے۔
رُوح لامحدودیت کی طرف کھنچتی ہے، جب کہ جسم اپنی کم زوریوں، وسوسوں اور مجبوریوں میں الجھا رہتا ہے۔ خوفِ محرومی، دولت کے کھوجانے، عزت کے ختم ہونے کا خوف، تعلقات کے بکھرنے کا خوف… یہ سب جسمانی وجود سے وابستہ ہیں۔ جسم اور رُوح کے درمیان یہی کشمکش انسان کو بےچین رکھتی ہے۔ شاید انسان محدود اور لامحدود کے حسین امتزاج کا نام ہے۔
اگر وہ اِن دونوں کے درمیان توازن قائم کرلے، تو کسی بلند تر حقیقت تک پہنچ سکتا ہے، مگر اکثر ایسا نہیں ہو پاتا۔ فطرت کے لامتناہی رازوں کی کتاب میں انسان صرف چند صفحات ہی پڑھ پاتا ہے۔ ’’فطرت کی لامحدود کتابِ اسرار سے، مَیں بہت تھوڑا سا ہی پڑھ سکا ہوں۔‘‘ (مشعل فاطمہ، کنڈیوالہ)