• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

یوں تو ہمارے معاشرے میں بے شمار منفی رویّے پائے جاتے ہیں، لیکن خاندانی نظام، رشتے ناتوں اور باہمی اعتماد کو سب سے زیادہ نقصان طنزوتشنیع، غیبت، تکبّر اور حسد جیسی عادات نے پہنچایا ہے۔ اس سے بھی زیادہ افسوس ناک اَمر یہ ہے کہ ان بُرائیوں میں مبتلا اکثر لوگ خُود کوغلط بھی نہیں سمجھتے۔ عام طور پر طنز کو حاضر جوابی، غیبت کوحقیقت بیانی، تکبّرکو عادت اورحسد کو بےلاگ تنقید کا نام دے کر اپنے ضمیر کو مطمئن کر لیا جاتا ہے۔ یوں گناہ دلیل کا لبادہ اوڑھ لیتا ہے اور یہی مرحلہ اصلاح کی راہ میں سب سے بڑی رُکاوٹ بن جاتا ہے۔

طنز و تشنیع بظاہر چند جملوں، الفاظ یا محض ایک معنی خیز مسکراہٹ میں چُھپا ایک ایسا رویّہ ہے، جسے بہت سےلوگ حاضر جوابی، بذلہ سنجی اور ذہانت کا اظہار سمجھتے ہیں، حالاں کہ حقیقتاً یہ دوسروں کی عزتِ نفس پرکاری ضرب ہوتا ہے۔ اسلام نے اس رویّے کی سختی سے ممانعت کی ہے اور اس حوالے سے قرآنِ کریم کا واضح حُکم ہے کہ ’’اے ایمان والو! کوئی قوم کسی دوسری قوم کا مذاق نہ اُڑائے، ممکن ہے وہ اُس سے بہتر ہو۔‘‘ یہ آیت محض نصیحت نہیں بلکہ انسانی معاشرے کے لیے ایک بنیادی ضابطۂ حیات ہے۔

یعنی اللہ تعالیٰ نے انسان کی عزّت کو انتہائی اہم قرار دیا ہے۔ افسوس ناک بات یہ ہے کہ ہم اپنے طنزیہ رویّےکاجوازبھی خُود ہی تراش لیتے ہیں۔ کبھی کہتے ہیں، ’’مَیں تو صرف مذاق کر رہا تھا‘‘ اور کبھی یہ کہہ کر جان چُھڑوا لیتے ہیں کہ ’’سچ ہمیشہ کڑوا ہوتا ہے‘‘ اور کبھی مخاطب ہی کو حسّاس قرار دے دیتے ہیں، لیکن اگر یہی جُملے کوئی ہمارے بارے میں کہے، تو ہمیں فوراً ان کی تلخی محسوس ہونے لگتی ہے۔

طنز و تشنیع کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ یہ محبّت کی جگہ نفرت، احترام کی جگہ تحقیر اوراعتماد کی جگہ بدگُمانی پیدا کر دیتا ہے۔ اگر ہم اپنے گھروں، تعلیمی اداروں، دفاتر اور سماجی حلقوں سے طنزوتشنیع کو نکال دیں، تو بہت سی تلخیاں خودبخود ختم ہوجائیں گی۔ زبان اگر دِل توڑنے کی طاقت رکھتی ہے، تو دِل جوڑنے کی صلاحیت بھی اِسی میں ہے۔ ایک حوصلہ افزا جملہ کسی مایوس انسان کی زندگی بدل سکتا ہے، جب کہ ایک طنزیہ فقرہ اُس کا اعتماد ہمیشہ کے لیے مجروح بھی کر سکتا ہے۔

اِسی طرح غیبت ایک ایسی اخلاقی بیماری ہے، جو خاموشی سے دِلوں میں نفرت، بداعتمادی اوردُوریوں کےبیج بودیتی ہے۔ بیان کردہ برائیوں میں سےغیبت واحد بُرائی ہے کہ جو محض حصولِ لذّت کے لیے کی جاتی ہے اور بعض افراد اس لذّت کے اس قدر عادی ہوجاتے ہیں کہ اس کےحصول کے لیے ہمیشہ کسی ہم راز کی تلاش میں رہتے ہیں تاکہ کسی تیسرے شخص کی غیبت کی جاسکے اور اگر فوری طور پر ایسا شخص میسّرنہ ہو، تو اضطراری کیفیت میں ٹیلی فون کا سہارا لیا جاتا ہے تاکہ نشہ ٹوٹنے نہ پائے۔

یہاں یہ بات قابلِ ذکرہے کہ بعض عاقبت نااندیش والدین اپنے بچّوں کو بھی اس عمل میں شریک کر لیتے ہیں اور یہ بچّے جب بڑے ہوتے ہیں، توغیبت کو ایک معمول سمجھنے لگتے ہیں۔ اس طرح ایک اخلاقی بیماری ایک نسل سے دوسری نسل میں منتقل ہوتی رہتی ہے اور پورا معاشرہ اس کی قیمت ادا کرتا ہے۔

بہت سے لوگ کسی شخص کی غیرموجودگی میں اس کے عیوب بیان کرنا اپنا حق سمجھتے ہیں بلکہ بعض اوقات اسے ’’صاف گوئی‘‘، ’’حقیقت بیانی‘‘ یا ’’تجزیے‘‘ کا نام دے کر اپنے ضمیر کو بھی مطمئن کرلیتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے غیبت کی نہایت جامع تعریف کرتے ہوئے فرمایا۔’’تم اپنے بھائی کا اس کی غیرموجودگی میں ایسا ذکر کرو، جو اُسے ناگوار گزرے، یہی غیبت ہے۔‘‘صحابۂ کرامؓ نے عرض کیا۔’’اگر وہ بات واقعی اُس میں موجود ہو تو؟‘‘ آپ ﷺ نے فرمایا۔ ’’اگر وہ بات اُس میں موجود ہے، تو تم نے اس کی غیبت کی اور اگر موجود نہیں، تو تم نے اُس پر بہتان باندھا۔‘‘

قرآنِ مجید نےغیبت کی قباحت کو نہایت مؤثر انداز میں بیان فرمایا ہے کہ ’’اور تم میں سے کوئی کسی کی غیبت نہ کرے۔ کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرے گا کہ اپنے مُردہ بھائی کا گوشت کھائے؟ یقیناً تم اسے ناپسند کرو گے۔‘‘یعنی قرآن نے غیبت کو صرف گناہ نہیں کہا بلکہ اُسے ایک ایسا مکروہ عمل قرار دیا، جس سے انسانی فطرت بھی نفرت کرتی ہے۔ آج سوشل میڈیا نے اس برُائی کو مزید خطرناک بنا دیا ہے۔ پہلے غیبت چند افراد تک محدود رہتی تھی، اب ایک تبصرہ، ایک پوسٹ، ایک آڈیو کلپ یا ایک فارورڈڈ پیغام لمحوں میں ہزاروں بلکہ لاکھوں لوگوں تک پہنچ جاتا ہے۔

ایک غیرذمّےدارانہ جملہ کسی انسان کی عزّت، ساکھ اور ذہنی سکون کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے، جب کہ بعد میں معذرت بھی اس نقصان کا ازالہ نہیں کرسکتی۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے گھروں میں محبّت،معاشرے میں اعتماد اور دِلوں میں سکون رہے تو ہمیں اپنی زبان کی حفاظت کرنی ہوگی۔ درحقیقت، غیبت سے اجتناب صرف ایک دینی حُکم ہی نہیں، ایک مہذّب، باوقار اور صحت مند معاشرے کی بنیادی ضرورت بھی ہے۔ جو لوگ دوسروں کے عیوب پر پردہ ڈالتے ہیں، وہ دراصل اپنے معاشرے میں اعتماد، محبت اور خیر خواہی کی بنیاد مضبوط کرتے ہیں۔

اس سلسلے کی تیسری اور نہایت اہم اخلاقی بُرائی تکبّر ہے۔ یہ اس لحاظ سے انتہائی خطرناک ہے کہ تکبّر کرنے والا درحقیقت اُس صفت کا دعوےدار بنتا ہے، جو صرف اللہ تعالیٰ کے شایانِ شان ہے۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ اپنے ساتھ شرک کو معاف نہیں کرتا، البتہ اس کے علاوہ جسے چاہے معاف فرما دیتا ہے۔ اس لحاظ سے تکبّر، شرک ہی کی ایک شکل بنتی ہے اور یہ انسان کو حق سےانکار، دوسروں کی تحقیر اور بالآخر بڑے گناہوں تک پہنچا دیتا ہے۔ اسی لیے اسلام نے اس کی نہایت سخت مذمّت کی ہے۔

رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا۔ ’’جس شخص کے دِل میں رائی کے دانے برابر بھی تکبّر ہوگا، وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا۔‘‘ صحابۂ کرامؓ نے عرض کیا۔’’انسان یہ پسند کرتا ہے کہ اس کا لباس اور جوتے اچھے ہوں۔‘‘ آپ ﷺ نےفرمایا۔ ’’اللہ تعالیٰ جمیل ہے اور جمال پسند کرتا ہے۔ تکبّر حق کو ٹھکرا دینے اور لوگوں کو حقیر سمجھنے کا نام ہے۔‘‘ افسوس کی بات یہ ہے کہ اتنی سخت تنبیہات کے باوجود تکبّر ہمارے معاشرے میں عام ہوتا جا رہا ہے۔ کسی کو اپنی تعلیم پر ناز ہے، کسی کوخاندان پر، کسی کو اپنے پیشے پر، کسی کو زبان، نسل یا دولت پر، حالاں کہ حقیقت یہ ہے کہ انسان کے پاس جو کچھ بھی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی عطا ہے اور عطا پر غرورعقل مندی نہیں، ناشُکری کی علامت ہے۔

اگر طنزوتشنیع زبان کی بیماری، غیبت مجلس کی آفت اور تکبّر شخصیت کا زہر ہے، توحسد دِل کی وہ بیماری ہے، جو خاموشی سے انسان کا سکون، کردار اور ایمان کھوکھلا کرتی رہتی ہے۔ یہ ایک ایسا منفی جذبہ ہے،جس کے اثرات انسان کی گفتگو، رویّے، فیصلوں اور تعلقات میں نمایاں ہوتے ہیں۔ حسد یہ ہے کہ انسان یہ چاہے کہ دوسرے کے پاس موجود نعمت اُس سے چِھن جائے، خواہ وہ نعمت خُود اُسے ملے یا نہ ملے۔ یہی وہ جذبہ ہے، جو انسان کو شُکر سے محروم اور بےاطمینانی کا شکار کرتا ہے۔

اس کے برعکس اگر کوئی شخص کسی کو کام یاب دیکھ کر خُود بھی محنت کرنےکا عزم کرے، تویہ حسد نہیں، مثبت مسابقت ہے اور اسلام اسی جذبۂ خیر کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ ’’حسد، نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے، جیسے آگ لکڑی کو کھا جاتی ہے۔‘‘ مذکورہ حدیث ایک گہری نفسیاتی حقیقت بھی ہے۔ حسد کرنے والا سب سے پہلے اپنی ہی خوشی چھین لیتا ہے، کیوں کہ اس کی مسرّت اپنی کام یابی سے نہیں بلکہ دوسروں کی ناکامی سے وابستہ ہوجاتی ہے اور ایسی خوشی کبھی پائےدار نہیں ہوتی۔

پھر حسد کئی اخلاقی برائیوں کی جڑ بھی ہےاوراس کا علاج صرف نصیحت سے نہیں،اپنے باطن کی اصلاح سے ممکن ہے۔ جب انسان یہ یقین کرلیتا ہے کہ رزق، عزّت، صحت، صلاحیت اور کام یابی سب اللہ تعالیٰ کی عطا ہیں اور ہر شخص کا حصّہ اُسی نے مقرّر کیا ہے، تو دوسروں کی کام یابی اُسے بے چین کرنے کےبجائے خوشی دینے لگتی ہے۔ سو، وہ حسدکی بجائے دُعا کرتا ہے، رقابت کی بجائےجذبۂ خیر خواہی اختیارکرتا ہے اور شکایت کے بجائے شُکر کو اپنا شعار بنا لیتا ہے۔ اگر ہم اپنے معاشرے کو نفرت، بداعتمادی اور انتشار سے محفوظ رکھنا چاہتے ہیں، تو ہمیں اپنے دِلوں کو حسد سے پاک کرنا ہوگا۔

طنزوتشنیع،غیبت، تکبّر اور حسد بظاہر چار الگ الگ اخلاقی برائیاں ہیں، لیکن درحقیقت ایک ہی زنجیر کی مختلف کڑیاں ہیں۔ ان کی ابتدا دل سے، اظہار زبان سے اور انجام رشتوں کی تباہی پر ہوتا ہے۔ حسد دل میں جنم لے کے بدگمانی کو جنم دیتا ہے، بدگمانی غیبت میں ڈھلتی ہے، غیبت طنزوتشنیع، بہتان، کردار کُشی کی شکل اختیار کرتی ہے اور یوں ایک برائی دوسری برائی کو جنم دیتی چلی جاتی ہے۔ بالآخر انسان اس مقام پر پہنچ جاتا ہے، جہاں اسے اپنی اخلاقی گراوٹ کا احساس بھی نہیں رہتا۔

ہمیں یہ حقیقت بھی پیشِ نظر رکھنی چاہیے کہ قانون انسان کے ہاتھ توروک سکتا ہے، مگر زبان اور دل کی اصلاح صرف اخلاق، تربیت اور خوفِ خدا ہی سے ممکن ہے اور ہر اصلاح کا آغاز اپنی ذات سے ہوتا ہے۔ ہم ساری زندگی دوسروں کو بدلنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں، حالاں کہ اگر ہر شخص اپنی زبان، اپنے دِل اور اپنے رویے کی اصلاح کرلے تو پورے معاشرے کا مزاج بدل سکتا ہے۔ یہی اعلیٰ ظرفی، شرافت اور حقیقی اخلاق ہیں۔

ہمیں یہ حقیقت کبھی فراموش نہیں کرنی چاہیےکہ انسان کی اصل پہچان اس کا مال، منصب یا شہرت نہیں، اُس کا کردار ہے۔ دولت، اختیار اور شہرت وقت کے ساتھ ختم ہوجاتے ہیں، مگر اچھا کردار نسلوں تک یاد رکھا جاتا ہے، تو آئیے، ہم سب اپنے اپنے گریبانوں میں جھانکیں اور یہ عہد کریں کہ ہم اپنی زبان کو طنز وتشنیع، مجلسوں کو غیبت، شخصیت کو تکبّر اور دِلوں کو حسد سے پاک رکھنے کی بھرپور کوشش کریں گے۔

سنڈے میگزین سے مزید